Categories
Education Exclusive Mishaal Zahoor Society تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ سمے وار بلاگ مشعل ظہور

وہ سرخ دوشالہ اوڑھا پیڑ ہے یا۔۔۔

سمے وار (تحریر: مشعل ظہور)
کراچی کی چند دنوں کی مہمان سردیاں جب رخصت ہوتی ہیں، تب سیمل کی شاخیں چاروں طرف پھیل جاتی ہیں جیسے وہ بہار اور پرندوں کی آوازوں کا انتظار کر رہی ہوں۔
فروری سے مارچ کے درمیان شہر کے کئی حصوں میں یہ درخت سرخ پھولوں کی جیسے ایک چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ دور سے دیکھو تو لگتا ہے جیسے ہری شاخوں پر کسی نے لال رنگ کے چھوٹے چھوٹے بلب سجا دیے ہوں۔
مجھے یاد نہیں میں نے کب اس درخت میں دل چسپی لینا شروع کی، لیکن یونی ورسٹی کے دنوں سے یہ میرے روزمرہ کے راستے کا ایک ایسا حصہ بن گیا تھا ۔ ان تین چار سالوں میں میں نے اس درخت کو کئی روپ بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ کبھی اس کی شاخیں بالکل سفید خشک گویا بے جان دکھائی دیتی ہیں۔ کبھی یہ شاخیں گھنے سبز پتوں میں لپٹ جاتی ہیں، تو کبھی کسی دلہن کی طرح لال دوشالہ اوڑھ لیتی اور اس کے پھول سر جھکا کر شراماتے ہیں۔ پھر کسی تیز جھونکے سے یہ سرخ گل زمین پہ آ گرتے اور آنے جانے والوں اور گاڑیوں تلے مسلے جاتے ہیں۔
۔ سخت گرمی میں کچھ آوارہ کتے اس کے سائے تلے بے جان پڑے رہتے۔ جنھیں کبھی شرارتی کوؤں کا جھنڈ پریشان کرنے پہنچ جاتا۔
فٹ پاتھ پر کھڑے اس درخت کے نیچے ایک بوڑھا موچی بیٹھتا ہے۔ اس کے سامنے جوتوں کا ڈھیر لگا ہوتا ہےجنھیں وہ روز کپڑے کے ایک پرانے ٹکڑے سے زور زور سے رگڑ تا ہے۔ چند قدم دور ایک نوجوان دیوار کے ساتھ بیلٹیں سجا کر بیچتا ہے۔ کانوں میں ’ہینڈز فری‘ لگائے وہ اپنے سر کو آہستہ آہستہ دائیں بائیں ہلاتا رہتا ہے۔ جیسے کسی دھن پر جھوم رہا ہو یا کسی شعر پر لطف لے رہا ہو۔ وہ اپنی ہی دنیا میں کھویا رہتا ہے۔ اسے معلوم نہیں تھا میں ہر روز سب کچھ مشاہدہ کر تی تھی۔
بس اسٹاپ پر بچے اسکول کی وردیوں میں اپنی ماؤں سے لپٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ کسی کی آنکھوں میں کچی نیند ہے، تو کوئی منھ بناتا ہے اور کوئی شاید ابھی تک پوری طرح جاگا بھی نہیں کہ اسکول کے لیے تیار کر دیا گیا۔
میں نے ان پھولوں کو سڑک پر گرتے اور بکھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ لوگوں کے قدموں تلے مسلتے دیکھا ہے۔ ان کی سرخی آہستہ آہستہ مٹی میں گھل جاتی اور وہ نرم، گیلے سے گودے میں بدل جاتے ہیں۔
یہ پھول زیادہ دیر تک ٹہنیوں پر ٹک نہیں پاتے۔ گرمی اور خشک موسم میں جب اس کے پھول کھلتے ہیں تو ان کے بعد روئی جیسے ریشوں میں لپٹے بیج نکلتے ہیں۔ ہوا انھیں دور دور تک لے جاتی ہے۔ پھر بارش ہونے پر ان میں سے کچھ بیج زمین میں جڑ پکڑ لیتے ہیں اور اگنے میں دیر نہیں لگاتے۔ سیمال کو باقی درختوں کے نسبتاً اتنی پانی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

سیمل، جسے پاکستان میں سُمبل بھی کہا جاتا ہے، کراچی کی سڑکوں پر نظر آنے والا یہ انوکھا درخت پورے برصغیر میں پاۓ جاتے نہیں۔ اس کا تعلق برصغیر کی تاریخ، لوگوں کے عقیدوں، لوک کہانیوں اور روزمرہ زندگی سے بھی رہا ہے۔
ہندو روایات میں سیمل کا تعلق بھگوان وشنو سے جوڑا جاتا ہے۔ قدیم ہندوستانی قصوں میں بھی اس درخت کا ذکر ملتا ہے۔ محققین ورتیکا جین اور ان کے ساتھیوں کے ایک تحقیقی مقالے میں ہندوستانی دیومالا کی ایسی نسوانی روحوں کا ذکر ہے، جنھیں درختوں پر رہنے والی یَکشیاں کہا جاتا تھا۔ بعض روایات میں عورتیں ان سے اولاد کی دعا مانگتی تھیں۔ مختلف مقامی برادریوں کے لیے ایسے عقیدے درختوں کو محفوظ رکھنے کا سبب بھی بنے۔
راجستھان کے بعض قبائلی گروہ سیمل کی لکڑی جلانے سے گریز کرتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک ایسا کرنا بدقسمتی کا سبب بن سکتا تھا۔ کچھ برادریاں درخت کو مقدس سمجھتی تھیں اور اس کے کسی حصے کو دوا کے طور پر بھی استعمال نہیں کرتی تھیں۔ درخت ان کی زندگی، پہچان اور روایات کا حصہ تھے۔ ان کا ذکر لوک گیتوں میں بھی ملتا ہے۔
بھارت کی ریاست گجرات کے گراسیا قبیلے کا ایک گیت، ’’ہیم لو روپالو رے‘‘، سیمل کا درخت لگانے کی بات کرتا ہے۔ ایسے گیت صرف درخت لگانے کی ترغیب نہیں دیتے، بلکہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ قدرت کو نقصان پہنچانے کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
یہ جان کر مجھے حیرت ہوئی کہ جس درخت کے نیچے میں روزمرہ زندگی کی معمولی سی جھلکیاں دیکھتی تھی، وہ کئی نسلوں کی یادوں اور عقیدوں میں بھی زندہ رہا ہے۔ میرے لیے وہ ایک خاموش ساتھی تھا، لیکن دوسروں کے لیے وہ مقدس تھا، کسی لوک گیت کا حصہ تھا، یا ایک ایسی نشانی جسے آنے والی نسلوں کے لیے بچانا ضروری سمجھا جاتا تھا۔
اس درخت کی اہمیت صرف انسانوں کی کہانیوں تک محدود نہیں۔ اس کے پھول، بیج، پتے، شاخیں اور تنا ایک پورے قدرتی نظام کا حصہ ہیں۔ اس کے بڑے سرخ پھول شہد کی مکھیوں، پرندوں اور دوسرے چھوٹے جانوروں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ پھولوں کا رس ان کے لیے خوراک بنتا ہے، جب کہ مکھیاں پالینیشن میں مدد کرتی ہیں۔ اس عمل سے پودوں کی تعداد میں اضافا ہوتا ہے۔
کوئل، مینا، بلبل، سبز کبوتر، باربیٹ اور طوطے جیسے پرندے اس درخت پر آتے ہیں۔ کوئی اس کی شاخ پر بیٹھتا ہے، کوئی پھولوں کے آس پاس منڈلاتا ہے اور کوئی اس کے تنے پر اپنی جگہ بناتا ہے۔ ان سب کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ایک درخت صرف اپنے لیے نہیں جیتا۔ وہ اپنے ساتھ کئی دوسری زندگیوں کو بھی جگہ دیتا ہے۔
یہ سب جاننے کے بعد میں جب اس درخت کے پاس سے گزرتی ہوں تو مجھے اب صرف اس کی شاخیں، پھول یا اس کے نیچے بیٹھے لوگ نظر نہیں آتے۔ میں ایک ایسے نظام کو دیکھتی ہوں جس میں ہر چیز کسی نہ کسی طرح دوسری چیز سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک پھول کسی پرندے کے کام آتا ہے، ایک پرندہ زرِ گل پھیلانے میں مدد دیتا ہے، ہوا بیج کو دور لے جاتی ہے، اور بارش اسے نئی زندگی دیتی ہے۔ اس پورے عمل میں کسی ایک چیز کی اہمیت کو الگ کرکے دیکھنا شاید ممکن ہی نہیں۔
اور پھر میں اپنے بارے میں سوچتی ہوں۔
ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر چیز تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔ لوگ اپنی منزلوں، کام یابیوں اور دوسروں سے آگے نکل جانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر ہم کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر رہے، اگر دنیا ہمیں نہیں دیکھ رہی، اگر ہمارا نام کہیں درج نہیں ہو رہا، تو شاید ہم کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔ ہم اپنی زندگیوں کو دوسروں کی زندگیوں سے ناپنے لگتے ہیں اور اس دوڑ میں اپنی چھوٹی چھوٹی خوبیوں کو بھول جاتے ہیں۔
شاید ہم بھی ایسے ہی ہیں۔ ہماری اہمیت ہمیشہ ان کاموں میں نہیں ہوتی جو سب کو دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی ہم کسی کے لیے سہارا ہوتے ہیں، کبھی کسی کی مشکل آسان کرتے ہیں، کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو دوسرے کو دیر تک یاد رہتی ہے۔ اور کبھی ہمارا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی جگہ قائم رہیں، اس وقت تک جب تک زندگی کا اگلا موسم نہیں آ جاتا۔
میں اب بھی روز اس درخت کے پاس سے گزرتی ہوں۔ بوڑھا آدمی اپنے جوتوں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے، نوجوان اپنی بیلٹیں سجا رہا ہوتا ہے اور بچے اپنی بس کے انتظار میں کھڑے مم ہیں۔ شہر اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ کچھ ہی عرصے میں سیمل کے پھول دوبارہ کھلیں گے اور پھر ایک دن زمین پر بکھر جائیں گے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights