Categories
Education Exclusive Interesting Facts Media Rizwan Tahir Mubeen انکشاف جیو نیوز دل چسپ ذرایع اِبلاغ رضوان طاہر مبین سمے وار بلاگ

کیا کالم نگاری ختم ہوئی؟

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
حسن نثار، ہارون الرشید، اوریا مقبول جان کے بعد جاوید چوہدری جیسے کالم نگار بھی اب کالم نگاری کی دنیا میں ”زندہ دروگور“ ہو چکے ہیں!
جی ہاں! اور ستم صرف یہ نہیں ہے کہ اردو کالم نگاری کے یہ نمایاں ترین پانچ کالم نگار ’کالمی دنیا‘ سے بے دخل ہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس بات کو رونے والا بھی اب کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ اِس طالب علم کی ناقص معلومات کے مطابق اردو کالم نگاری میں اب تک کوئی بڑا کالم نگار ایسے جیتے جی کالم نگاری سے دور نہیں ہوا، جیسے یکے بعد دیگرے یہ چار کالم نگار ہو چکے ہیں۔ جس طرح اکثر بڑے سیاست دان آخری سانس تک سیاست کرتے رہتے ہیں، ایسے ہی کالم نگاری بھی آخری سانس تک جاری رہنے والی چیز سمجھی جاتی ہے۔
ماضی قریب میں دیکھےے تو مقبول کالم نگاروں کا ایک اخبار سے دوسرے، اور دوسرے سے تیسرے اور چوتھے اخبار کا سفر بھی خوب جاری رہتا تھا۔ اخبارات باقاعدہ ’خبر‘ اور بڑے اشتہار کے ذریعے کسی نمایاں اور بڑے کالم نگار کے اپنے اخبار سے منسلک ہونے کی اطلاع دیا کرتے تھے۔ اخبارات ان کالم نگاروںکو معقول اور بھاری معاوضے بھی دیتے تھے، کالم نگاروں کی وجہ سے اخبار کی اشاعت بڑھتی اور گھٹتی تھی۔ اس لیے مرکزی دھارے کے کسی بھی نئے اخبار کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ اس کے ہاں بڑے بڑے کالم نگار کالم لکھیں۔
’کالم‘ ایک ایسی چیز تھی اور ہے کہ ہر خاص وعام لکھنے والے کا یہ خواب ہوتا کہ وہ بھی ’کالم نگار‘ کہلائے، اس لیے جیسے تیسے مضامین لکھنے والے بھی خود کو ’کالم نگار‘ کہلوا کر خوش ہوتے ہیں۔ کالموں میں جہاں قارئین رائے سازی کے لیے اہم مواد پاتے ہیں، وہیں ایک موضوع کے دیگر زاویے، بہت سے انسانی جذبات اور احساسات کی تشنگی بھی دور کرلیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کالم نگار ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہونے کے بعد بھی اپنی کالم نگاری کو جاری رکھے رہے اور بہت سے ٹی وی میزبانوں نے بھی کالم نگاری میں طبع آزمائی کی۔
کالم نگار کا نام، تصویر، ایک مستقل عنوان، اور ’ای میل‘ کے چوکھٹوں کے ساتھ سجے ہوئے ان کالموں کے ذریعے زبان وبیان کے لطف، ادبی چاشنی کے ساتھ نت نئی خبریں بھی ملتیں۔ اپنے قارئین کو اشاروں کنایوں میں بہت سے پیغام بھی دیے جاتے۔ ملفوف طریقے سے راہ نمائی بھی دی جاتی، اور بہت سے ذاتی اور ادارہ جاتی تعلقات اور جانب داریاں یہاں تک کہ تعصبات تک بھی نکالے جاتے۔ بعض اوقات کالموں میں متنازع مواد کے قصے بھی چل نکلتے۔ قارئین میں جہاں انھیں پسند کرنے والوں کے بڑے حلقے ہوتے، وہیں ان سے نفرت کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہ ہوتی۔ ان کالم نگاروں پر حکومت سے پلاٹ لینے، سرکاری محکموں سے مفادات لینے، اداروں سے تعلقات نبھانے جیسے الزامات بھی عام عائد ہوتے رہے۔
ریڈیو، ٹی وی کے بعد ویب سائٹ تک کے آنے کے بعد بہت عرصے تک ’کالم‘ اخبارات کی ایک خاصے کی چیز سمجھی جاتا رہا۔ مضبوط ادارتی صفحہ ابھی تک اخبارات کے لیے ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن آٹھ ستمبر 2025ءسے روزنامہ ’جنگ‘ اپنے اداریے کا تکلف ختم کر دیا اور اس کی جگہ بھی کالم شائع کیے جانے لگے۔ یہ بات درست ہے کہ اب اخباری اداریے صرف خبروں کے چربے اور مکھی پر مکھی مارنے کا نام ہی رہ گیا تھا، بہرحال اس کی اپنی ایک اہمیت تو تھی ہی، کہتے تھے کہ خبر میں ادارے کا موقف نہیں ہوتا، لیکن اخبار کیا کہتا ہے وہ ’اداریے‘ سے پتا چلتا تھا۔ ماضی میں جنگ کے اداریوں میں متنازع باتیں سامنے آتی رہیں، جس پر کافی احتجاج بھی ہوتا، لیکن اب باضابطہ طور پر ’اداریہ‘ ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ اردو صحافت کی تاریخ کا ایک بہت اہم موڑ تھا۔ اس واقعے کو اب سال بھر ہوگیا ہے، لیکن ابھی تک کسی بھی دوسرے اخبار نے ’جنگ‘ کی تقلید نہیں کی، ورنہ عام طور پر ’جنگ‘ کو کم از کم اردو اخبارات میں ایک رجحان ساز کہا جاتا ہے۔
ہمیں بات تو کالموں کی کرنی تھی، لیکن تمہید باندھنے باندھنے میں اتنی ساری باتیں کرنی پڑ گئیں۔ ’جنگ‘ نے اداریہ تو ختم کر دیا، لیکن کالموں کی اہمیت برقرار رکھی، دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت اردو صحافت کے چار بڑے بڑے کالم نگار اخبارات سے بالکل غائب ہو چکے ہیں، جس میں ایک کالم نگار تو خود روزنامہ ’جنگ‘ کے بھی شامل ہیں۔
’حرف راز‘ کے مستقل عنوان سے لکھنے والے اوریا مقبول جان کا آخری کالم تلاش کیا تو، یہ چار جنوری 2019ءکو روزنامہ ’نائنٹی ٹو‘ پر شائع ہوا ہے۔
’ناتمام‘ کے نام سے کالم لکھنے والے ہارون الرشید کا آخری کالم 29 اپریل 2019 کو روزنامہ ’دنیا‘ میں شائع ہوا۔
’چوراہا‘ والے حسن نثار کا آخری کالم 30 مارچ 2022ءکو روزنامہ ’جنگ‘ میں شائع ہوا۔
’زیرو پوائنٹ‘ کے نام سے نئی روایات قائم کرنے والے جاوید چوہدری کا آخری مطبوعہ کالم چھے نومبر 2025ءکو روزنامہ ایکسپریس کی زینبت بنا۔
ان کالم نگاروں میں اوریا مقبول جان، ہارون الرشید اور حسن نثار نے تو نہایت خاموشی سے کالم چھوڑ کر خود کو صرف ٹی وی اسکرین کے لیے وقف کر دیا، لیکن جاوید چوہدری جیسے کالم نگار اور صحافی کو نومبر 2025ءمیں باقاعدہ ’ایکسپریس‘ میڈیا گروپ سے رخصت کیا گیا۔ وہ جون 2006ءسے ایکسپریس اخبار میں کالم ہی نہیں لکھ رہے تھے، بلکہ 2008ءمیں جب ’ایکسپریس نیوز‘ شروع ہوا تو یہاں ’کل تک‘ کے عنوان سے حالات حاضرہ کا ایک پروگرام بھی کر رہے تھے۔ ’ایکسپریس‘ سے برطرفی کے بعد ان کے دونوں سلسلے موقوف ہیں۔ البتہ وہ کالم اپنی ویب سائٹ پر لکھ رہے ہیں۔ اب ویب سائٹ پر تو ’بلاگ‘ بھی شائع ہوتا ہے۔
’کالم‘ تو مطبوعہ اخبار کے لیے مخصوص چیز سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے اب ’کالم‘ کی مقبولیت پر بھی بہت سنجیدہ سوال پیدا ہو چکے ہیں۔ اگرچہ وسعت اللہ خان اور زاہدہ حنا ’ایکسپریس‘ میں۔ عطا الحق قاسمی، کشور ناہید، محمود شام، حامد میر، سہیل وڑائچ، سلیم صافی، یاسر پیرزادہ اور بلال الرشید وغیرہ جیسے کالم نگار ’جنگ‘ میں نصرت جاوید نوائے وقت میں، مجیب الرحمن شامی، ایاز امیر اور رﺅف کلاسرہ وغیرہ ’دنیا‘ میں، کالم لکھ رہے ہیں، لیکن چار بڑے کالم نگاروں کی اخبارات سے رخصتی نے ایک بڑا سوال ضرور پیدا کر دیا ہے۔ کہاں تو ایک اخبار سے دوسرے اخبار میں انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا اور کہاں ان چاروں کے غائب ہونے کی کوئی ’خبر‘ بھی ٹھیک سے نہیں بن رہی۔
شاید یہ ’انجام کا آغاز‘ ہو!
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights