Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi KU Media MQM PPP Saad Ahmad انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی جامعہ کراچی دل چسپ ذرایع اِبلاغ سعد احمد سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

ہاروڈ یونیورسٹی کا پروفیسر ریڑھی گوٹھ کیا کرنے گیا تھا؟

سمے وار (تحریر: سعد احمد)
صورت حال یہ ہے کہ “کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی” کا ایک عہدے دار بھی اپنے ایک عظیم بانی رکن کو یاد نہیں کرسکتا، وہ استاد جس نے جبر کے خلاف صف آرا ہونے کی اپنی رسم اتنی نبھائی کہ اسی راہ پر اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ جس پر اس کے سرخ اور لبرل نما سے کچھ حلقوں نے ذرا دیر کو شور شرابا کیا۔ کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس ہوگئی اور بس، چند غفلت میں پڑے ہوئے اس شہر کے کالم نگاروں نے ایک ایک تعزیتی کالم گھسیٹ کر جان چھڑائی، نہ اس سے پہلے اس ظلم کے خلاف کچھ کہہ سکے اور نہ کبھی اس کے بعد انھیں توفیق ہوسکی!
ہوا کچھ یوں تھا کہ اتوار 14 جنوری 2018 کی صبح کراچی پولیس کے علم میں ایک لاش آئی جو ریڑھی گوٹھ جیسے لانڈھی کے بھی دور دراز پس ماندہ سے علاقے میں موجود تھی، تب جا کر یہ انکشاف ہوا کہ گذشتہ روز 13 جنوری کو گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا ہوا مردہ ہوجانے والا یہ شخص ڈاکٹر حسن ظفر عارف ہے!
وہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف، جس نے پوری زندگی لوگوں کے حقوق کی جدوجہد کی نذر کی، انھیں ضیا الحق کے دور میں جامعہ کراچی کی ملازمت سے برخاست کیا گیا، وہ پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ رہے، پھر اس کے “شہیر بھٹو” گروپ میں شامل رہے، اس کے بعد دو سال قبل “ایم کیو ایم” میں آگئے اور جب 22 اگست 2016 کو پوری تنظیم ڈھانچے کو الطاف حسین سے الگ کرلیا گیا، یہ خسارے والے دائرے میں چلے گئے اور الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے مرکزی ذمہ دار قرار پائے۔

15 اکتوبر 2016 کو کراچی پریس کلب میں ایم کیو ایم لندن گروپ کی جانب سے پہلی باقاعدہ پریس کانفرنس میں ان کے ہم راہ کنور خالد یونس، ساتھی اسحق، مومن خان مومن اور امجد اللہ بھی موجود تھے۔

پھر اس کے کچھ عرصے بعد انھیں کراچی پریس کلب ہی سے گرفتار کرلیا گیا، یوں وہ اکتوبر 2016 سے اپریل 2017 تک اسیر رہے۔ 2018 انتخابات کا سال تھا، وہ رہائی کے بعد الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے لیے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے، انھیں الطاف حسین نے اپنی رابطہ کمیٹی کا ڈپٹی کنوینر بھی بنایا تھا، تاہم رابطہ کمیٹی کے عہدوں کی ازسرنو ترتیب کے دوران انھیں پاکستان میں رابطہ کمیٹی کا انچارج بنایا گیا تھا۔

اسی دوران وہ ہفتے کی رات کو پراسرار طور پر لاپتا ہوگئے، اہل خانہ نے گھر نہ پہنچے اور رابطہ منقطع ہونے پر ان کی تلاش شروع کردی تھی کہ اتوار کی صبح ان کی لاش ریڑھی گوٹھ جیسے دور افتاد علاقے سے برآمد ہوگئی، سرکاری پوسٹ مارٹم اور سارے شواہد کے مطابق ان کی موت طبعی تھی، لیکن ایم کیو ایم کے وابستگان اور لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی موت کو قتل قرار دیتی ہے۔
اس طرح ہارورڈ یونیورسٹی کا پڑھا ہوا 72 سالہ پروفیسر اور سماج کا ایک روشن ستارہ صرف اپنی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ ملنے کے سبب ایک اندوہناک اور پراسرار موت کا شکار ہوگیا۔
یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا


لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہارورڈ کا پڑھا ہوا پروفیسر ریڑھی گوٹھ کیا کرنے گیا تھا، اور کیسے وہ اپنی موت سے پہلے وہاں گاڑی کھڑی کرکے پچھلی نشست پر آکر بیٹھ گیا۔
ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی موت کے بعد الطاف حسین کی ایم کیو ایم کی عملی سیاست کی رہی سہی کسر بھی ختم ہوگئی۔ باقی ارکان اسیر اور غیر فعال ہوگئے۔ امجد اللہ نے رہائی کے بعد سیاست چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ 2018 کے انتخابات میں الطاف حسین نے بائیکاٹ کیا اور پھر لندن کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت اور واسع جلیل بھی نامعلوم وجوہ کی بنا پر خاموشی سے لندن سے امریکا چلے گئے اور اپنی الگ تنظیم وائس آف کراچی چلانے لگے۔ لندن کی رابطہ کمیٹی کی سربراہی ڈاکٹر ندیم احسان اور طارق جاوید سے ہوتی ہوئی اب مصطفیٰ عزیز آبادی تک پہنچ چکی ہے۔ دوسری طرف 2024 کے عام انتخابات میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم نے جیسے تیسے اپنے آزاد امیدوار میدان میں اتارے، جن کے انتخابی نشانات مختلف تھے، تاہم انتخابی مہم ختم ہونے سے ایک آدھ روز قبل سامنے آنے والے امیدواروں کو پکڑ دھکڑ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود ان امیدواروں کو اچھے خاصے ووٹ ملنے کی اطلاعات سامنے آئیں، لیکن نتائج میں یہ اعداوشمار کچھ خاطرخواہ نہ تھے۔ قصہ مختصر 13 جنوری صرف ڈاکٹر حسن ظفر عارف ہی نہیں بلکہ ایم کیو ایم لندن کی پاکستان میں سیاست کے حوالے سے بھی ایک اختتامی باب کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights