سمے وار (تحریر: محمد احمد)
استاد نعمان علی خاں ایک لیکچر میں بتا رہے تھے کہ ہم نے بچپن سے سنا تھا کہ پٹھان بڑے بے وقوف ہوتے ہیں، ان کے حوالے سے لطیفے عام تھے، لیکن جب وہ پاکستان کے ٹور پر آئے تو کراچی، پنجاب اور اسلام آباد کی جامعات سے کہیں زیادہ مہذب، سُلجھے ہوئے اور سمجھدار طلباء انھیں پشاور کی جامعات میں ملے۔
پٹھان اور سِکھ، یہ دو قومیں ہیں جن کے حوالے سے اردو ہندی بولنے والوں اور پنجابی ہندوؤں اور مسلمانوں نے کافی لطیفے بنائے ہیں، انھیں بے وقوف بتایا ہے، لیکن یہ رویہ ایک قسم کی انسیکورٹی سے پیدا ہوا۔ دیکھا جائے تو گزشتہ چار صدیوں میں، اس خطے کے اندر پٹھان اور سکھ ہی ہیں جو اپنی قوت کو ثابت کرتے آئے ہیں۔ ابدالی اور رنجیت کے سوا کون سا بڑا فاتح ہے جو اس خطے کے مقامیوں نے گزشتہ تین چار سو سال میں پیدا کیا؟ دیگر لوگ ایک طرح سے تماشائی ہی رہے ہیں۔ پنجاب اور اتر پردیش کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو سیاسی قیادت بھی گاندھی اور جناح کی صورت گجرات سے ملی۔
سِکھوں کو قائدِ اعظم محمد علی جناح نے پیشکش کی تھی کہ آپ جو مطالبات رکھنا چاہیں، رکھیں۔ ہمیں سب منظور ہو گا لیکن آپ پنجاب کی تقسیم کی حمایت نہ کریں بلکہ پورا پنجاب پاکستان میں شامل ہونے دیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ پیشکش قبول نہ کر کے سِکھوں نے حماقت کی، لیکن میرے خیال میں یہ بات درست نہیں ہے۔
سِکھوں کے اس پیشکش کر مسترد کر کے بھارت کا انتخاب کرنے سے پنجاب کو یقیناً ناقابلِ تلافی و تاریخی نقصان ہوا لیکن سِکھوں نے یہ فیصلہ پنجابی بن کر نہیں، سِکھ بن کر لیا تھا۔ مسلمان اور ہندو بھی پنجابی یا بنگالی یا ہندوستانی یا مراٹھی وغیرہ بن کر نہیں، ہندو اور مسلم بن کر سوچ رہے تھے۔ ایسے میں سِکھ ایسا کیوں نہ کرتے جو ایک نسبتاً تازہ سیاسی و روحانی تحریک کی پیداوار تھے؟
پنجاب کی تقسیم سے قبل سکھ آبادی پورے پنجاب میں بکھری تھی۔ چند تحصیلوں کے سوا کہیں ان کی اکثریت نہیں تھی۔ پنجاب متحد رہتا تو ان کو اسی سیاسی مسئلے کا سامنا رہتا جو ہندوستان میں مسلمانوں کا ہے، یعنی اپنی آبادی کے تناسب سے بھی نمائندگی نہ مل پانا، کجا یہ کہ اقتدار میں شراکت ہو۔
پنجاب کی تقسیم اور آبادیوں کے تبادلے سے سکھ آبادی مشرقی پنجاب کے کچھ اضلاع میں اکٹھی ہو گئی۔ پھر ہماچل اور ہریانہ کی پنجاب سے علیحدگی کے بعد پنجاب نام کی جو ریاست بھارت میں بنی، وہ سکھ اکثریتی ہے۔ لہذا اب سِکھوں کی اپنی ریاست، اپنی اسمبلی، اپنا وزیر اعلیٰ، اپنی کابینہ ہے۔ پنجاب متحد رہتا اور پاکستان میں ہوتا تو ایسا نہ ہوتا۔
پنجاب کے اندر مذہبی بنیادوں پر ایتھنک کیلنزنگ شروع اور آبادیوں کا تبادلہ شروع کروانے میں پٹیالہ کے سکھ مہاراجہ کا کردار بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ غالباً یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔
آج سِکھ اپنی حکومت کے فوائد بھی اٹھا رہے ہیں اور بھارت جیسے بڑے ملک اور معیشت میں شامل ہونے کا نفع بھی لے رہے ہیں۔ یوں پنجاب ضرور برباد ہوا لیکن سِکھ فائدے میں رہے۔ سِکھوں کا یہ رویہ پنجابی قوم پرستی کے خلاف بھی بڑی موثر دلیل ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ تاریخی طور پر سکھوں کا جو تصادم مسلمانوں سے ہوتا رہا ہے، وہ ہندوؤں سے نہیں ہوا۔۔ ہمیں یہ بات یاد نہیں رہتی کیونکہ جہانگیر یا اورنگ زیب ہمارے ہاں کوئی مقدس شخصیات نہیں لیکن گرو ارجن یا گرو تیغ بہادر جو ان کے ہاتھوں مارے گئے، وہ سکھوں کے لیے ایسے ہی مقدس ہیں جیسے ہمارے لیے پیغمبر، اہلِبیت، صحابہ وغیرہ۔
یہ بھی مغالطہ پایا جاتا ہے کہ سکھوں کے زیادہ تر مقدس مقامات پاکستان میں ہیں۔ پاکستان کے اندر دس میں سے دو یا تین گروؤں کی کچھ یادگاریں ہیں لیکن سک مذہب کے 5 تخت بھارت میں ہی ہیں۔ ان تختوں کو ایسے سمجھ لیں جیسے ہمارے لیے مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجدِ اقصیٰ۔ پاکستان میں گروؤں کی جو یادگاریں ہیں ان کی حیثیت نجف اور کربلا جیسی ہے۔
اگر آج مسلمانوں اور سِکھوں میں پنجابیت کے نام پر خیر سگالی اور گرم جوشی نظر آتی ہے تو اس لیے کہ دونوں اپنے اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ سانجھے پنجاب میں ہوتے تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔
خالصتان کا نعرہ بھی سننے میں اچھا لگتا ہے اور بھارت پر دباؤ ڈالنے کی حد تک ٹھیک ہے، لیکن جس دن خالصتان بم گیا، اُس دن وہ بھارت کے لیے پریشانی کا باعث نہیں رہے گا بلکہ ہمارے لیے مستقل دردِ سر بن جائے گا، ایسا دردِ سر کہ ہم افغانستان کو بھول جائیں گے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
سینتالیس میں سکھوں نے قائداعظم کی بات کیوں نہ مانی؟
