Categories
Exclusive Media Society دل چسپ سمے وار بلاگ مشعل ظہور ہندوستان

انڈین فلمیں اور نانی کا گھر

سمے وار (تحریر: مشعل ظہور)
یہ 2012 کی بات ہے۔ سیلاب کی آفت کو آئے ہوئے دو سال گزر چکے تھے۔ میری نانی اور ماموں کا خاندان گاؤں کو خیرباد کہہ کر اُستہ محمد سے تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر واقع ایک ویران گاؤں میں جا بسا۔ یہ نیا گھر کھیتوں کے بیچوں بیچ تھا، جسے شہر کے لوگ شاید فارم ہاؤس کہتے ہیں۔ نانی کے گھر کے علاوہ یہاں دور دور تک کوئی گھر نہیں دکھائی دیتا تھا۔ کچھ لوگ اور مزدور طبقہ شاید درختوں کے پشت والی زمین پر آباد تھے۔ گھر کے دائیں طرف، ندی سے کچھ قدم دور ہندو آباد تھے، جن کے بچے ہمارے دوست بن گئے تھے۔
یہ ایک پکا اور بڑا مکان تھا، جس کے چار کمرے اور چوڑا سا صحن تھا۔ گاؤں والے گھر کی طرح کچی دیواریں نہیں تھیں جو سیلاب میں بہہ گئی تھیں۔ یہ علاقہ نسبتاً زیادہ گرم تھا۔ شام تک ہم کمروں کے سایوں میں چھپ کر بیٹھے رہتے اور سہ پہر کو جب سب سو جاتے تو ہم باہر نکل جاتے، حالانکہ اتنی دھوپ میں ہمیں باہر کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔ گھر والے شام کو چارپائیاں اور بستر باہر لے آتے۔ چائے اور باتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ کوئی عورت کپڑے بنتی، کوئی سر میں مہندی لگاتی تو کوئی تیل کی مالش کرواتی۔ مرد بازار کی طرف نکلتے تو اندھیرا ہونے سے پہلے سبزی اور سودا لے کر لوٹتے۔
دوپہر کو ہم پاس والی نہر میں ڈبکیاں مارتے اور شام کو کھیتوں میں فصل کی کٹی ہوئی ڈھیریوں پر چڑھتے اور کھیل کود کر بالوں کا برا حال کر لیتے۔ کاجل اور اس کا بھائی ساگر بھی شام کے وقت ہمارے ساتھ شامل ہو جاتے۔ نیا علاقہ تھا اور سنسان بھی، اس لیے گھر والے آئے دن پابندیاں عائد کرتے رہتے تھے۔ ندی اور کھیتوں کی حدود سے باہر ہمیں جانے کی اجازت نہیں تھی اور ہم خود بھی ڈرپوک تھے۔
کچھ ہفتوں میں کھیل سے دل اُٹھ جاتا اور بوریت طاری ہو جاتی، کیونکہ نہ ہی ہم بچوں کے پاس فون ہوتا تھا اور نہ ہی ٹیلی ویژن۔ ایک ڈی وی ڈی پلیئر تھا اور بالی وڈ فلموں کا ڈھیر تھا، جو ماموں الماری کے اوپر چھپا کر رکھتے تھے۔ گھر والے بڑے مذہبی تھے اور ہمیں فلمیں نہیں دیکھنے دیتے تھے۔ شاید ان کے پاس اپنے سو کام اور باتیں ہوتی تھیں اور ہم بس چارپائی پر لیٹ کر مکھیاں مارتے رہتے تھے۔
ایک شام ساری عورتوں کا ٹبر کسی دعوت کے لیے نکل گیا۔ گھر میں صرف نانی تھیں اور بڑی خالہ، جو تھک ہار کر باہر صحن میں سو گئیں۔ ہم بچوں نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے کمرے کی چھان بین کی اور بالی وڈ فلموں کی ڈی وی ڈیز ڈھونڈ نکالیں۔ شاہد کپور اور سونم کپور کی فلم موسم کی ڈی وی ڈی دلچسپ لگی۔ اان دنوں شاہد کپور کا ہی چرچا تھا۔ ہم سب کو اس کی فلمیں بہت پسند تھیں۔
ہم نے کمرہ بند کر دیا اور سارے کزن فلم دیکھنے بیٹھ گئے۔ فلم کے چند منٹ گزرنے کے بعد خیال آیا کہ کھانے کے بغیر فلم ادھوری ہے، تو پکوڑے بنانے کے لیے باورچی خانے چلے گئے۔ موسم بھی اچھا تھا، آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور ہوا میں خنکی تھی۔ گرم گرم پیاز کے پکوڑے تل کر جیسے ہی کمرے کی طرف واپس آئے، تیز موسلا دھار بارش شروع ہو گئی اور اولے بھی برسنے لگے۔ اتنے میں بجلی بھی چلی گئی اور نانی اور خالہ اٹھ گئیں۔
فلم دیکھنے پر اور باورچی خانے میں گند مچانے پر خالہ الگ سے برسنے لگیں۔ صبح تک بارش تو ختم ہو گئی اور امی سمیت باقی سب بھی گھر آ گئے، مگر امی کا غصہ بادلوں کی گرج کی طرح گونجتا رہا۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights