سمے وار (تحریر: انیس شیخ)
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر سندھ پبلک سروس کمیشن کے موجودہ چیئرمین محمد وسیم صاحب کے خلاف ویڈیوز پوسٹ دیکھنے کو اور پھر پڑھنے کو ملی جس میں یہ بیان کیا گیا کہ موجودہ چیئرمین صاحب نے بہت زیادہ کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا ہے اور ان کے خلاف ثبوت بھی موجود ہیں .
ویڈیو دیکھ کر اور پوسٹ پڑھنے کے بعد میں سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ سندھ میں کرپشن اور پر کوئی احتجاج کر رہا ہے اور وہ بھی سندھ پبلک سروس کمیشن کر رکن یا چیئرمین کے خلاف ؟
سندھ میں تو ہر ادارے میں کرپشن کا بازار گرم ہے ، جعلی ڈومیسائل، شہری سندھ کے عوام کا حق مارنا اور حق داروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنا ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، مختلف ترقیاتی ادارے ، اور اداروں پر قبضے یہ تو ایک معمول کی بات ہے تو پھر یہ محمد وسیم صاحب کے خلاف اتنی بڑی مہم کیوں ؟
پھر محمد وسیم صاحب کے نام کے آگے کوئی ذات یا قبیلہ کی شناخت ڈھونڈنے کی کوشش کی تو مجھے کچھ نہیں ملا، پھر میرا ماتھا ٹھنکا کہ دو صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ پنجابی ہیں یا مہاجر تیسری کوئی صورت نہیں ہو سکتی .
جب مزید معلومات اکھٹی کی تو معلوم ہوا کہ محمد وسیم تو مہاجر ہیں اردو سپیکنگ ہیں ، حیدرآباد سے تعلق رہا ہے ، 22 گریڈ کے ریٹائرڈ افسر ہیں اس لیے وہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین لگ گئے.
اب سب سے ایک بات واضح ہو جائے کہ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ محمد وسیم صاحب کے اوپر کرپشن کے الزامات ہیں ، مجھے اس سے کوئی سروکار کیوں نہیں ؟
کیوں کہ سندھ کے تمام اداروں میں کرپشن ایک معمول کی بات ، اور کرپشن بھی اتنی کہ جو سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہے ، کئی وزیروں کے بد عنوانی کے کیس نیشنل میڈیا اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں مگر مجال ہے جو کچھ ٹس سے مس ہو.
اب وسیم صاحب کے ساتھ اصل معاملہ تو مہاجر ہونا ہے ، کرپشن تو جیسا کہ میں نے عرض کی کہ وہ بحث سے باہر ہے .
اب اگر وسیم احمد نے کرپشن کی تو کب کی ؟ کیوں کہ موصوف تو جولائی 2022 کو سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین مقرر ہوئے یعنی اب لگ بھگ چار سال پہلے ، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کرپشن کی بات کی جا رہی ہے تو کیا جب سے یہ چیئرمین ہیں تب سے کرپشن ہو رہی ہے اور اگر ہو رہی ہے تو اس وقت اس پر احتجاج یا سوشل میڈیا پر مہم کیوں نہیں ؟
میری تحریر کا زور یہ نہیں ہے کہ وسیم احمد صاحب نے مبینہ طور پر کرپشن کی یا نہیں، بلکہ میری تحریر کا ماخذ یہ ہے کہ پچھلے 50 برسوں میں جو سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین یا ممبران مقرر رہے ہیں وہ کیا تھے ؟
شہری سندھ کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سی ایس ایس اور پھر سندھ پبلک سروس کمیشن سے مایوس ہیں ، جب کوئی طبقہ مسلسل دھتکارا جا رہا ہو تو اس میں مایوسی کا عنصر آجاتا ہے ، شہری سندھ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ شہری سندھ کے نوجوان سی ایس ایس پاس ہی نہیں کر پاتے ہوں؟
کیا وہ لوگ جو ان امور سے واقفیت رکھتے ہیں انہیں حقائق کا علم نہیں ہے ؟ بلکل ہے ، میری بیٹی جسے سی ایس ایس کرنے شوق تھا ، قابل لڑکیوں کے ایک پورے گروپ نے سی ایس ایس کی تیاریاں کی تھیں ، مگر مجھے معلوم تھا کہ وہ پاس نہیں ہو پائیں گے ، فیل ہو گئیں .
جو فیل ہوئیں وہ آج کراچی میں کسی نجی کمپنی میں اعلی عہدے پر ہیں ، اور باقی انگلینڈ اور امریکا میں اچھے مقام پر ہیں .
اب یہ مہم کیوں چلائی گئی بات صرف اتنی ہے کہ ایک وزیر موصوف کے بیٹے کو پاس نہیں کیا گیا اور اس کے علاوہ دیگر شخصیات کے بھانجے بھتیجوں اور منظور نظر کو پاس نہیں کیا گیا تو اب یہ مہم جاری ہو گئی.
دوسری اہم وجہ موصوف کا مہاجر ہونا ہے ، اب بہت ہوگیا کچھ لوگ انہیں ہٹانے چاہتے ہیں ، تو سوال ہے کہ اگلا چیرمین کیا تبلیغی جماعت سے ہو گا؟
ایک بار پھر واضح کر دوں کہ میرا چیرمین موصوف سے کوئی تعلق نہیں ،میں نے نام بھی گزشتہ دو دنوں میں سنا ہے ، میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ جب سندھ کے ایک ایک ادارے میں کرپشن ہے تو سب پر آوازیں کیوں نہیں؟
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ سندھی سپیکنگ ہوتے تو کیا اس طرح ان کے خلاف مہم چلتی ؟
اور کیا اس سے پہلے جو سندھی اسپیکنگ چیئرمین رہے ہیں کبھی ان کے خلاف کوئی مہم چلی ؟
اور جو سندھ پبلک سروس کمیشن کے بارے میں ابھی کہا جا رہا کیا وہ پہلے نہیں ہوتا رہا ہے ؟
میں پھر واضح دوں کہ مجھے چیرمین موصوف کے ایماندار ہونے یا نہ ہونے سے کوئی سروکار نہیں ، صرف اتنا سروکار ہے کہ اس سے پہلے اس عہدے پر اس طرح کی مہم کیوں نہیں چلی؟
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف احتجاج لسانی بنیادوں پر؟
