Categories
Exclusive Karachi MQM Saad Ahmad ایم کیو ایم سعد احمد سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجرقوم

الطاف حسین کی سیاست اور ان کی صحت

سمے وار (تحریر: سعد احمد)
پاکستان میں الطاف حسین کی سیاست پر پابندی کو لگ بھگ دس سال ہونے کو ہیں۔ 23 اگست 2016 کو ان سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے جو موقف اپنایا تھا اس میں سرفہرست الطاف حسین کی صحت بھی تھی، جس کی بنا پر ان سے غلطیاں ہوتی ہیں اور پھر کراچی میں ان کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے فاروق ستار نے کہا تھا کہ پہلے وہ یہ مسئلہ حل کریں، پھر قیادت سنبھالیں۔
دوسری طرف پہلے ہی الطاف حسین اور ایم کیو ایم سے راہیں الگ کرنے والے مصطفیٰ کمال بھی کچھ ایسی باتیں کر چکے تھے کہ الطاف حسین کی صحت ٹھیک نہیں ہے اور ان کی بحالی صحت کے لیے انھوں نے لندن میں دیگر قریبی ساتھیوں کے ساتھ مل کر انھیں بحالی صحت کے مرکز میں بھی داخل کرا چکے ہیں، جہاں ان کی طبیعت بہتر بھی ہوگئی تھی، لیکن پھر مبینہ طور پر شراب نوشی کے سبب ان کی حالت ویسی ہوگئی۔ واضح رہے مبشر لقمان کے ایک ٹی وی پروگرام میں سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد بھی الطاف حسین کی ڈھکے چھپے الفاظ میں “پاگل” کہہ چکے ہیں۔
تیسری طرف اگر ہم مشاہداتی طور پر دیکھیں تو الطاف حسین گذشتہ دس سالوں میں کئی بار اسپتال میں داخل ہو چکے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی جسمانی صحت کے مسائل کافی زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ 2016 اور اس سے پہلے کے کچھ وقت سے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کی صحت بالخصوص ذہنی صحت کچھ نہ کچھ مسائل سے ضرور دوچار ہے۔ اس کی وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے 22 اگست 2016 کے واقعے کے بعد اپنے معذرت کے بیان میں بھی یہ کہا کہ وہ دبائو میں یہ سب کہہ گئے تھے۔
اگر آپ آج بھی 2008 کے زمانے سے پہلے تک کے الطاف حسین کو دیکھیے یا سنیے، تو واضح طور پر لگتا ہے کہ آج وہ بول چال، خطاب اور حاضر دماغی میں پہلے جیسے نہیں رہے۔ آج ان کی صحت کے مسائل کافی زیادہ بلند سطح پر موجود ہیں۔ جسمانی صحت تو چلیے صرف جسم کو لاغر یا متاثر کرتی ہے، لیکن صحت کے وہ مسائل جو ذہنی صحت یا ذہن کی حالت، حاضر دماغی، یادداشت یا قوت فیصلہ اور دانش مندی کو متاثرکرتے ہیں، وہ بھی واضح طور پر کمزور محسوس کیے گئے۔
کراچی میں ان کی سیاست پر پابندی کے بعد 2016 کے بعد الطاف حسین کی جسمانی صحت، جیسے بڑھے ہوئے وزن میں کافی کمی آئی۔ وہ مختلف جسمانی مشقیں اور ورزش کرتے ہوئے دیکھے گئے اور اگر آج آپ 2016 کی تصاویر دیکھیں تو فرق بہ آسانی محسوس کر سکتے ہیں۔ رہی بات ان کی ذہنی صحت کی تو اس میں بہتری صرف جزوی طور پر محسوس ہوتی ہے، درمیان میں وہ کافی بہتر لگے بھی، لیکن مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر رو بہ صحت نہیں ہیں۔ اب اس کی نوعیت کیا ہے؟ اس حوالے سے کبھی حتمی اور مصدقہ بات سامنے نہیں آسکی۔ آیا یہ بڑھتی ہوئی عمر، مختلف جسمانی عوارض یا دبائو کا نتیجہ ہے یا پھر اس کے سوا اور کوئی مسئلہ ہے۔
الطاف حسین کی زمینی سیاسی منظر نامے سے عدم موجودگی کے عرصے میں ہر کچھ دن کے بعد ایسے اشارے یا ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ الطاف حسین کو سیاست کی اجازت ملنے والی ہے، مگر پھر ایسا نہیں ہو پاتا، اس لیے اب کوئی ایسی بات ہو بھی تو لوگ اسے نظرانداز کرنے لگے ہیں، تاوقتے کہ کوئی عملی مثال دکھائی نہ دے جائے۔
الطاف حسین کی سیاست میں واپسی سے پھر ان کی ذہنی صحت کے سوالات بھی سامنے آتے ہیں۔ حال ہی میں بہادر آباد مرکز میں موجود “ایم کیو ایم” کی ناکام قیادت اور باہمی انتشار کے تذکرے پر ایک جگہ یہی کہتا ہوا سنا گیا کہ الطاف حسین کی ذہنی حالت کی خرابی کو اس میں دوش ہے۔ اگر وہ واپس آ بھی گئے تو بہتر اور معاملہ فہم سیاست کیوں کر کرسکیں گے؟
اس کی ایک وجہ اپنے خاندان کی سیاست سے مکل علاحدگی کے نظریے اور اس کے بہ جائے قریبی ساتھیوں اور لندن رابطہ کمیٹی پر انحصار نے بھی انھیں بہت سے مسائل سے دوچار کیا ہے۔ ایسا کئی بار محسوس ہوا کہ ان کے قریبی ساتھی جو بتاتے ہیں وہ اکثر اسے درست مان کر فیصلہ کر لیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ان کی جلاوطنی اب چوتھے عشرے میں داخل ہو چکی ہے۔ یعنی ان کے جانے کے بعد پیدا ہونے والے بھی اب اپنی نوجوانی سے گزر چکے ہیں اور جو ان کے “نوجوان ساتھی” اور وفادار کارکنان تھے وہ بھی اب ضعیف المعری کی طرف گام زن ہیں۔ ایسے بہت سے عوامل ہیں جو انھیں وہاں بیٹھ کر اندازہ لگانے میں دشواری پیدا کردیتے ہیں۔ اس جلاوطنی اور زمینی حقائق کا درست ادراک نہ ہونے کے ساتھ ذہنی صحت کے سنگین عوامل اور مشکلات پیدا کردیتے ہیں۔
یہاں یہ امر دل چسپ ہے کہ الطاف حسین کے وفاداران کی جانب سے لندن یا کراچی سے کبھی ان کی ذہنی صحت اور حاضر دماغی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ حالاں کہ یہ اس وقت بہت اہم موضوع ہے کہ ایک ایسا “انقلابی قائد” اگر قیادت کرے تو اس کے لیے اس کا کمال ذہانت سے چیزوں کو دیکھنا بہت ضروری ہوتا ہے، ایک ایسے ماحول میں جہاں چہار سو مختلف طریقے کی سازشیں جاری ہیں، 1978 میں شروع ہونے والی تحریک کو نصف صدی ہونے کو ہے۔ ایسے میں بہت سی چیزوں کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر الطاف حسین کی ذہنی صحت کسی قسم کے مسائل سے دوچار ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 10 برسوں میں لندن میں ان کے وفاداران نے اس کا کیا علاج کرایا۔ اگر کرایا ہے تو پھر کیا یہ ذہنی مسائل مستقل نوعیت کے ہیں؟ اس بارے میں تصویر واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الطاف حسین سے محبت کرنے والوں کے ساتھ ان سے شدید نفرت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں اور اب اس کار خیر میں خود ان کے سابقین شامل ہو چکے ہیں، جو یہی باور کرتاتے ہیں کہ اب الطاف حسین عملاً کچھ نہیں کرسکتے، اس لیے تحریک کو وہ ہی آگے لے کر جائیں گے۔
چند دن قبل 11 جون 2026 کو الطاف حسین نے “اے پی ایم ایس او” کے یوم تاسیس کی مناسبت سے لندن میں ایک پروگرام میں شرکت بھی کی، جس میں محدود پیمانے پر ان کے وفاداران نے شرکت کی۔ اس موقع پر الطاف حسین کی ویڈیو میں ان کی پیرانہ سالی اور عمر کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مجموعی منظر نامے کو دیکھیے تو الطاف حسین کی سیاست 2016 سے ایک موڑ پر پھنسی ہوئی ہے، جس میں ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے رویہ بدلنے کی طرف نگاہیں لگی ہیں تو دوسری طرف اتنا ہی اہم سوال الطاف حسین کی ذہنی صحت اور فعال سیاسی کردار کی اہلیت کا بھی ہے۔ الطاف حسین کے چاہنے والوں کو بھی اس جانب سوچ بچار کرنی چاہیے۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، سیاست آگے بڑھانی ہوتی ہے اور اگر آپ اس سیاست کو تحریک کہیں تو پھر تو آپ کو شخصیت یا شخصیات سے بالا تر ہوکر سوچنا پڑتا ہے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights