Categories
Exclusive Interesting Facts انکشاف دل چسپ ڈاکٹر شاہد ناصر سمے وار بلاگ

خطے میں ایرانی پراکسیز کتنی مختلف ہیں؟

سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)
یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی عارضی ثابت ہوئی اور اب ایک بار پھر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ موجودہ لہر کی ابتدا ایران پر 8 جولائی کو امریکی حملوں کے بعد ہوئی کہ جب امریکی حکام نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ دوسری طرف ایران نے ایک بار پھر خلیجی ممالک پر گولے داغنے شروع کردیے، قطر اور کویت نشانہ بنے، یمن کے باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل داغ دیے۔ ایران کا موقف وہی تھا کہ وہ امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ اس کا نشانہ عرب ممالک ہی ہیں۔ ورنہ اس کے ہم سائے میں آذربائیجان کی صورت میں ایک اہم امریکی اور اسرائیلی موجود ہے، جہاں اگرچہ کسی امریکی اڈے کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن ایرانی الزامات اس پر بھی وہی ہیں جو عرب ممالک پر ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایران نے اب تک کسی اور غیر عرب ملک کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔
تاہم ہمیں دیکھنا ہوگا کہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران نے عراق اور پاکستان کے ساتھ ساتھ کون کون سے ممالک میں کس طرح اپنے اثر رسوخ کو استعمال کیا۔ جس میں سب سے نمایاں فلسطین میں حماس ہے، جسے سنی ہونے کے باوجود ایران نے اپنے دائرے میں رکھا۔ انتہا یہ تھی کہ حماس کے راہ نما قطر سے ایران پہنچے تو نشانہ بن گئے۔ لیکن پھر بھی حماس کو ایران پر بھروسا ہے۔
پاکستان میں شیعہ تنظیمیں اس کے حصار میں ہیں۔ عراق تو پھر صدام کے بعد اب ایران کی جھولی میں ہی ہے۔ ایسے ہی لبنان میں نہ صرف شیعہ آبادی اس کے اثر میں ہے، بلکہ اس کے لیے اس نے حزب اللہ کی صورت میں ایک بندوبست رکھا ہوا ہے۔
سعودی عرب کی شیعہ آبادی کو بھی خاص ہدف بنا کر رکھا گیا۔۔
بحرین میں بھی شیعہ اکثریت ایران کا خفیہ اور کھلا ہتھیار رہا ہے۔۔۔
یمن میں دیکھیے تو یہاں شیعہ نہیں لیکن حوثی چوں کہ سنیوں سے مختلف ہیں اور صرف دو خلفا کو مانتے ہیں، لیکن ایران نے اس اختلاف کو بھی رکاوٹ نہ جانا اور اسے اپنے مفاد میں مکمل استعمال کیا، جس میں مبینہ طور پر اسلحے کے ترسیل شامل ہے۔۔
شام میں دیکھیے تو یہاں بھی ایک مختلف فرقہ علوی قابض تھا، لیکن دشمن کے دشمن دوست کی وجہ سے ایران نے اس کی کھلی حمایت کی، یہاں تک کہ سابق صدر بشارالاسد کو مہلک ہتھیار استعمال کرکے ایک سنی اکثریتی ملک پر اپنا قبضہ جمانا پڑا، لیکن وقت بدلا اور بالآخر بشار کو فرار ہوکر روس میں پناہ لینی پڑی۔
قطر، کویت اور عمان ایسی کسی داخلی شورش سے فی الحال محفوظ ہیں، لیکن ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے ساتھ عرب دنیا میں سعودی عرب، بحرین، لبنان، شام، عراق، یمن۔ یعنی کم از کم چھے عرب ممالک مٰں اپنی پراکسیز کو چلاتا رہا ہے۔
اس وقت بھی مسلسل ردعمل کے نام پر وہ انھی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے کی صورت حال تشویش ناک ہو رہی ہے، کیوں کہ ایران کے مسلسل اور متواتر حملوں کے باوجود ابھی تک کسی بھی خلیجی ملک نے ایران کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ سوائے متحدہ عرب امارات کے، جو چند برس قبل اسرائیلی بلاک کا حصہ بنا اور اب کھل کر ایران پر حملوں کی حمایت بھی کر رہا ہے۔ ایسے میں ایران کو سوچنا چاہیے کہ وہ امن کی کوششوں کو کیوں سبوتاژ کر رہا ہے اور وہ بھی ایسے کہ انھی خلیجی ممالک کو نشان بنا رہا ہے جو صبر سے کام لے رہے ہیں اور ایران کے تنازعے کو حل کرانے کے لیے سرگرم رہے۔۔۔
ایران کو سوچنا ہوگا۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights