سمے وار (خصوصی اقتباس)
سرسید احمد خان کا شباب جوبن پر تھا۔ ایک محفل میں ایک حسین و جمیل اور چلبلی طوائف، ناز و جان محوِ رقص تھی۔ اس کی نظر سرسید پر پڑی تو وہیں ٹھہر گئی۔ وہ بار بار ان کی طرف لپکتی اور ان کے سامنے آ کر ناچتی۔ مسکرا مسکرا کر سید احمد کی بلائیں لیتی رہی۔ سید کی صورت اور ان کے منہ سے نکلے ہوئے داد و تحسین کے الفاظ اس کے دل میں اتر گئے، وہ ان پر ایسی ریجھی کہ پیچھے ہی پڑ گئی۔ درگاہوں پر جاتی، فقیروں سے دعائیں کرواتی، منتیں مانتی، نیازیں دیتی کہ سید اس کا ہو جائے۔ سرسید کو خط بھیجتی۔ ایک دن سرسید نے اس کے خطوط اپنے بھائی کے آگے رکھ دیے۔ انھوں نے دیکھ کر کہا، “وہ تو تم سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ تمھارا کیا ارادہ ہے؟” سید احمد بولے، “میرا ارادہ کبھی بنتا ہے، کبھی نہیں۔” ناز و جان کچھ دن تک ان کے دل و دماغ پر چھائی رہی لیکن آخر انھوں نے ہمت کر کے اس کا خیال ہمیشہ کے لیے ترک کر دیا۔
ایک مدت بعد، سرسید نے علی گڑھ کالج کے چندے کے لیےایک نمائش میں کتابوں کی دکان لگائی۔ کتابیں بیچنے کے کاؤنٹر پر خود کھڑے ہو گئے۔ ایک بی بی برقع اوڑھے آئی، کچھ کتابیں خریدیں۔ کہنے لگی: “آپ تو بہت بڑے سادات خاندان کے چشم و چراغ ہیں، کسی اور کو اس کام پر لگایا ہوتا۔” سید بولے: “بی بی! ہمارا تو اب یہ حال ہو گیا ہے کہ ہمارے دوست ہم سے ملتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ہم کوئی سوال نہ کر بیٹھیں۔ ہماری صورت ہی اب سوال ہو گئی ہے۔”بی بی بولیں: “سید! تو تو دو جہاں کا بادشاہ ہے، آپ سوالی کیونکر ہونے لگے۔ سوالی تو ہم ہیں۔ آپ نے پہچانا نہیں، میں آپ کی پرانی کنیز ہوں، ناز و جان۔”
ناز و جان نے ایک دن سید احمد کو بلا بھیجا۔ وہ اپنے دوست سید زین العابدین خان کے ہمراہ اس کے ہاں گئے۔ اس نے کہا: “سید صاحب! یہ حویلی میں نے فروخت کر دی ہے، یہ مہاجن بیٹھے ہیں۔ ہر دیال جی، انھوں نے خریدی ہے۔” پھر ہر دیال جی سے مخاطب ہو کر کہا: “ہر دیال جی! آپ اپنے ہاتھ سے 35 ہزار روپے کی رقم مدرسے کے لیے سید صاحب کو دے دیجیے گا۔” (پھر کہا) “سید صاحب! یہ آپ کے قدموں میں میرا ادنا سا ہدیہ ہے تاکہ اگلے جہان میری بخشش ہو جائے۔ بس ایک التجا ہے، میرے جنازے پر ضرور تشریف لائیے گا۔”
کچھ عرصے بعد جب ناز و جان کا انتقال ہوا تو سر سید احمد اس کے جنازے پر مولانا الطاف حسین حالی، شمس العلماء شبلی نعمانی، ڈپٹی نذیر احمد، شمس العلماء سید ممتاز علی اور محسن الملک سید مہدی علی خان کو بھی اپنے ساتھ لے کر گئے۔
(اقتباس کتاب: “سرسید احمد خان: شخصیت اور فن”)
Categories
سرسید احمد خان کی عاشق کا قصہ
