سمے وار (تحریر: انیس شیخ)1981میں اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے پرتشدد طور پر جامعہ کراچی سے نکالے جانے کے وقت “اے پی ایم ایس او” کے ارکان کی تعداد 45 تک تھی۔ اس کے بعد جب علاقوں میں کام شروع کیا تو تب بھی 1983 تک “اے پی ایم ایس او” کے کارکنان 300 […]
سمے وار (تحریر: انیس شیخ)1981میں اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے پرتشدد طور پر جامعہ کراچی سے نکالے جانے کے وقت “اے پی ایم ایس او” کے ارکان کی تعداد 45 تک تھی۔ اس کے بعد جب علاقوں میں کام شروع کیا تو تب بھی 1983 تک “اے پی ایم ایس او” کے کارکنان 300 […]
سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)دنیا میں جن جگہوں سے ’آزمائش‘ یا ’پریشانی‘ کے احساس وابستہ ہیں، ان میں اسپتال سرفہرست ہیں۔ زندگی کے نشیب وفراز انسان کو کبھی نہ کبھی اسپتالوں کی راہ داریوں میں لے ہی جاتے ہیں، کبھی کم، تو کبھی زیادہ۔ کبھی تیماردار کے طور پر، تو کبھی خود مریض کی […]
سمے وار (تحریر: عائشہ تنویر)طلبہ نقل کے لیے پھّرے ( cheating material) پین کے ری فلز نکال کر وہاں چھپاتے ہیں۔ کرنسی نوٹ پر لکھ لاتے ہیں۔ بالوں میں پِن کے ذریعے طالبات لگاتی ہیں یا دوپٹوں کی پائپنگ میں ۔ ایڈمٹ کارڈ کی پلاسٹک کوٹنے میں چھپاتے ہیں۔ ٹشو پیپر پر لکھ لاتے ہیں۔ […]
سمے وار (تحریر: مہناز اختر)سید غلام مصطفی شاہ سن 1918 ڈسٹرکٹ ٹھٹہ (موجودہ سجاول) کے گاؤں قادر ڈنو شاہ میں پیدا ہوئے۔ آپ ماہر تعلیم، ماہر سماجیات اور سیاستدان تھے۔ آپ کا تعلق زمیندار گھرانے سے تھا۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم سندۃ مدرسۃ اسلام کراچی سے حاصل کی۔ بعدازاں اعلی تعلیم ڈی جے سندھ […]
سمے وار (تحریر: نوید صدیقی ہادی)ایک مہاجر کے سوالات اور ان کا جواب ہے۔ اگر کچھ واقعات کی ترتیب میں غلطی ہوگئی ہو، یعنی آگے پیچھے ہوگئے ہوں تو پیشگی معزرت قبول فرمائیں۔ آپ کا پہلا سوال جائز دوسرا ناجائز لیکن سوال تو سوال ہوتا ہے۔ اور جواب کا حق دار بھی ہوتا ہے۔ چلیں […]
سمے وار (تحریر: محمد ہاشم خان)سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ امریکا اسرائیل اور ایران جنگ کا سب سے زیادہ نقصان کسے پہنچا؟ ایران، اسرائیل، امریکا یا پھر عرب ممالک کو؟ یہ ایک انتہائی تلخ لیکن حقیقت پسندانہ اسٹریٹجک پہلو ہے جس پر مشرقِ وسطیٰ میں گفتگو شروع ہو چکی ہے۔ بیش تر ماہرین […]
(تحریر: فاطمہ مقنی قادری)ہر شخص ایران کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔ خامنہ ای کا ذکر ہو رہا ہے۔اسرائیل کی بات ہو رہی ہے لیکن میں کچھ اور دیکھ رہی ہوں۔حقیقی جنگ کہیں اور جاری ہے۔ میں آپ کے سامنے دو واقعات پیش کروں گی۔ بظاہر ان کے درمیان کوئی تعلق نہیں، لیکن ان […]
سمے وار (تحریر: علی کے چشتی)اگر خطے کی موجودہ صورت حال بگڑتی ہے یا طویل ہوتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں مقیم پاکستانیوں کو عام مالی سوچ سے نکل کر ایک “اکنامک سروائیول” اپروچ اختیار کرنا ہوگی۔ یہ گھبرانے کا نہیں، تیاری کا وقت ہے۔سب سے پہلے، لیکویڈیٹی سب سے اہم ہے۔ کم از کم […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)ہم سب نے دریا زمین کے اوپر بہتے ہوئے دیکھے ہیں، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کچھ دریا سمندر کے نیچے بھی بہتے ہیں۔ اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا کا چھٹا بڑا دریا بھی دراصل سمندر کی تہہ میں بہ رہا ہے۔یہ زیرِ آب دریا […]
سمے وار (تحریر: ثنااللہ خان احسن)بڑے میاں نے زندگی بھر حق حلال کمایا۔ بچوں کو اعلی تعلیم دلائ۔ مرنے سے پہلے بڑے صاحب بیٹوں کو وصیت کرگئے کہ ان کی قبر پکی نہ کی جائے کچی رکھی جائے۔ ان کے تین بیٹے شادی شدہ ،ایک امریکا ایک کینیڈا ایک انگلینڈ، میں بیوی بچوں کے ساتھ […]
سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری جتنے متنازع رہے، اتنے ہی منفرد گورنر بھی ثابت ہوئے۔ یقیناً وہ ایک ایسی شخصیت تھے، جو الطاف حسین کو الگ کرنے والی “بہادرآباد ایم کیو ایم” میں شامل ہوئے تو اپنے ساتھ کچھ “مسائل” بھی لے کر آئے۔ انھیں ابتدائی طور پر ایک ناکام […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)کراچی میں گذشتہ چند برسوں میں سڑک کنارے مفت دسترخوانوں کے ساتھ ساتھ رمضان کے “افطار دسترخوانوں” میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے۔ سڑک کے کنارے تجاوزات قائم کرکے فٹ پاتھوں کو گھیر کر یہ این جی اوز یا فلاحی ادارے نہ صرف شہر کے لیے بدنما داغ کی طرح ہیں، […]
سمے وار (تحریر: سرور غزالی)سن 1970 میں رمضان المبارک کا پہلا روزہ یکم نومبر کو تھا۔ اسی سال کچھ عرصے قبل ہی ہم لوگ راج شاہی (مشرقی پاکستان) میں تقریباً 10 سال گزارنے کے بعد پاکسی آگئے تھے بنگال کے گاوں اور شہروں جیسے پاکسی، سولہ شہر، چٹاگانگ، راج شاہی اور ایک بار پھر پاکسی […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)علامہ نیاز فتح پوری ندوی سن 1884ء میں اترپردیش (یوپی) کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ھوئے۔ مدرسہ اسلامیہ فتح پور ‘ مدرسہ عالیہ رام پور اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے تعلیم حاصل کی۔نیاز فتح پوری نے 1922ء میں اردو کا معروف ادبی و فکری رسالہ “نگار” جاری کیا۔ نیاز […]
سمے وار (تحریر: اختر روہیلہ)ڈیجیٹل دہشت گردی اور لسانی انجینئرنگ: “ڈان” اور “دی نیوز” کے انکشافات کے مطابق، اندازہ ہے کہ 30 لاکھ سے زائد افراد نے اپنی مستقل رہائش کو کراچی میں اپڈیٹ کروایا، جن کا اصل تعلق اندرون سندھ سے تھا۔کراچی، جو ماضی میں ایک بندرگاہی شہر کی حیثیت رکھتا تھا، آج لسانی […]