سمے وار (تحریر: اسد جاوید)
صبح کے آٹھ بجنے میں ابھی کچھ منٹ باقی ہیں، ایک شخص موٹر سائیکل پر اپنے بچے کو اسکول چھوڑنے جا رہا ہے، پھر اسے دفتر پہنچنا ہے۔بچہ پیچھے بیٹھا راستے میں کھڑی ہوئی آئس کریم کی گاڑی کو دیکھ رہا ہے اور باپ کو بار بار بتا رہا ہے کہ آج اس کی کاپی پر اسٹار ملا ہے، آگے اشارہ سرخ ہوتا ہے۔باپ بریک لگاتا ہے، بچہ خاموش ہو جاتا ہے۔
اس لمحے انہیں کہاں خیال ہوگا کہ سڑک پر زندگی کتنی بار دوسروں کی غلطی کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ یہ کسی ایک حادثے کی روداد نہیں۔ اس شہر میں روز یہی منظر دُہرایا جاتا ہے، جہاں گھر سے نکلتے ہوئے آدمی کو منزل کا پتا ہوتا ہے، راستے کا اعتبار نہیں۔
کراچی میں صبح کی سڑک ایک عجیب مجلس ہے۔ رکشے والے کو سواری پکڑنے کی جلدی ہے، تو دفتر جانے والے کو حاضری لگانے کی فکر بس والا اپنی گاڑی کا اگلا حصہ ذرا سا آگے گھسا دے تو پانچ موٹر سائیکلیں پیچھے گویا دبک کر رہ جاتی ہیں۔ کہیں بڑا ٹرک کھڑا ہو تو چھوٹی گاڑیوں کے ڈرائیور ایسے بچ کر نکلتے ہیں جیسے کسی تنگ گلی میں بھاری الماری رکھ دی گئی ہو۔ ہم سب اس منظر کے عادی ہیں، مگر عادت کسی خطرے کو بے ضرر نہیں بنا دیتی۔
پچھلے برسوں میں بھاری گاڑیوں سے ہونے والے حادثات پر کراچی میں بار بار یہ سوال اٹھا ہے کہ سڑک آخر کس کی ہے۔ جنوری ۲۰۲۶ءمیں شائع ہونے والی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ءکے دوران شہر میں 800 سے زیادہ افراد ٹریفک حادثات میں جان سے گئے۔ اس گنتی میں اس شخص کا نام کہاں ہے جسے شام کو بچوں کے لیے پھل لے کر آنا تھا؟ اس طالب علم کی ادھوری پڑھائی اور وہ کرسی کہاں نظر آتی ہے جو اچانک خالی رہ گئی؟ اعداد کی ضرورت اپنی جگہ، مگر بر عدد کے پیچھے ایک پورا گھر ہوتا ہے۔
حادثے کے فوراً بعد ہماری گفتگو اکثر اسی سوال سے شروع ہوتی ہے، غلطی کس کی تھی؟ یہ پوچھنا ضروری ہے، مگر ہم شاید ہی آگے یہ پوچھتے ہیں، اگلا حادثہ روکنے کے لیے ہم نے کیا بدلا؟ سڑک ویسی ہی خراب رہتی ہے، زیبرا کراسنگ کے نشان مٹے رہتے ہیں، بھاری گاڑیوں کی حالت دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا اور چوراہے پر اشارے سے زیادہ زور آور گاڑی کا حکم چلتا ہے، حادثے کی خبر تو یاد رہتی ہے، اس کی وجہ چند دن بعد بھول جاتی ہے۔
ایک دوست نے سڑک پار کرنے کے بارے میں بڑی تلخ بات کہی تھی۔ کہنے لگا، یہاں پیدل آدمی کو راستہ نہیں ملتا، اجازت مانگنی پڑتی ہے۔ واقعی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہیں فٹ پاتھ دکان کا حصہ بن چکا ہے، کہیں اس پر موٹر سائیکلوں کی قطار کھڑی ہے۔ کسی بوڑھے کو دوسری طرف جانا ہو تو اسے پہلے گاڑیوں کی رفتار کا حساب لگانا پڑتا ہے، پھر اپنی ٹانگوں کا۔کوئی ماں بچہ اٹھائے کھڑی ہو تو آنکھوں ہی آنکھوں میں گاڑی والوں سے کہتی ہے کہ بھائی بس دو قدم گزرنے دو سڑک پر!
سب سے کمزور آدمی کو سب سے زیادہ محفوظ ہونا چاہیے۔ انسان کی عزت کا اتنا خیال تو رکھا جائے۔ حادثے کے بعد تصویریں اور ویڈیوز بنانے کا چلن ایک اور اذیت بن گیا ہے۔ کسی کا جوتا سڑک پر پڑا ہے، کہیں ٹفن کھلا پڑا ہے اور لوگ اس کے گرد موبائل لیے کھڑے ہوئے ہیں کچھ لوگ مدد کرتے ہیں، انھیں سلام، مگر بعض کو زخمی شخص سے زیادہ اپنی ویڈیو کے اچھے زاویے کی فکر ہوتی ہے۔ کسی کی تکلیف کو یوں تماشا بنا لینا بھی بے حسی ہے۔ کسی حادثے کی جگہ پہنچیں تو پہلے اپنی حفاظت کا خیال رکھیں، پھر فوری مدد کریں اور متعلقہ امدادی اداروں کو اطلاع دیں۔ ہر منظر دنیا کو دکھانا ضروری نہیں اور وہ بھی کسی جان کو جوکھم میں ڈالے رہنے کی قیمت پر!
اس بحث میں ہر ڈرائیور کو ایک ہی نظر سے دیکھنا بھی ٹھیک نہیں تیز رفتاری بے احتیاطی اور قانون توڑنے پر جواب طلبی ضرور ہونی چاہیے۔ ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بڑے ٹرک کا ڈرائیور کبھی لمبی ڈیوٹی اور تھکن سے چُورر ہوتا ہے، کبھی مالک کے دبا¶ میں کسی کی روزی بچانے کے لیے دوسرے کی جان خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ڈرائیور کے ساتھ پورے انتظام کو بھی جواب دینا ہوگا گاڑی کی فٹنس اور ڈرائیور کے کام کے اوقات کون دیکھتا ہے؟ سڑک کی تعمیر نگرانی اور سزا کا انتظام کیسا ہے؟ ان سب باتوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔
گھروں میں ہم بچوں کو سڑک پر پیدل چلتے وقت احتیاط تو سکھاتے ہیں، مگر خود ان کے سامنے کیا مثال رکھتے ہیں؟ ابو جلدی میں سرخ اشارے پر نکل جائیں اور پیچھے بیٹھے بیٹے کو سمجھائیں کہ سگنل توڑنا بری بات ہے، تو یہ نصیحت کتنی دیر یاد رہے گی؟ گاڑی کی اگلی نشست پر بیلٹ صرف پولیس سے بچنے کے لیے لگائیں یا موٹر سائیکل پر ہیلمٹ محض چالان کے ڈر سے پہنیں تو اپنی حفاظت کا خیال کہاں رہا؟ کسی کی نظر بنتے ہی احتیاط چھوڑ دینا تو اداکاری ہے۔
پر بڑے حادثے کے بعد چند دن کا جوش کافی نہیں خطرناک مقامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، اشارے کام کریں اور پیدل چلنے والوں کے راستے کھلے رہیں۔ ٹریفک قوانین طاقت ور اور کمزور، سب کے لیے ایک جیسے ہوں۔ شہری ٹیکس دیتے ہیں تو انھیں ایسی سڑک کا حق بھی ہے جس پر چلنا مستقل امتحان نہ ہو۔ قانون کی سختی بھی تبھی قابل قبول لگتی ہے جب انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
کوئی ڈرائیور وقت سے دس منٹ پہلے پہنچ جائے، تو خود کو بڑا ماہر سمجھنے لگتا ہے۔ مگر ان دس منٹ کے لیے کسی کی پوری زندگی دا¶ پر لگ جائے تو یہ کیسی مہارت ہوئی؟ ہم نے رفتار کو ہنر اور ٹھیرنے کو کمزوری سمجھ لیا ہے۔ شہر کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو وقت پر پہنچنے کے ساتھ صحیح سلامت پہنچنے کی بھی فکر کریں۔
شام کے وقت گھروں میں دروازوں کی طرف دیکھنے کا ایک خاص انداز ہوتا ہے۔ کوئی بار بار گھڑی نہیں دیکھتا، بس کسی آیت پر نظر آجاتی ہے آنے والا جوتے اتارتے ہوئے شکایت کرے کہ آج ٹریفک بہت تھا تو گھر والے جھنجھلا بھی لیتے ہیں۔ یہی جھنجھلاہٹ کتنی مبارک ہے، یہ اس گھر سے پوچھیے جہاں اب کسی کے لوٹنے کا انتظار باقی نہیں رہا۔ ہمیں ایسی سڑکیں چاہییں جہاں آدمی گھر سے نکلے تو اس کی واپسی محض دعا کے سہارے نہ ہو۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
رفتار کو ہنر اور ٹھیرنے کو کمزوری سمجھ لیا!
