سمے وار (تحریر :سارہ رضوان)
پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے یہ اعلان کیا ہے کہ کراچی میں اب پانی لائنوں سے ملے گا، ٹینکر بند ہوں گے۔
کراچی میں ٹینکر مافیا میں بھانت بھانت کے گروہ ملوث ہیں اور سبھی کسی نہ کسی طرح ریاستی مشینری کی آشیرباد سے جاری ہیں، واٹر بورڈ کی جانب سے ہر ضلعے میں ایک ہائیڈرینٹ کی اجازت ہے، اس کے باوجود لائن توڑ کر اور جگہ جگہ بے شمار مقامات سے پانی چوری ہوتا ہے اور کراچی ہی کے لوگوں کو فروخت بھی کیا جاتا ہے۔
اس میں بہت بڑے پیمانے پر غیر مقامی مافیا ملوث پائی گئی ہے۔ اور یہ کراچی کا ایسا مسئلہ ہے کہ جو حل ہوگیا تو پھر یہ بڑے بڑے پیٹ والے افسران، محکموں کے ناخدا اور سیاسی و غیر سیاسی اور مختلف ایسے بااثر لوگ کھائیں گے کیا؟
اس لیے پہلے ہی کراچی کے لوگوں نے اس میئر کراچی کے اس کہنے پر اعتبار نہیں کیا تھا، اگرچہ اعتبار کرنے کو جی بہت چاہا تھا، پھر میئر کراچی کے بیان کی مزید وضاحت آئی کہ “بتدریج” ختم ہوں گے
تو کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
بہ تدریج میں بھی کئی زمانے بیت جائیں گے اور پھر کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا کہ کسی میئر نے ایسی بے پر کی چھوڑی تھی۔ یہ بڑے بڑے طاقت ور بند نہیں کراسکتے، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب تو ویسے بھی کٹھ پتلی میئر ہیں جو لولے لنگڑے بلدیاتی نظام میں صرف پوائنٹ اسکورنگ کی مجبوری کے تحت سامنے لائے گئے ہیں ورنہ سب جانتے ہیں کہ کراچی میں حکومت اور اختیار کس کے ہیں اور کس کے نہیں ۔ اس لیے کراچی والے بے فکر رہیں ابھی بتدریج میں بہت وقت لگے گا۔
مطلب آپ انکار ہی سمجھیے، ویسے بھی آپ کو تو سڑک پر واٹر ٹینکر سے تحفظ چاہیے، ایسا تو کوئی مطالبہ اب آپ کرتے ہی نہیں کہ پانی لائن میں دو۔ خریر خرید کر پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے ترستے رہنے کی تو عادت ہوگئی ۔ غضب خدا کا ٹینکر بند ہوجائیں۔ وہ بھی پیپلزپارٹی اور ریاستی جبر اور اسٹیبلشمنٹ کے شکنجے میں توبہ توبہ!
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
