Categories
Exclusive Karachi MQM انکشاف ایم کیو ایم سمے وار بلاگ قومی سیاست کراچی

کیا حماد صدیقی الطاف حسین کا نظریہ آگے بڑھائیں گے؟


رپورٹ :اظفر الاشفاق
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ایک بار پھر اپنی اندرونی اختلافات کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے، تاہم سینئر کارکنان پرامید ہیں کہ سابق کراچی تنظیمی کمیٹی (کے ٹی سی) کے انچارج حماد صدیقی کی ایک دہائی بعد واپسی سے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو نمایاں تقویت ملے گی۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے سوشل میڈیا پر حماد صدیقی کی متوقع واپسی کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ایم کیو ایم-پی کے کارکنان، اور حتیٰ کہ ایم کیو ایم لندن سے ہمدردی رکھنے والے افراد بھی، سوشل میڈیا پر حماد صدیقی کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کر رہے ہیں اور ان کی جلد واپسی کے لیے امید کا اظہار کر رہے ہیں۔
حماد صدیقی، جو 2013 میں لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی جانب سے کراچی تنظیمی کمیٹی تحلیل کیے جانے کے بعد پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر ملک چھوڑ گئے تھے، 2016 کے بعد سے ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔ 2017 میں بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں دبئی سے حراست میں لے کر پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کی کبھی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ نے انہیں لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا یا جبری گمشدگی کے خلاف کسی عدالت سے رجوع کیا۔
باخبر ذرائع کے مطابق، اگر حماد صدیقی کو بعض قانونی مشکلات کا سامنا نہ ہوتا تو وہ تقریباً دو سال قبل ہی منظرِ عام پر آ سکتے تھے۔
تاہم اب ایک ذریعے کے مطابق ان کی بڑی قانونی رکاوٹ سپریم کورٹ کے بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں فیصلے کے بعد دور ہو چکی ہے، جس میں عدالت نے ایم کیو ایم کے دو کارکنان کو بری کر دیا اور استغاثہ کی جانب سے مبینہ محرک ثابت نہ کیے جانے کی بنیاد پر سازش کے الزام کو عملاً مسترد کر دیا۔
ایم کیو ایم-پی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ قیادت کے نمایاں رہنما ایک دوسرے پر عوامی سطح پر تنقید میں مصروف ہیں، جبکہ تنظیم کو ایسے رہنما کی کمی محسوس ہو رہی ہے جو نچلی سطح کے کارکنان اور عوام سے اسی طرح جڑا ہوا ہو جیسے حماد صدیقی 2009 سے 2013 تک متحدہ ایم کیو ایم کے کراچی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے تھے۔
ذرائع کے مطابق، اگرچہ حماد صدیقی کے منظرِ عام پر آنے کے بعد تنظیم میں ان کے کردار کا فیصلہ مرکزی قیادت کرے گی، تاہم ان کی محض موجودگی بھی فرق ڈالنے کے لیے کافی ہوگی۔
ایک ایم کیو ایم-پی ذریعے نے کہا: “آپ دیکھ رہے ہیں کہ کارکنان سوشل میڈیا پر حماد صدیقی سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موجودہ قیادت کی باہمی چپقلش سے مایوس ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ اپنے دور میں حماد صدیقی سب سے زیادہ قابلِ رسائی شخصیت تھے۔ وہ ہمیشہ کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔”
جب یہ پوچھا گیا کہ حماد صدیقی مصطفیٰ کمال گروپ کی حمایت کرتے ہیں یا ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے دھڑے کی، تو حالیہ پیش رفت سے واقف ایک ذریعے نے کہا: “وہ پارٹی نظم و ضبط کی پابندی کریں گے اور جس کے پاس قیادت ہوگی، اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔”
یاد رہے کہ 2009 سے مئی 2013 تک کراچی میں ایم کیو ایم کا پورا تنظیمی ڈھانچہ حماد صدیقی کو رپورٹ کرتا تھا۔ وہ پارٹی کارکنان اور عوام کو متحرک کرنے، جلسے جلوسوں اور کارنر میٹنگز کے انعقاد، انتخابی مہمات چلانے اور احتجاجی مظاہروں کی رابطہ کاری کے ذمہ دار تھے۔
تاہم ان کے ناقدین نے الزام لگایا کہ کراچی تنظیمی کمیٹی کے انچارج کی حیثیت سے انہوں نے سخت گیر طریقے اختیار کیے، اگرچہ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک مختلف دور تھا۔
ایک اندرونی ذریعے نے کہا: “وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا کوئی متبادل نہیں تھا، کیونکہ گزشتہ 13 برسوں میں کوئی بھی ان کی جگہ نہیں لے سکا۔”
رابطہ کرنے پر ایم کیو ایم-پی کے سینئر رہنما سید امین الحق نے کہا کہ حماد صدیقی ایم کیو ایم کے ایک کارکن ہیں جو ان کے بقول بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس سمیت جھوٹے مقدمات میں پھنسے رہے۔
انہوں نے کہا: “سپریم کورٹ کی جانب سے تمام الزامات ختم کیے جانے کے بعد بلدیہ فیکٹری کیس میں ایم کیو ایم سرخرو ہوئی ہے، اور اسی طرح حماد صدیقی بھی۔”
انہوں نے مزید کہا: “حماد صدیقی نے پارٹی کے لیے قربانیاں دی ہیں، اور ایم کیو ایم پاکستان ان کا خیرمقدم کرے گی۔”
انہوں نے امید ظاہر کی کہ “وہ جلد واپس آئیں گے اور تنظیمی کام کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔”
بہ شکریہ روزنامہ ڈان کراچی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights