سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
اپنی پچھلی ویڈیو میں ایک بیکری میں نمودار ہو کر ایک غریب خریدار کے لیے اپنا نام لکھا ہوا کیک دے کر کہ “بتائیے گا نہیں کہ میں نے دیا ہے” کہنے والے کہ رمضان چھیپا نامی صاحب اپنی ایک نئی ویڈیو کے سبب سوشل میڈیا پر بہت مشہوری پا رہے ہیں، یہ ویڈیو ایک لڑکی کی اپنے ایک معمر استاد سے بھاگ کر شادی کرنے کا معاملہ ہے، وہ ریلوے اسٹیشن پر اپنے سے کئی برس زائد عمر کے استاد کے ساتھ کھڑی ہوئی ہوتی ہے کہ وہاں اچانک رمضان چھیپا نمودار ہوجاتے ہیں اور رنگ میں بھنگ ڈال دیتے ہیں۔
اب جیسی “اداکاری” وہ کرسکتے ہیں ویسی ہی اداکاری انھوں نے کی اور جیسا اسکرپٹ ان کے ہاں ہو سکتا تھا، ویسا اسکرپٹ لکھ مارا گیا ہے۔ بات یہ ہے کہ برسوں سے عبدالستار ایدھی کی جگہ لینے کے لیے دن رات ایک کرنے والے کو ایسی حرکتیں کیوں کرنی پڑ رہی ہیں، جس کا سنجیدگی سے زیادہ انے چھچھووروں والا تاثر بن رہا ہے اور لوگوں کو ہنسنسے کا اور مذاق اڑانے کا موقع مل رہا ہے۔ دوسرا یہ کیا وہ بہ ظاہر مذہبی شخصیت دکھائی دے کر ایک لڑکی کو کسی زائد عمر کے مرد سے شادی کرنے سے عمر کو جواز بنا کر روک سکتے ہیں؟
وہ تو جگہ جگہ اپنے بڑے بڑے پوسٹر لگا کر اپنا دین انسانیت کو قرار دیتے ہیں، لیکن سمجھا انھیں مذہبی ٹچ والا ہی ہے۔ اب یہ ایک نئی ویڈیو چلا کر انھوں نے ایک اور بحث چھیڑ دی ہے۔ ساتھ ساتھ چھیپا میمز کے حوالے سے ایک نیا موضوع دے دیا ہے۔
پاکستان میں غیر سرکاری تنظیمیں یا “این جی اوز” کے کردار کے حوالے سے ہمیشہ سے سوالات رہے ہیں، چاہے وہ ایدھی فائونڈیشن ہی کیوں نہ ہو، اور آج کی این جی اوز مفتے کے دسترخوانوں کے ذریعے کراچی شہر میں جو وبال پیدا کر رہی ہیں۔ اس کی بازگشت میں “کوئی دیکھے نہ دیکھے چھیپا تو دیکھے گا” کی ایک نئی ترکیب سامنے آرہی ہے، جس پر سوشل میڈیا پر لوگ اظہار خیال کر رہے ہیں۔ شاید ان کا مقصد اسی طرح شہرت حاصل کرنا ہے۔ اگر ایسا ہے تو وہ واقعی وہ بہت کام یاب ہیں۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کوئی دیکھے نہ دیکھے “چھیپا” تو دیکھے گا!
