Categories
Exclusive Interesting Facts Media USA انکشاف تعلیم دل چسپ ذرایع اِبلاغ سمے وار بلاگ عالمی منظرنامہ

کیا سعودی ریاست ختم ہونے کو ہے؟

سمے وار (تحریر: رشید ودود)
ان دنوں شرق سے غرب تک بس ایک ہی بات کہی جا رہی ہے کہ سعودی عرب کے دن اب گنے جا چکے۔ جیوپالیٹکس کے گلیاروں میں ہم آج بھی اجنبی ہیں لیکن تاریخ کے کوچے میں تھوڑی بہت ہماری بھی چلت پھرت ہے اس لیے میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو۔
پہلی سعودی ریاست کو جب ابراہیم پاشا نے ختم کیا تب بھی یہی سمجھا جا رہا تھا کہ آل سعود اب تاریخ کا حصہ بن جائیں گے لیکن آل سعود تاریخ سے نکل کر پھر حال میں آ گئے۔ پہلی سعودی ریاست کے خاتمے کے بعد ترکی بن عبداللہ نے 1824ء میں دوسری سعودی ریاست قائم کی پھر یہ دوسری ریاست بھی آل رشید کے ہاتھوں 1891 میں ختم ہو گئی۔ ایسا لگا کہ آل سعود اب تاریخ کے کوڑے دان میں مکمل طور پر دفن ہو چکے ہیں لیکن بارہ سال کے بعد ہم حیرت انگیز طور پر دیکھتے ہیں کہ ایک سعودی شہزادہ کویت کے صحرا سے نکل کر اسی آل رشید کی سلطنت کو پلٹ رہا ہے جس نے انہیں ریاض سے بے دخل کیا تھا۔ اس سعودی شہزادے نے ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جسے ہم آج سعودی عرب کے نام سے جانتے ہیں۔
جدید سعودی عرب کے اس بانی کا نام عبدالعزیز بن عبدالرحمن تھا۔ عبدالعزيز نے صدیوں کے بعد ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جس نے جزیرہ نمائے عرب کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ عبدالعزیز جب مرا تو وہ عربوں کو متحد کر چکا تھا تب سے لے کر آج تک جب بھی کوئی سعودی بادشاہ مرتا ہے تو خاندانی چپقلش اور قبائلی تعصب کا حوالہ دے کر سعودی عرب کے خاتمے کی پیش گوئیاں کی جاتی ہیں۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ مسئلہ ایم بی ایس نہیں سعودی عرب ہے۔ غضب تو کنگ سلمان نے کیا کہ اقتدار کی منتقلی میں پرانی روایت سے ہٹ کر اگلی نسل کو مرکزِ اقتدار بنا دیا۔ اب زوال کی خواہش رکھنے والوں کی باقاعدہ باچھیں کھل گئیں۔ پھر کنگ سلمان کا یہ لونڈا بھی بڑا منچلا ہے۔ نوجوان ہے، گرم خون ہے، اس لیے اسے شکار کرنا بھی آسان نظر آ رہا ہے۔
2017 میں ایم بی ایس نے جو ہمہ گیر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا اس میں چند ہی گھنٹوں کے اندر درجنوں شہزادوں، وزراء، فوجی حکام اور ارب پتی تاجروں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ بہت ساری اہم شخصیات کی معطلی و گرفتاری بھی ہوئی تھی اس اقدام کا مقصد بظاہر بدعنوانی کا خاتمہ بتلایا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایم بی ایس نے اپنے مخالفین سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے لیکن بین السطور کو جب ہم ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ شاہزادے کو شکار کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن پلٹ کر اسی نے شکار کر لیا۔ اندرون ملک جب شاہزادہ بچ گیا تو پھر اسے بین الاقوامی سطح پر شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔ جمال خاشقجی کے قتل کو بنیاد بنا کر پوری دنیا میں شاہزادے کو سیاسی اچھوت بنانے کی کوشش کی گئی۔ بائڈن نے الیکشن کیمپئن میں ایم بی ایس کو دیوار سے لگانے کا وعدہ بار بار کیا لیکن پھر یوکرین جنگ کے باعث جب معاشی بحران بڑھا تو ہماری آنکھوں نے جدہ میں وہ منظر بھی دیکھا جہاں نوجوان ایم بی ایس بوڑھے بائڈن کے مکے سے مکا ٹکرا رہا تھا۔ شاہزادہ دوسری بار بھی شکار ہوتے ہوتے رہ گیا لیکن کمبخت ہے بڑا سخت جان۔ پتہ نہیں کیسے پلٹ کر اپنے شکاری ہی کا شکار کر لیتا ہے۔
اب تیسری بار شاہزادہ پھر نرغے میں ہے۔ اب کی بار تو اس کا بچنا محال نظر آ رہا ہے اس لیے کہ اب کی بار وہ ایک جیو پالیٹکس کے ایک ماہر کے بقول یمن میں اپنے خصیے پھنسا بیٹھا ہے لیکن 2017 سے 2022 کے درمیان ہم دیکھتے ہیں کہ ایم بی ایس نہ صرف اپنے خصیوں کو بچا لیتا ہے بلکہ پھنسانے والوں کو خصیہ برداری پر مجبور بھی کر دیتا ہے۔ آگے کا حال ہمیں نہیں معلوم لیکن ماہرین جیو پالیٹکس کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں ہیں اس لیے اب وہ بندوق روبن رائٹ کے کاندھے پر رکھ کر چلا رہے ہیں۔ ہمارے پاس ایسا کوئی کاندھا نہیں اس لئے ہم خاموش ہیں۔
