سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)
چچا غالب کہہ گئے کہ
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
پاکستان اور قرضوں کے سلسلے کوئی آج کے نہیں ہیں، اس کی تاریخ قیام پاکستان کے بعد محلاتی سازشوں کے بعد ہی شروع ہوگئی تھی جب بانیان پاکستان کو راستے سے ہٹا کر طاقت کے تکون نے اقتدار پر دائمی قبضہ کیا۔
پاکستان پر قرض کا مجموعی حجم، بیرونی قرض، اور حکومت کے سالانہ قرضوں پر سود کی ادائیگی تین مختلف چیزیں ہیں۔ پاکستان پر موجودہ قرض مارچ 2026 کے اختتام تک تقریباً 83.285 ٹریلین روپے، یعنی 83 ہزار 285 ارب روپے تھا۔ اس میں غیر ملکی اور ملکی دونوں قرضے شامل ہیں۔
وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے تاریخی اعداد و شمار کے مطابق
جون 2018 میں 24.953 ٹریلین روپے
جون 2020 میں 36.399 ٹریلین روپے
جون 2022 میں 49.242 ٹریلین روپے
جون 2023 میں 62.881 ٹریلین روپے
جون 2024 میں 71.246 ٹریلین روپے
جون 2025 میں 80.518 ٹریلین روپے
مارچ 2026 میں 83.285 ٹریلین روپے
جون 2018 سے مارچ 2026 تک مجموعی سرکاری قرض تقریباً 58.3 ٹریلین روپے بڑھا۔ لیکن یہ اضافہ صرف نئے قرض لینے کا حساب نہیں ہے؛ اس میں قرض پر سود، روپے کی قدر میں تبدیلی، قرض کی ادائیگیوں اور دوسرے مالیاتی عوامل کا اثر بھی شامل ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے 1958 میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے قرض پروگرام سے رجوع کیا۔ یہ بیرونی مالی معاونت کی تاریخ کا اہم موڑ تھا۔ اس کا مقصد ادائیگیوں کے توازن اور زرمبادلہ سے متعلق مسائل میں مدد لینا تھا۔
1960تا 1970 کی دہائی: ترقی اور جنگوں کے اخراجات اور 1980تا 2000: بیرونی قرض اور ادائیگیوں کے دبائو کا سلسلہ رہا، پھر 2017 تک قرض کے حجم میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا
آئی ایم ایف کے مطابق، 31 اگست 2026 تک پاکستان کے لیے مختلف ادوار میں منظور شدہ قرض پروگراموں کی مجموعی تاریخ میں متعدد معاہدے شامل ہیں۔ ان میں ہر منظور شدہ رقم پوری وصول نہیں کی گئی، اور پرانے قرضوں کی ادائیگی بھی ہوتی رہی ہے۔
آئی ایم ایف کے حالیہ پروگراموں میں 2019، 2023، 2024 اور 2025 کے پروگرام شامل ہیں، دسمبر 2025 کے سرکاری قرض بلیٹن میں کثیر ملکی اداروں کا حصہ تقریباً 46 فی صد تھا، جب کہ آئی ایم ایف کے ذمے واجب الادا قرض بیرونی سرکاری قرض کا تقریباً 10.9 فیصد تھا۔ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل ہیں۔
اس لیے پاکستان کا بیرونی قرض صرف آئی ایم ایف سے لیا گیا قرض نہیں؛ اس میں عالمی مالیاتی اداروں، دوسرے ممالک، کمرشل بینکوں اور بین الاقوامی بانڈز کی رقم بھی شامل ہوتی ہے۔ دسمبر 2025 کے سرکاری بلیٹن میں بیرونی سرکاری قرض تقریباً 92.9 ارب ڈالر، یعنی 26.011 ٹریلین روپے تھا۔ اس میں کثیر ملکی ادارے سب سے بڑا گروہ تھے۔
حکومت نیا قرض لے کر پرانے قرض کی ادائیگی کرتی ہے۔ اس صورت میں پرانا قرض ادا ہو جاتا ہے، لیکن نئی ذمہ داری پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے قرض کی مجموعی رقم صرف اس بات سے نہیں سمجھی جا سکتی کہ حکومت نے کتنی رقم نئے سرے سے لی۔
2025–26 کے پہلے نو ماہ میں پاکستان نے بیرونی قرض کی مد میں تقریباً 6.25 ارب ڈالر کی اصل رقم واپس کی، جبکہ اسی عرصے میں نئے بیرونی قرضوں کی وصولیاں تقریباً 6.10 ارب ڈالر تھیں۔ ان اعداد میں بعض دیگر مالیاتی ذرائع کی درجہ بندی الگ ہے، لیکن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرض کی وصولی کے ساتھ ساتھ ادائیگی بھی مسلسل جاری رہتی ہے۔
وہ 2018 میں ایک سونامی بلکہ کیا کہتے ہیں تبدیلی سرکاری آئی تھی جس کے سربراہ عمران خان نیازی فرمایا کرتے تھے کہ میں مرجائوں گا قرض نہیں لوں گا، انھوں نے بھی اپنا وعدہ وفا نہیں کیا اور پرنالہ وہیں بہتا رہا اور آج بھی بہہ رہا ہے۔ تبدیلی سرکار نے بگاڑ کا ذمہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی پر ڈالا اور ان کے بعد آنے والوں نے نیازی سرکار پر۔۔ رہ گئے عوام جو کبھی اسے دیکھتے ہیں اور کبھی اُسے، پھر اپنی بے بسی پر آنسو بہا کر بیٹھ جاتے ہیں۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
پاکستان پر قرضوں کا بوجھ کب سے اور کیوں ہے؟
