Categories
Education Exclusive India Interesting Facts Karachi Media Tahreem Javed انکشاف تحریم جاوید تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ ذرایع اِبلاغ سمے وار بلاگ کراچی

پاکستان آئیڈل کی بدقسمتی کیا رہی؟

سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
ہندوستان کی نقل کرنے میں تو ہم کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔ ہندوستان نے کوئی فلم بنائی، ہم نے بھی بنالی، کچھ نہیں تو ان کے گانوں کے بول پر ہی اپنی فلم کے نام رکھ لیے جیسے ’’بہاروں پھول برسائو‘‘ اور گھر کب آئو گے ہی دیکھ لیجیے
اب خیر ایٹم بم تو ہماری مجبوری تھی، ہمیں بنانا ہی تھا، لیکن وہاں لوکل کرکٹ ٹورنامنٹ ہوئے تو ہم نے بھی کرا ڈالے۔ وہ ’’آئی پی ایل‘‘ ہوا تو ’’پی ایس ایل‘‘ ہوگئے۔ کیا ہوا درجن بھر ٹیمیں نہ ملیں، چار پانچ سے ہی کام چلا لیا۔ اب یہ نہ کہنا کہ ان کی حرص کرکے اپنے چار پیارے پیارے صوبے ’’توڑ‘‘ کر دس بارہ صوبے اور بنا لیں، نہ بابا یہ ہماری دھرتی ماتا ہے۔ کیا ہوا کہ اگر دھرتی ماتا ماننے والے ہندوستان نے اپنے ہر ہر صوبے کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تو۔۔۔
پھر بات آگے بڑھی اور انڈین آئیڈل کی نقل ’’پاکستان آئیڈل‘‘ کی صورت بھی بن ہی گئی۔ اب نقل کرنا کوئی بری بات تھوڑا ہی ہوتی ہے۔ اچھا ہے کوئی بھی کرے مقابلہ ہونا چاہیے، کھیل ہو فلم ہو یا اور کوئی ٹیکنالوجی۔۔۔
لیکن اصل فرق دونوں میں جو نظر آیا وہ بدقسمتی کا تھا۔۔۔
جی ہاں، اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اب موسیقی کے پروگرام میں کیسی بدقسمتی؟ یہاں ہم سجاد علی کی بات ہرگز نہیں کر رہے کہ وہ خود کس طرح نور جہاں اور مہدی حسن کے گانے گا گا کر آگے بڑھے اور آج نئے لوگوں کے لیے کاپی رائٹ کا رونا گانا کرتے ہیں۔۔۔
نہ ہی ہم یہاں یہ سوال کریں گے کہ آخر فواد خان کا موسیقی کے پروگرام میں کیا لینا دینا، ٹھیک ہے راحت فتح علی خان سے زیب بنگش اور بلال مقصود موسیقی ہی کی دنیا سے ہیں، لیکن ایک اداکار موسیقی کے اچھے ہونے نہ ہونے کا تعین کیسے کرے گا؟
ارے ہم پاکستان آئیڈل کے نامکمل رہنے اور اس کے تنازعات اور اس کے پیچھے کی کوئی کہانی بھی نہیں سنا رہے۔ اصل بدقمستی اس کے علاوہ ہے۔ بلکہ اسے احساس کم تری اور المیہ کہنا زیادہ اچھا ہوگا، تاریخی المیہ۔۔
اب کوئی محقق ہی یہ کام کرے تو کرے ہمارے کنے تو اتنا وقت نہیں ہے کہ دیکھیں کہ ہندوستانی پروگرام کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم کیوں اردو سے زیادہ دیگر پاکستانی زبانوں پر مرکوز نظر آئے۔۔۔ ہم کسی کی بھی زبان کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اردو اس پورے ملک کی زبان ہے، سب لوگوں، امیر غریب اور چھوٹے بڑے کو سمجھ میں آتی ہے یہی اس ملک کے عوام کی زبان ہے اور ملک سے باہر ہماری شناخت ہے۔ ہماری زبان کو ہندوستان دو لفظ بگاڑ کر ہندی کہہ دیتا ہے، دوسری طرف اب ہم بھی اپنے احساس کم تری میں کہیں انگریزی کو چڑھا رہے ہیں تو کہیں اردو کی جگہ علاقائی زبانوں کو آگے لا کر سمجھ رہے ہیں کہ اس سے بہت بڑا کام ہو رہا ہے۔ نہیں ہو رہا جناب اردو اپنی جگہ ہے۔ اسے ایک شہر یا کسی مخصوص علاقے کی زبان سمجھنے کی چھوٹی سوچ سے نکلیے اور اردو گانوں کے وسیع میدان پر طبع آزمائی کیجیے۔ اب تو خیر کیا کیجیے کہ اب تو یہ سیزن ہی نمٹ چکا ہے۔ لیکن بات تو کرنی چاہیے کہ آخر پاکستان آئیڈل میں قومی زبان کو پیچھے پیچھے کیوں رکھا گیا۔ یہ کوئی دانستہ عمل ہے اور کوئی نہ کوئی محرک ہے ضرور اس کے پیچھے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights