Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi Media انکشاف تہذیب وثقافت دل چسپ سمے وار بلاگ کراچی

کلفٹن کا ہندو قبرستان

سمے وار (تحریر:عبدالوہاب سلیمان عبداللہ)
کراچی کے مصروف ترین علاقوں میں شمار ہونے والے کلفٹن میں ایک ایسا قدیم قبرستان موجود ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ قبرستان ضیاء الدین اسپتال سے مشرق کی جانب شارع غالب پر، بلاول چورنگی سے کچھ پہلے صرف نصف کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، لیکن نہ اس کا نام کلفٹن کے نقشوں میں نمایاں ہے، نہ گوگل میپ پر اس کی درست شناخت موجود ہے، نہ ہی کراچی کے تقریباً 190 مسلم و غیر مسلم قبرستانوں کی فہرست میں اس کا ذکر ملتا ہے۔تقریباً 60×150 فٹ رقبے پرپھیلے اس قبرستان کا نام گل حسن کلمتی نے اپنی کتاب ”کراچی سندھ جی ماری“ میں ”ہنو مہاراج قبرستان“ لکھا ہے۔ یہ قبرستان اندازاً ڈیڑھ سو سال پرانا ہے اور کیماڑی کے شمشان (ہندؤ مُردوں کو جلانے کی جگہ یعنی مسان روڈ) سے تقریبا ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
آج تک نہ اس کے داخلی دروازے پر کسی سرکاری ادارے نے اس کا نام تحریر کیا اور نہ ہی کسی شہری ادارے نے اس کی تاریخ محفوظ کرنے کی کوشش کی۔اس قبرستان کی فضا کراچی کے دوسرے قبرستانوں سے یکسر مختلف ہے۔ جیسے ہی آپ اندر قدم رکھتے ہیں، چاروں طرف موجود کیکر اور نیم کے درخت شہر کا شور اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ جگہ واقعی ”شہرِ خموشاں” ہو، جہاں خاموشی ہی سب سے بلند آواز بن جاتی ہے۔
ستر کی دہائی کی وہ یادیں آج بھی تازہ ہیں جب کلفٹن جاتے ہوئے یہ قبرستان سڑک سے صاف دکھائی دیتا تھا۔ اس زمانے میں ہائی ٹائیڈ کے دوران نیٹی جیٹی سے آنے والا سمندری پانی اسی مقام تک پہنچ جاتا تھا، لیکن بعد میں زمین ری کلیم ہونے سے منظر ہی بدل گیا۔بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں بلاول ہاؤس اور اطراف کی سیکیورٹی سخت کی گئی تو ایک طویل پری کاسٹ دیوار تعمیر کر دی گئی۔ اسی دیوار نے اس قبرستان کو عوام کی نظروں سے اوجھل کر دیا، یہاں تک کہ نئی نسل کی اکثریت کو اس کے وجود کا بھی علم نہیں۔
مقامی روایات کے مطابق یہاں زیادہ تر میگھوار ہندو کمیونٹی کے افراد مدفون ہیں۔ پچاس کی دہائی میں تدفین کا منظر دیکھنے والے بزرگوں کے مطابق میت کو قبر میں لکڑیوں کے سہارے بٹھایا جاتا، پھر اس پر کنکریٹ کی سلیب رکھ کر مٹی ڈال دی جاتی تھی۔ قبروں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ متعدد قبریں زمین کے برابر ہم وار ہیں، جبکہ بہت سی قبروں پر کتبے موجود ہیں۔ دست یاب کتبوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں آخری تدفین 2019ء میں ہوئی تھی۔میگھوار کمیونٹی کے عقائد کے مطابق کم عمر بچوں کو مکمل طور پر نذرِ آتش نہیں کیا جاتا بلکہ مخصوص مذہبی رسم ادا کرنے کے بعد انہیں دفن کیا جاتا ہے۔ غالب امکان ہے کہ قبرستان میں موجود بعض چھوٹی اور ہموار قبریں انہی بچوں کی ہوں۔
یہاں صرف کراچی کی میگھوار کمیونٹی ہی نہیں بلکہ علی پور، ضلع مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو سالہ ایک مسلمان بچے کی قبر بھی موجود ہے۔ قریبی آبادی گلشنِ سکندر آباد کے ایک رہائشی کے مطابق ان کے یہاں بچہ مردہ پیدا ہوا تھا، جسے اسی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ دست یاب معلومات کے مطابق یہاں مدفون بزرگ ترین فرد پیتھا واہاڈا مکوانا ہیں، جن کی تاریخِ پیدائش 1922ء اور تاریخِ وفات 1997ء درج ہے۔ آج بھی واضح طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ اس تاریخی قبرستان کی دیکھ بھال اور انتظامی ذمہ داری کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ، کے ڈی اے، بلدیاتی اداروں یا کسی اور ادارے کے پاس ہے۔کراچی کی تاریخ میں ایسے کئی مقامات موجود ہیں جو وقت کی گرد میں چھپ چکے ہیں۔ یہ گمنام قبرستان بھی انہی خاموش گواہوں میں سے ایک ہے۔
۔۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights