Categories
Education Interesting Facts انکشاف تہذیب وثقافت دل چسپ

ماضی کا صفا و مروہ کیسا تھا؟

سمے وار (خصوصی رپورٹ)
حج کے اہم ارکان میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا بھی شامل ہے۔ آج یہ سعی کرنے والے زائرین ایک نہایت آرام دہ اور ٹھنڈے ماحول میں یہ عبادت ادا کرتے ہیں، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں مسعیٰ (یعنی صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جگہ) نہایت مشقت طلب اور تھکا دینے والی ہوا کرتی تھی۔
تقریباً تیرہ صدیوں تک مسعیٰ کی چھت کھلا آسمان اور فرش مٹی ہوا کرتا تھا۔ تیز دھوپ میں لوگ سعی کرتے تھے۔ جو شخص جبل صفا پر جانا چاہتا، اسے مسجد الحرام سے باہر نکل کر صفا کی پہاڑی پر چڑھنا پڑتا۔ وہاں سے بیت اللہ کا دیدار کر کے قبلہ رخ دعا مانگتا اور پھر جبل مروہ کی طرف روانہ ہو جاتا۔
صفا سے مروہ کے راستے میں ایک نشیبی حصہ آتا تھا، جسے آج ہم “میلین اخضرین” یعنی سبز روشنیوں والا مقام کہتے ہیں۔ یہاں مرد حضرات حضرت ہاجرہ کی سنت کی پیروی میں دوڑتے ہیں۔ یہ عمل سنت ہے جسے حضرت محمد ﷺ نے خود بھی ادا فرمایا اور صحابہؓ کو بھی اس کی تلقین کی۔
وقت کے ساتھ مسعیٰ میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ پہلے صفا پر تقریباً 12 اور مروہ پر 15 سیڑھیاں بنائی گئی تھیں تاکہ چڑھنے میں آسانی ہو۔ اس زمانے میں یہ دونوں پہاڑیاں حرم سے باہر ایک گلی کے سروں پر واقع تھیں اور ان کے اطراف میں مکانات اور دکانیں موجود تھیں۔
مکہ مکرمہ کی تاریخ کے محقق سمیر برقہ کے مطابق مسعیٰ دراصل مسجد حرام کے مشرق میں ایک راستہ تھا جو جنوب میں صفا اور شمال میں مروہ سے ملتا تھا۔ اگرچہ آج وہ پرانی گلی موجود نہیں، مگر صفا (جو نسبتاً بڑی ہے) اور مروہ (جو نسبتاً چھوٹی ہے) کے آثار آج بھی باقی ہیں۔
بعد میں ان پہاڑیوں کی سیڑھیوں کی کئی بار مرمت اور تجدید کی گئی۔ سن 1339ھ میں مسعیٰ میں سایہ فراہم کرنے کے لیے شیڈز لگائے گئے تاکہ سعی کرنے والوں کو دھوپ سے بچایا جا سکے۔ ابتدا میں یہ سایہ صرف اسی حصے پر تھا جہاں دوڑ لگائی جاتی تھی، یعنی آج کے میلین اخضرین پر۔
جب شاہ عبدالعزیز آل سعود نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے مسعیٰ کو ہموار کرنے کے لیے پتھروں سے فرش بنانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے دور میں مسجد الحرام کی تاریخ کی سب سے بڑی توسیع کی گئی، جس کا مقصد زائرین کے لیے سہولت پیدا کرنا تھا۔
اس توسیع کے نتیجے میں مسعیٰ کی چوڑائی کو بڑھایا گیا اور اسے چار منزلوں تک وسیع کر دیا گیا۔ اس کا کل رقبہ 87 ہزار مربع میٹر سے زائد ہو گیا، جبکہ پہلے یہ تقریباً 29 ہزار مربع میٹر تھا۔ یعنی تقریباً 43 ہزار مربع میٹر کا اضافہ کیا گیا۔
آج کے دور میں مسعیٰ کو مکمل طور پر مسجد الحرام کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اب یہاں چار منزلیں موجود ہیں اور برقی گاڑیاں اور وہیل چیئرز بھی دستیاب ہیں، جن کی مدد سے بزرگ اور معذور افراد بھی باآسانی سعی ادا کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights