سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
اصل پروپیگنڈا اِسے کہتے ہیں کہ 18 سال سے مسلسل حکومت کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی اپنے چیئرمین کو اسلام آباد لے جا کر وہاں کے صحافیوں کے سامنے اپنی کارکردگی کے چرچے کرواتی ہے۔ اور اسلام آباد کے نام نہاد بڑے صحافی واری واری جاتے ہیں۔و اہ واہ کرتے ہیں، کالم لکھتے ہیں حضور کا اقبال بلند ہو۔ واہ بے نظیر شہید کے ہونہار سپوت، واہ شہید ذوالفقار بھٹو کے نواسے کمال کردیا۔ واہ واہ
بلاول وہاں نہ صرف کراچی کی (نظر نہ آنے والی ترقی) کے نقشے دکھاتے ہیں اور وہاں موجود آڈینس چپ کیے محو رہتی ہے وہ کراچی سے فارغ ہوکر تھر کی ترقی کا اس اعتماد سے ذکر کرتے ہیں کہ وہاں جا کر انقلاب دیکھو۔ بھئی واہ واہ۔۔۔۔
18 برسوں میں بلاول ظاہر ہے اس وقت فعال بھی نہیں تھے، اس کے کئی برس بعد وہ سیاسی پنگوڑے سے باہر نکالے گئے اور پھر انھیں مانجھ مانجھ کر بولنے کے قابل بنایا گیا۔ اردو درست کی گئی، ساتھ اتالیق لگائے گئے تب کہیں جا کر وہ بنا لکھی تقریر بولنے کے کسی حد تک لائق ہوئے۔ اب ایسے کیا لائق ہوئے کہ اپنے صوبے کے وزیراعلیٰ پر ہی اعتماد نہ کرسکے جو اپنی حکومت کو شاید بلاول سے زیادہ جانتا ہوگا، لیکن بلاول کو قیادت کا شوق تھا۔ خود کو وزیراعظم دیکھنا ہے، ان کے والد دوسری طرف صدر بن گئے، ماں دو دفعہ وزیراعظم بنیں، نانا صدر اور وزیراعظم کے علاوہ وزیر خارجہ اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی بنے تو اس طرح وہ کیوں محروم رہیں۔ آصف زرداری کی خواہش ہے کہ وہ زندگی (اپنی) میں بلاول کے سر پر وزارت عظمیٰ کا تاج دیکھنا چاہت ہیں۔ ایسے میں اب ہم کون ہوتے ہیں شاہوں کے خوابوں کے آڑھے آنے والے
بس برا ہو اس خبر کا اور جنگ اخبار کا جس نے تھر میں غذائی قلت سے مرنے والے بچوں کی خبر دے ڈالی کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ تعداد 46 ہوگئی۔ تو شاید تھر کا یہی وہ سماجی انقلاب ہے جس پر ناچ ناچ کر ایوان صدر اسلام آباد میں لاڑکانے کے شاہ زادے گھنگرو توڑ رہے تھے۔ ابھی تو گل پلازا کا سانحہ ہی برپا ہوا تھا جس ترقی کا وہ ذکر فرما رہے تھے ایک آگ نہ بجھا سکنے پر وہ ساری کارکردگی شہریوں کی سرمہ ہوجانے والی لاشوں میں جل کر بھسم ہوگئی، دوسری طرف تھر میں غذائی قلت سے معصوم بچوں کی ہلاکتیں۔ کیا ہوگا اس ملک کا؟
صحافت کہاں دفن ہوگئی ہماری؟ کیوں پیپلزپارٹی سے سوال نہیں کیا جاتا یا کیا نہیں جاسکتا؟
شاید وہ مائی باپ بن چکے ہیں۔ شاید ہمیشہ کے لیے
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
بلاول کا تھر کا “انقلاب” 46 بچے جاں بحق
