سمے وار (تحریر: سعد احمد)
جو دنیا میں کہیں نہیں ہوتا وہ کراچی میں ہوتا ہے، جیسے اپنے ہی شہر میں تیسرے درجے کے شہری بلکہ غلاموں جیسی زندگی گزارنا۔ ریاست کی جانب سے ہندوستانی اور غدار سمجھنا، ان کی حب الوطنی 80 سال بعد بھی مشکوک سمجھنا اور ان کے وسائل اور اداروں پر غیر مقامی افراد کا تسلط ان پر غیر مقامی وڈیروں کی حکومت اور ان کے گھر کے اندر انھیں ذلیل کرنا، ان کا پانی انھی کو بیچنا، انھیں گٹروں اور نالوں میں گرا کر مارنا، ڈمپروں اور ٹینکروں سے کچلنا اور ڈکیتیوں میں مروانا۔ ایسا لگتا ہے انتظامیہ کا پہلے مرحلے کا فرض ہو!
دنیا کا کوئی نگر ایسا نہیں ہوگا جہاں اس کے اپنے باسیوں کے لیے جگہ نہ ہو۔ انھیں کہا جائے سمندر میں غرق ہوجائو۔ تبھی تو چشم فلک یہ منظر دیکھ رہی ہے کہ کراچی جیسے شہر ناپرساں میں سندھ کے وڈیروں کے ظالمانہ جبر تلے مرنے والے کراچی والوں کے لیے ایم اے جناح روڈ پر گل پلازا جلانے کا انتظام کیا گیا، جس میں ابھی تک 100 سے زائد لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ابھی اس کے شعلے بھی سرد نہیں ہوئے، ابتدا میں صرف چار چھے لاشیں ملیں۔ اس کے بعد ملنے والی لاشیں سوختہ اور ناقابل شناخت ہیں۔ پورا پلازا 1200 دکانوں اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار کی امید لیے زمیں بوس ہو رہا ہے۔ ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان ہے۔ ہر شہری اشک بار ہے، لیکن سندھ کے وڈیروں کے کاسہ لیس الٹا مرنے والوں اور اپنی املاک جلوا دینے والوں ہی کر نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہیں کراچی آرٹس کونسل پر قابض ہزارہ سے تعلق رکھنے والا غیر مقامی پیلپز پارٹی کے وڈیروں کا حامی اور مہاجر دشمنی میں شہرت رکھنے والا احمد شاہ نے ایک دن بھی سوگ نہیں منایا۔ بلکہ یہی نہیں 22 جنوری سے ہونے والے عوامی تھیٹر فیسٹول کوبھی اپنے وقت پر شروع کرا رہا ہے۔
کیا المیہ ہے کہ کراچی آرٹس کونسل سے صرف 3 کلو میٹر دور کھنڈر بن جانے والے گل پلازہ سے اب بھی درجنوں لاشیں نکالی جانی ہیں، لیکن آرٹس کونسل میں احمد شاہ اینڈ کمپنی ثقافت اور کلچر کے نام پر دھما چوکڑی مچانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ کیوں کراچی کے غم کو محسوس نہیں کرتے۔ ابھی کسی سیاسی جماعت کے، پیلپزپارٹی کے آٹھ دس لوگ بھی مارے جاتے یہ بے شرم آدمی آنسو بہانے بیٹھ جاتا، کیا کسی اور شہر میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ 100 لوگ مر گئے ہوں اور 4 روز بعد اسی شہر میں نام نہاد تفریحی فیسٹول سجا لیا جائے؟؟؟
کون جواب دے گا؟
کراچی لاوارث ہے، لیکن کیا کراچی والے انسان اور اس ملک کے شہری نہیں؟ کیا ان کو جلا کر مار دینے کے بعد بھی کلچر کے نام پر تماشا لگایا جائے گا؟؟؟
دنیا دیکھے گی کہ کل 22 جنوری 2026 کو جب بے غیرت اور بے شرم “فن کار” اپنے فن کے مظاہرے کریں گے، ڈھول باجے تاشے، رقص وسرور کی محفل ہوگی، ہو ہا ہوگی، تفریح کلب ہوگا، رونق اور ہنسی قہقہے گونجیں گے، عین اسی آرٹس کونسل سے محض ڈیڑھ کلو میٹر دور کراچی والے اپنے لاپتا اپنوں کی سوختہ ہڈیوں کی شناخت کے لیے چکر کاٹ رہے ہوں گے، ڈی این اے کرا رہے ہوں گے
کیا کسی چینل پر کسی یوٹیوبر نے کسی ویلاگر نے آرٹس کونسل کی اس بے غیرتی کی انتہا پر کوئی بات کی؟؟
کیوں نہیں کی؟
ایسا اور کہاں ہوتا ہے؟
تبھی ہم کہتے ہیں کہ کراچی کے ادارے کراچی کے پریس کلب، آرٹس کونسل، کراچی بار اور کراچی چیمبر سے لے کر تمام چھوٹے بڑے پلیٹ فارم کراچی والوں کے حوالے ہونے چاہئں، باہر سے آنے والے کبھی کراچی کے غم کو نہںسمجھ پاتے اور احمد شاہ کی طرح ایسے ہی لاتعلق رہتے ہیں۔
ارے گلی کے آوار اور پاگل کتوں کے لیے بے چین ہونے والوں، تمھارے شہر میں 100 جنازے الم ناک موت کا شکار ہوئے۔ کھربوں کی دکانیں جل گئیں، تم یہاں تماشے لگا رہے ہو۔۔
یہ مذاق کب تک اور یہ مذاق کہاں تک؟؟؟
کون جواب دے گا؟ کراچی والوں جاگو!
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
گل پلازہ میں جلی ہوئی ہڈیاں اور مقبوضہ آرٹس کونسل!
