سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
جامعہ کراچی میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین کا وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے نام کھلا خط لکھا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اساتذہ و ملازمین کی جانب سے جاری بائیکاٹ پر فوری مداخلت کرکے شہر و صوبے کے نوجوانوں کا مستقبل بچایا جائے۔
اس خط کے دیگر مندرجات کو دیکھیے تو یہ خط کم اور “خالد عراقی” کی طرف سے رونا گانا زیادہ لگتا ہے۔
اس “کھلے خط” میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ دیگر مجاز اتھارٹیز محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اور سندھ ایچ ای سی بھی مداخلت کرے۔”
بطور والدین یقیناً انھیں ضرور تشویش ہوگی، اور ان کا مطالبہ بجا ہے کہ مسئلے کو حل کیا جائے، لیکن شاید وہ بھول گئے کہ وہ والدین ہیں جامعہ کراچی کی انتظامیہ نہیں۔ تبھی تو انھوں نے اس “کھے خط” میں کراچی یونیورسٹی میں جاری ہڑتال اور سمسٹر امتحانات کے بائیکاٹ کو غیر قانونی قرار دے ڈالا۔ انھیں شاید نہیں پتا کہ “ہڑتال” کے لیے کوئی قانون نہیں ہوتا۔ مجبوراً ہڑتال کی جاتی ہے، جب اوپر والے ڈھیٹ بلکہ ڈھٹائی کے سارے ریکارڈ توڑ رہے ہوں تو کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
والدین کے اس نام نہاد “کھلے خط” میں خود کو وائس چانسلر خالد عراقی کا طرف دار یا انتظامیہ سمجھتے ہوئے انھی کا موقف پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ “ہم نے سمسٹر، امتحانی فیسیں جمع کروادی ہیں اور اساتذہ و ملازمین کو بروقت ماہانہ تنخواہیں بھی مل رہی ہیں۔ اس لیے مقررہ شیڈول کے مطابق سمسٹر امتحانات منعقد نہ کرنے کی کوئی قانونی یا معقول وجہ نہیں ہے۔”
مبینہ والدین کی اس درخواست میں ایک لفظ بھی جامعہ کراچی کی انتظامیہ پر تنقید نہیں کی گئی، بلکہ آخر تک وائس چانسلر خالد عراقی کی زبان اور ان کے موقف کو ہی آگے بڑھایا گیا اور میڈیا کو جاری کر دیا گیا، جامعہ کراچی کے موقف کو پیش کرتے ہوئے انھیں ذرا سا بھی یاد نہیں رہا کہ وہ دراصل جامعہ کراچی کی ڈھٹائی کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں، وہ اپنا نزلہ مظلوم اساتذہ پر گراتے ہوئے لکھتے ہیں:
‘ہاؤس سیلنگ’ (House Ceiling) میں اضافے، ‘لیو انکیشمنٹ’ کی ادائیگی جیسے مطالبات غیر منطقی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران بھی 28 تاریخ کو تنخواہیں ادا کی گئیں اور طبی سہولیات بلا تعطل فراہم کی گئیں، پھر بھی بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔ لیو انکیشمنٹ کا یہ جواز پیش کرنا کہ یونیورسٹی کی سینٹ/سنڈیکیٹ نے اس کی منظوری دی ہے، غیر قانونی ہے۔ سینٹ اور سنڈیکیٹ ایسے کسی بھی اصول کی منظوری نہیں دے سکتے جو حکومت پاکستان کے شائع شدہ مالیاتی قوانین کے خلاف ہو۔ یونیورسٹی کا تدریسی عملہ سمسٹر کی چھٹیوں کا فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور ہر سال لیو انکیشمنٹ کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔”
مطلب کچھ بھی؟؟
بطور والدین انھیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ جامعہ کراچی کے خالص انتظامی معاملات کی اتنی تفصیلات، جزئیات اور اتنی باریکیاں لکھ کر ان کا نام نہاد “کھلا خط” الٹا تمسخر کا نشانہ بنے گا۔ بطور والدین آپ کو وزیراعلیٰ سندھ سے مداخلت کی درخواست کرنا برحق اور جائز ہے، لیکن 100 فی صد ہڑتال کے مخالف اور جامعہ کراچی کی ڈھیٹ انتظامیہ کی زبان بولنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ آپ کو مسائل کا پتا نہیں ہے، آپ نے (اگر آپ والدین ہی ہیں تو) یہ درخواست نہیں لکھی بلکہ وائس چانسلر خالد عراقی کا مقدمہ پیش کیا ہے، جو وائس چانسلر کی اگلی مدت کے لیے ایک کمزور امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
جامعہ کراچی: “والدین” کا کھلا خط تماشا بن گیا
