سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
24 مئی 2026 کو امریکا میں مقیم ‘متحدہ قومی موومنٹ’ کے ایک سابق دیرینہ رکن اور سابق ٹائون ناظم گلشن اقبال ٹائون واسع جلیل نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے سابق قائد الطاف حسین کی ‘ایم کیو ایم’ میں واپسی کا اعلان کیا ہے۔
واسع جلیل کی پارٹی میں واپسی روایتی معافی اور ندامت کے بعد عمل میں آئی۔ واسع جلیل نے بتایا کہ وہ 2017 سے اپنی پارٹی سے کچھ دبائو کی وجہ سے دور ہوگئے تھے اور اب وہ معافی مانگ کر واپس آگئے ہیں۔
واسع جلیل کا شمار ایم کیو ایم کے مرکزی سطح پر فعال راہ نمائوں میں ہوتا ہے۔ مارچ 2015 میں جب ایم کیو ایم کے مرکز ‘نائن زیرو’ پر چھاپا پڑا تھا تو واسع جلیل بھی رینجرز کی حراست میں رہے تھے، لیکن اس کے بعد وہ کچھ ہی دنوں میں لندن پہنچ گئے تھے۔ لندن میں الطاف حیسن کی زیر قیادت وہ بدستور پارٹی سے منسلک رہے۔ ان دنوں ندیم نصرت پارٹی کے کنوینئر رہے۔ اسی عرصے میں 22 اگست 2016 کو بھوک ہڑتالی کیمپ کا وہ الم ناک انجام بھی ہوگیا، جس کے بعد نائن زیرو سیل ہوگیا، اور ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی پریس کلب پر پریس کانفرنس کرکے الطاف حسین سے لاتعلقی کر دی، جس کی الطاف حسین نے بھی تائید کر دی تھی۔ کوئی دو مہینے سے بھی پہلے لندن کی جانب سے جب فاروق ستار کے خلاف ردعمل آنا شروع ہوا کہ انھوں نے پارٹی کے آئین سے ہی الطاف حسین کا عمل دخل ختم کرنا شروع کردیا تھا تو واسع جلیل ان دو راہ نمائوں میں شامل تھے، جنھوں نے اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے ایم کیو ایم (بہادر آباد) کے خلاف ایک لکیر کھینچنی شروع کی تھی۔ پھر کچھ ایسی خبریں بھی آئیں کہ کراچی کی رابطہ کمیٹی نے واسع جلیل کو اپنے واٹس ایپ گروپ سے نکال دیا اور چند ہی دن بعد لندن سے الطاف حسین نے باقاعدہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف، کنور خالد یونس، مومن خان مومن، ساتھی اسحق، امجد اللہ اور دیگر کے زیر قیادت کراچی میں اپنی نئی رابطہ کمیٹی متعارف کرادی، جس نے کراچی پریس کلب پر ہی پریس کانفرنس کی تھی۔
پھر 2018 کے عام انتخابات کے لیے ایم کیو ایم، لندن کی جانب سے پوری کوشش کی گئی اور ندیم نصرت نے کہا تھا کہ ہم کسی بھی طرح انتخابی میدان کو کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ اور اسی اثنا میں “پاکستان قومی موومنٹ” کی آوازیں آنے لگیں، جو اقبال کاظمی ایڈووکیٹ کی پارٹی تھی، اور یہ وہی اقبال کاظمی تھے جو 12 مئی 2007 کے بعد ایم کیو ایم کے خلاف سرگرم ہوئے تھے۔ شنید تھی کہ الطاف حسین کے امیدوار “پاکستان قومی موومنٹ” کے نام سے انتخابات میں حصہ لیں۔ اسی دوران اقبال کاظمی کی گرفتاری بھی ہوئی، پھر جنوری 2018 میں جب لندن کی رابطہ کمیٹی کے انچارج ڈاکٹر حسن ظفر عارف کراچی میں ابراہیم حیدری کے علاقے میں پراسرار طور پر مردہ پائے گئے تو گرائونڈ پر ایم کیو ایم (لندن) کی جانب سے کوئی بھی فعال نہ رہ سکا۔ امجد اللہ پہلے ہی رہائی کے بعد سیاست سے لاتعلقی کر چکے تھے، ساتھی اسحق بھی غیر فعال ہوگئے۔ کنور خالد یونس اور مومن خان مومن کی صحت بھی آڑے آئی اور یہ بھی گرفتاری و رہائی کی آنکھ مچولی میں سیاسی طور پر فعال نہ رہے۔ یوں ایم کیو ایم (لندن) کی جانب سے 2018 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ اسی دوران نہ، نہ کرتے کرتے ایک دن کنوینئر ندیم نصرت بھی لندن سے امریکا گئے اور پھر پتا چلا کہ وہ “وائس آف کراچی” کے نام سے ایک تنظیم قائم کردی ہے، جس میں واسع جلیل ان کے ساتھی ہیں۔
“وائس آف کراچی” نے “آزاد کراچی” اور “گریٹر کراچی” جیسے متنازع اور ذومعنی نعرے بلند کیے، جس سے علاحدگی پسند ہونے کا گمان گزرتا تھا، لیکن ‘وضاحتوں’ میں صرف جملہ حقوق کی بات کی گئی۔ ندیم نصرت لندن رابطہ کمیٹی کے ایک متوازن، منفرد اور سلجھے ہوئے لب ولہجے کی شخصیت تصور کی جاتی تھی، جو شاید ہی کسی لمحے برہمی اختیار کرتی یا جذباتی رو میں بہتی۔ لیکن وہ الطاف حسین سے الگ ہونے کی تردید کرتے کرتے پراسرار انداز میں امریکا آکر یہ نئی راہ چن چکے تھے۔ یہی معاملہ واسع جلیل کا بھی رہا تھا۔
“وائس آف کراچی” کو ایم کیو ایم ہی کے ایک سابق ٹائون ناظم جمشید ٹائون عارف آجاکیا “ایجنسیوں کا کھیل” قرار دیتے رہے کہ امریکا میں ٹیکسیوں پر تشہیری مہم چلانے کے لیے پیسہ کہاں سے آیا؟ تاہم اس تنظیم کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے کبھی الطاف حسین سے اپنے اختلافات کو موضوع نہیں بنایا اور نہ ہی یہ کبھی واضح ہوسکا کہ وہ کس وجہ سے الطاف حسین سے الگ ہوئے۔ ان کے اور ان کی سابق جماعت کے درمیان ایک خاموش مفاہمت رہی۔ انھوں نے کبھی اپنی سابق جماعت اور قائد پر کوئی تنقید بھی نہیں کی، بلکہ یہ کراچی کے مسائل اور ایم کیو ایم سے جڑے ہوئے الم ناک ایام کی یاد بھی بھرپور انداز میں مناتے رہے۔ سوشل میڈیا پر کراچی سے بہت سے اثر انگیز سوشل میڈیائی لوگوں نے ان کی مہم بھی چلائی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ ٹھنڈا پڑتا چلا گیا۔
وقت گزرتا گیا۔ 2024 کے انتخابات میں آخری لمحات میں ایم کیو ایم لندن نے آزاد امیدوار بھی اتار دیے، جو مختلف انتخابی نشانات پر قابل قدر ووٹ لینے بھی کام یاب رہے، لیکن نتائج تو ویسے ہی “فارم 47” کے گھپلوں کی وجہ سے متنازع ہو چکے تھے، تو ایم کیو ایم (لندن) کو گرائونڈ پر تو کوئی پوچھنے والا ہی نہ تھا۔
پھر 12 مئی 2026 کو ہیوسٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے پروگرام میں الطاف حسین کے وابستگان کی بھرپور شرکت کی خبریں آئیں، منظرنامے پر یہ پہلی باقاعدہ اتھل پتھل تھی، ورنہ 10 برسوں میں کئی بار افواہیں اٹھ کر دم توڑتی رہی تھیں۔ اس کے 12 دن بعد 24 مئی 2026 کو واسع جلیل نے اپنی پارٹی میں واپسی کا اعلان کردیا۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیرون ملک رہتے ہوئے واسع جلیل پر ایسا کون سا دبائو آگیا تھا کہ وہ الطاف حسین کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ چلیے پاکستان میں تو یہ موقف کچھ چل سکتا ہے کہ یہاں ممکن بھی ہے، لیکن لندن اور امریکا میں رہتے ہوئے کوئی اس عذر کے پیچھے کیسے چھپ سکتا ہے کہ اس پر سیاسی وابستگی کے حوالے سے کوئی “دبائو” تھا۔ یہ یقیناً مکمل بات نہیں ہے۔ اس حوالے سے تشنگی موجود ہے کہ ایسا کیا ہوا تھا کہ واسع جلیل بیرون ملک ہوتے ہوئے بھی الطاف حسین سے الگ ہوگئے تھے اور اب 9 برس کے بعد ایسی کیا تبدیلیاں آرہی ہیں کہ وہ دوبارہ سے الطاف حسین کے وفاداروں میں شامل ہوگئے ہیں؟
واسع جلیل کی ایم کیو ایم (لندن) میں واپسی کے بعد سے دیگر راہ نمائوں شمیم صدیقی اور بابر غوری وغیرہ کی واپسی یا فعال ہونے کی اطلاعات بھی تھیں، لیکن تاحال خاموشی چھائی ہوئی ہے اور مزید کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ سوائے اس کے کہ واسع جلیل نے اپنی پاکستان واپسی کے سوال پر یہ کہا ہے کہ الطاف حسین کی ہدایت ہوگی تو ضرور پاکستان جائوں گا۔ مگر سوالات ہو رہے ہیں کہ کیا الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو پھر سیاسی گنجائش ملنے والی ہے کہ جسے دیکھ کر دوبارہ سے غیر فعال ارکان اپنی پارٹی میں واپس ہو رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر یہ پاکستان کی روایتی سیاسی مشق ثابت ہوگی، جس میں برے وقت میں لوگ اپنی پارٹی کو چھوڑ دیتے ہیں اور جیسے ہی طاقت اور اقتدار کا امکان پیدا ہوتا ہے، سب کو اپنی پارٹی اور اپنا نظریہ یاد آنے لگتا ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
واسع جلیل: ‘روانگی’ سے ‘واپسی’ تک!
