سمے وار (تحریر: انیس شیخ)1981میں اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے پرتشدد طور پر جامعہ کراچی سے نکالے جانے کے وقت “اے پی ایم ایس او” کے ارکان کی تعداد 45 تک تھی۔ اس کے بعد جب علاقوں میں کام شروع کیا تو تب بھی 1983 تک “اے پی ایم ایس او” کے کارکنان 300 […]
سمے وار (تحریر: انیس شیخ)1981میں اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے پرتشدد طور پر جامعہ کراچی سے نکالے جانے کے وقت “اے پی ایم ایس او” کے ارکان کی تعداد 45 تک تھی۔ اس کے بعد جب علاقوں میں کام شروع کیا تو تب بھی 1983 تک “اے پی ایم ایس او” کے کارکنان 300 […]
سمے وار (تحریر: عائشہ تنویر)طلبہ نقل کے لیے پھّرے ( cheating material) پین کے ری فلز نکال کر وہاں چھپاتے ہیں۔ کرنسی نوٹ پر لکھ لاتے ہیں۔ بالوں میں پِن کے ذریعے طالبات لگاتی ہیں یا دوپٹوں کی پائپنگ میں ۔ ایڈمٹ کارڈ کی پلاسٹک کوٹنے میں چھپاتے ہیں۔ ٹشو پیپر پر لکھ لاتے ہیں۔ […]
سمے وار (تحریر: مہناز اختر)سید غلام مصطفی شاہ سن 1918 ڈسٹرکٹ ٹھٹہ (موجودہ سجاول) کے گاؤں قادر ڈنو شاہ میں پیدا ہوئے۔ آپ ماہر تعلیم، ماہر سماجیات اور سیاستدان تھے۔ آپ کا تعلق زمیندار گھرانے سے تھا۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم سندۃ مدرسۃ اسلام کراچی سے حاصل کی۔ بعدازاں اعلی تعلیم ڈی جے سندھ […]
سمے وار (تحریر: نوید صدیقی ہادی)ایک مہاجر کے سوالات اور ان کا جواب ہے۔ اگر کچھ واقعات کی ترتیب میں غلطی ہوگئی ہو، یعنی آگے پیچھے ہوگئے ہوں تو پیشگی معزرت قبول فرمائیں۔ آپ کا پہلا سوال جائز دوسرا ناجائز لیکن سوال تو سوال ہوتا ہے۔ اور جواب کا حق دار بھی ہوتا ہے۔ چلیں […]
سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری جتنے متنازع رہے، اتنے ہی منفرد گورنر بھی ثابت ہوئے۔ یقیناً وہ ایک ایسی شخصیت تھے، جو الطاف حسین کو الگ کرنے والی “بہادرآباد ایم کیو ایم” میں شامل ہوئے تو اپنے ساتھ کچھ “مسائل” بھی لے کر آئے۔ انھیں ابتدائی طور پر ایک ناکام […]
سمے وار (تحریر: اختر روہیلہ)ڈیجیٹل دہشت گردی اور لسانی انجینئرنگ: “ڈان” اور “دی نیوز” کے انکشافات کے مطابق، اندازہ ہے کہ 30 لاکھ سے زائد افراد نے اپنی مستقل رہائش کو کراچی میں اپڈیٹ کروایا، جن کا اصل تعلق اندرون سندھ سے تھا۔کراچی، جو ماضی میں ایک بندرگاہی شہر کی حیثیت رکھتا تھا، آج لسانی […]
سمے وار (تحریر: احتشام ارشد نظامی)کئی برس پہلے کی بات ہے۔ میں اکنا کنوینشن میں فرینڈز آف ہیومینیٹی کو بوتھ لگانے بالٹی مور گیا تھا۔ ڈاکٹر ایم اے طور بھی شکاگو سے گئے ہوئے تھے۔ کنوینشن کے دوسرے دن طور صاحب مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال صاحب کو بوتھ دکھانے لے کر آئے۔ اس […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)ایک طرف جماعت اسلامی سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی وحدانیت سندھ اور کراچی سندھ کے اٹوٹ انگ جیسی قرار داد کی حمایت کرتی ہے تو دوسری طرف اسی جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر صاحب جامعہ کراچی اور جامعہ سندھ کے ساتھ حکومت سندھ کے دہرے معیار کا نوحہ کہتے ہیں۔وہ […]
سمے وار (تحریر: نوشین اقبال)پاکستان کے حکمران سیاسی خاندان میں پرورش پانے پر اپنی دھماکا خیز یادداشت لکھنے کے پندرہ برس بعد، مصنفہ نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی ایک ہلا دینے والی روداد قلم بند کی ہے۔ وہ “دوڑتی بھاگتی زندگی” اور آخرکار کہیں ٹھہر جانے کی بات کرتی ہیں۔اگر فاطمہ بھٹو کو […]
سمے وار (خصوصی رپورٹ)گذشتہ دنوں ختم ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں آخری روز متحدہ کی مرکزی راہ نما نسرین جلیل کے لیے بیٹھک میں خواتین کے کردار کے حوالے سے گفتگو ہونی تھی، جسے معزز صحافی مظہر عباس نے زیادہ تر کسی اور جانب ہی موڑے رکھا۔ اب نہیں معلوم یہ دانستہ کوئی […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں رہائش اور آسان رہائش مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں اپنے گھر اور سرپر چھت کے نام پر جتنا زیادہ نجی ہائوسنگ اسکیم کے ذریعے لوٹا جاتا ہے وہاں دیگر طور سے بھی یہ دھینگا مشتی کوئی کم نہیں ہے۔ایسی ہی ایک اسکیم ہاکس بے ہائوسنگ اسکیم […]
سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں غیر مقامی مقررین، غیر مقامی ترجیحات اور غیر مقامی موضوعات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے۔حکومت سندھ کے مرکزی اسپانسر کے طور پر شروع ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹول 2026 میں سندھی مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں خالی کرسیوں کی تصویر انتظامیہ اور اسپانسر […]
سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)اصل پروپیگنڈا اِسے کہتے ہیں کہ 18 سال سے مسلسل حکومت کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی اپنے چیئرمین کو اسلام آباد لے جا کر وہاں کے صحافیوں کے سامنے اپنی کارکردگی کے چرچے کرواتی ہے۔ اور اسلام آباد کے نام نہاد بڑے صحافی واری واری جاتے ہیں۔و […]
سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)وہ جنوری 2018کی ایک ناخوش گوار صبح تھی جب شہر میں بیرون ملک سے ڈاکٹریٹ کرکے آنے والے ایک عملی اور مثالی نظریاتی کارکن اور دیوقامت علمیت رکھنے والے فلسفی ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی لاش ملی۔ان کی لاش رات بھر کی گم شدگی کے بعد ریڑھی گوٹھ جیسے دور […]
سمے وار (تحریر: محمد امین الدین)سانحات، حادثات اور بد انتظامی کی وجہ سے صرف کراچی نہیں بلکہ پورا ملک گویا کسی آتش فشاں کے دہانے پر ہے۔ نہ جانے کب کہاں سے لاوا اُبل پڑے، کچھ معلوم نہیں۔پاکستان میں سانحات کی 78 سالہ تاریخ ہے ۔ ہر سانحے کی فائل سرد مہری کے گردو غبار […]