یمن وہ جگہ ہے جہاں عثمانی ہانپنے لگے تھے۔ کرنل جمال عبدالناصر کا جہاں کس بل نکل گیا تھا۔ جہاں کے بارے میں حمید گل نے کہا تھا کہ یمن ایک دلدل ہے وہاں یہ نالائق شاہزادہ جا کر پھنس گیا ہے۔ ماہرین جیو پالیٹکس یوکرین اور روس کی جنگ میں پوتن کی لیاقت پر عش عش کر سکتے ہیں۔ افغانستان میں پاکستان کی بمباری کو ایک شاندار موو کا نام دے سکتے ہیں۔ کویت کیلئے وہ خواہش کر سکتے ہیں کہ الحشد الشعبی اس کا وجود ختم کر دے۔ یہی لوگ بحرین میں شیعہ عوام کی حمایت کر سکتے ہیں۔ قطر و إمارات کو ایران کے آگے سر بسجود دیکھ کر خوش ہو سکتے ہیں لیکن یہی لوگ پتہ نہیں کیوں ایم بی ایس کو پھوٹی آنکھ سے بھی دیکھنا نہیں چاہتے حالانکہ سلمان کے لونڈے کا جرم کوئی انوکھا بھی نہیں ہے۔
سعودی باقی رہے یا ختم ہو جائے ہماری بلا سے۔ ہم تو عبدالمطلب کی طرح ہیں کہ بھائی جس کا گھر ہے وہی حفاظت بھی کر لے گا رہے جیو پالیٹکس کے ماہرین تو ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ عمر خضر لے کر آئے ہیں۔ یہاں ہم اپنے پاکستانی قاریئن سے معذرت چاہتے ہوئے ذرا ان جیو پالیٹکس کے ماہرین سے کچھ سوال کرنا چاہ رہے ہیں۔ امید ہے کہ ہمارے پاکستانی قاریئن ان سوالات کا برا نہیں مانیں گے نا ہی ہماری نیت پر کوئی شک کریں گے۔
دنیا میں کن کن ممالک نے آب حیات پی رکھا ہے؟
مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے کیا پاکستان ختم ہو گیا؟
جس طرح کا خدشہ ان دنوں آپ سعودی عرب کے حوالے سے ظاہر کر رہے ہیں اس طرح کا خدشہ تو روز پاکستان کے حوالے سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ بلوچستان۔ یہ سندھو دیس۔ تو کیا ان سب خدشات کی بنا پر پاکستان کا وجود داؤں پر لگا ہوا ہے؟
محمد بن سلمان رہے یا جائے لیکن اتنا تو واضح ہو چکا ہے کہ سلمان کے اس لونڈے کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔ اگر یہ ہلکا ہوتا تو نہ ہی 2017 میں اسے شکار کرنے کی کوشش کی جاتی اور نہ ہی اس میں ناکامی کے بعد اسے اچھوت بنانے کی کوشش کی جاتی۔ ہم اس عرب نوجوان میں کچھ نہیں بہت کچھ دیکھ رہے ہیں اور شاہ فیصل کا انجام بھی ہم نے دیکھ رکھا ہے اس لیے خدشہ تو ہمارے بھی ذہن میں ہے۔ اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے لیکن اگر سلمان کا لونڈا رہ گیا تو ہم اسے جیو پالیٹکس کے ماہرین کے سینے پر مونگ دلتا ہوا بھی دیکھیں گے۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔
تاریخ سے ہم نے یہی سبق سیکھا ہے کہ بعض اوقات نظریات اور سلطنتیں کسی ایک شخصیت کی مرہون منت ہو کر رہ جاتی ہیں۔ شکاریوں کو یہی لگتا ہے کہ بس یہی روڑا ہے اور آج ایم بی ایس اپنی تمام تر نالائقی کے باوجود وہ اہمیت حاصل کر چکا ہے کہ جسے سد سکندری کہا جا سکتا ہے۔ ہماری نظر میں یہ سعودی عرب نہیں بلکہ جزیرۃ العرب کیلئے لڑ رہا ہے۔ عظیم اسرائیل اور عظیم فارس دونوں کی آنکھوں میں یہ کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ محمد بن سلمان کی پالیسیوں سے اختلاف آپ کا پشتینی حق ہے۔ اس کمبخت کی غلطیوں آپ گرفت نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا؟ وہ نہ ہوتا تو آپ کالم کس پر لکھتے؟ ویڈیو بنا کر اس کا محاسبہ کون کرتا لیکن یہ فرض کر لینا کہ ان کی سیاسی بساط لپیٹ دینے سے تاریخ کا ایک باب بند ہو جائے گا شاید تاریخ کو ضرورت سے زیادہ آسان سمجھنا ہے۔ سعودی عرب کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ لیکن جیوپالیٹکس کے ماہرین سے ہماری بس ایک گزارش ہے کہ تاریخ کی کتابیں بھی کبھی کبھار کھول لیا کریں۔ ریاستیں صرف خواہشات سے ختم نہیں ہوتیں اور نہ کسی حکمران کے خلاف پیش گوئیاں کر دینے سے تاریخ کا دھارا بدل جاتا ہے۔ سلمان کا لونڈا رہے یا جائے یہ فیصلہ تاریخ کرے گی البتہ اسے ہلکے میں لینے والوں کو تاریخ پہلے بھی کئی بار حیران کر چکی ہے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights