سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
اختلاف ہو سکتا ہے، اختلاف رائے ہوسکتا ہے، لیکن دُہرے معیار پر تو اچھی طرح گرفت ہونی چاہیے۔ سوال تو ہے کہ گذشتہ دنوں کراچی پریس کلب سے شیما کرمانی نام کی ڈانسر کو حراست میں لینے کی دھینگا مشتی میں خواتین پولیس اہل کار نے ذرا سی کلائی کیا پکڑ لیتی ہےِِِِ، خاتون جھٹ سے ’عورت‘ بن کر رونے گانے پر اتر آتی ہیں۔ یہاں یہ بحث نہیں کہ پولیس نے کیوں اور کس کے کہنے پر انھیں پکڑا۔ بات یہ ہے کہ آپ نے نہ صرف عورت ہونے کا اظہار فرمایا، حالاں کہ آپ مرد اور عورت کی ”مساوات“ کی قائل ہیں اسی پر بس نہیں اس کے ساتھ شیما کرمانی نے غلط بیانیوں کے بھی ڈھیر لگا دیے، وہ تو شکر ہے کہ ویڈیو موجود ہے جس میں ’محترمہ‘ خواتین پولیس اہلکاروں پر مکے بازے کی مشق فرما رہی ہیں، جب کہ الٹا وہ خود پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے ذرا سا بھی نہ شرمائیں۔
اب آجاتے ہیں ان نام نہاد ”عورت مارچ“ والوں کے مقاصد کی طرف۔
کیا یہ عیاں نہیں ہے کہ ان غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے ہماری اقدار کے خلاف اور سماج کے مخصوص موضوعات ہی تک محدود رہنے کے پیچھے کیا معاملہ کار فرما ہے؟
پھر اس بار یوم خواتین پر نو مارچ کے ”عورت مارچ“ سے دل نہ بھرا تھا کہ ’یوم ماں‘ جیسے پروقار موقع کع بھی اپنی مغرب زدہ سوچ سے آلودہ کرنے آن پہنچیں۔ میںپوچھنا چاہتی ہوں پورے میڈیا پر لبرل ازم پر انھی کی سوچ کا انتہا پسندانہ راج ہے، کوئی ان سے پوچھتا کیوں نہیں کہ تم نے عورتوں کی آزادی کی بات تو بہت کی ہے، کبھی ان سیٹھوں سے پوچھا ہے کہ وہ کیوں عورتوں کو کم تنخواہ دیتے ہیں اور ایک گھر کے کفیل مرد کی جگہ ایک عورت کو کم پیسوں میں ملازمت ملنے سے اس مرد کے خاندان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ وہ خاندان جس میں عورتیں اور بچے بھی ہوتے ہیں!
کیوں بات نہیںکی جاتی کہ ایک مرد اپنی تنخواہ اور آمدنی کو اپنے گھر کے خرچوں پر جھونک دیتا ہے، وہ کیوں ’میری مرضی‘ جیسے بے ہودہ نعرے نہیں لگاتا؟
دوسری طرف (معذرت کے ساتھ) کمانے والی خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی آمدنی کو اپنی شاپنگ، اپنے میک اپ، کھانے پینے اور گھومنے پھرنے جیسی تعیشات کی نذر کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ بھی تو ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے، لیکن ”عورت مارچ“ اور ”ویمن رائٹس“ کی مہان خواتین کبھی اس پر بات نہیں کرتیں، کیوں کہ شاید ان کے مفادات ان سیٹھوں کو عورتوں کی شکل میں سستی لیبر فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ پھر دھڑلے سے یہ بات کی جاتی ہے کہ ایک عورت کو ملازمت دینے سے پورے دفتر کا ماحول ’کول‘ ہوجاتا ہے۔ کیا یہ بے ہودگی خواتین کی ہتک یا اسے شوپیس بنانے کی سوچ نہیں ہے؟ یہ خواتین کا استحصال نہیں ہے؟ اس پر کبھی بات کیوں نہیں کی جاتی؟
کیا سالوں سے امریکا کی قید میں موجود پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی عورت نہیں؟

میں پوچھتی ہوں کہ شیما کرمانی اور ان کی ہم نوا خواتین نے کتنی بار ڈاکٹر فوزیہ ہر مظالم کے خلاف بات کی؟
یہ نہیں کریں گی! کیوں کہ پھر اتنے بڑے عورت مارچ کے خرچے کے واسطے پیسے کہاں سے آئیں گے؟

شاید انھوں نے کبھی کراچی میں پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کے اس المیے کا ذکر بھی کیا ہو جب یہاں آپریشن کی وجہ سے کوئی مرد باہر آکر نماز جنازہ نہیں پڑھا سکتا تھا، تب عورتوں نے ہی مقتول کارکن کا جنازہ پڑھایا اور دفنایا؟

کتنی ’ہیومن رائٹس ’این جو او‘ جو عورت، عورت کرتی رہتی ہیں، انھوں نے کتنی بار اس المیے کا ذکر کیا؟ کیوں؟ کیا اس کے لیے مبینہ طور پر ’ایڈ‘ نہیں ملتی؟

آج بتانا پڑے گا، کراچی کی اس مظلوم عورت کے واسطے کتنی بار بات کی جب ایک عورت بے نظیر بھٹو کی حکومت میں اسی شہر کی ایک ماں فیروزہ بیگم بھی تھی، جو جبری طور پر پیپلزپارٹی میں شامل کی گئی اور اس نے کہا کہ میں صرف اپنے بیٹے اسامہ قادری کی جان بچانے کے لیے یہ کرنے پر مجبور ہوئی ہوں!

کتنی بار اس عورت مارچ کی خواتین نے 2013ءمیں رینجرزر کی حراست میں مارے جانے والے ایک سیاسی کارکن آفتاب کی بوڑھی ماں کے لیے آہ وبکا کی؟

کراچی میں لاپتا اور لاشیں وصول کرنے والی مائیں اور بہنیں ان کی متعین کردہ ’عورت‘ کی تعریف پر پورا نہیں اترتیں یا پتا نہیں کیا مسئلہ ہے کہ یہ ’عورت مارچ‘ مرد دشمنی پر کیوں منتج ہوتا ہے؟
یہ عورت مارچ شادی کو ظلم کیوں قرار دیتا ہے۔ خاندانی نظام کے خلاف بات کیوں کرتا ہے؟ طلاق کو کیوں عام کرنا چاہتا ہے؟ اس کی تان نکاح کے خلاف ہرزہ سرائی پر کیوں ٹوٹتی ہے؟
کیا یہی میڈیا کی آزادی اور مساوات ہے کہ ایسے دُہرے معیار کو ہی ترقی، روشن خیالی، جمہوریت پسندی، حریت فکر اور انصاف قرار دے کر پیش کیا جائے اور دوسری طرف کوئی صدا ہی نہ ہو!
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
