سمے وار (خصوصی رپورٹ۔ مانیٹرنگ ڈیسک)
وہ شخص جس نے بنگال میں مسلم لیگ کو ایک کمزور سیاسی جماعت سے عوامی قوت بنا دیا، جس کی قیادت میں 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے بنگال کی 121 مسلم نشستوں میں سے 114 جیت لیں، جس نے قیامِ پاکستان کے لیے اپنی صحت، جان اور سیاسی مستقبل داؤ پر لگا دیا، اسی حسین شہید سہروردی کو پاکستان بننے کے چند ہی برس بعد ’’غدار‘‘، ’’ملکی سلامتی کے لیے خطرہ‘‘ اور ’’غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ‘‘ قرار دے دیا گیا۔
یہ پاکستانی تاریخ کا صرف ایک سیاسی المیہ نہیں، بلکہ اس ریاست کی اُس پرانی روایت کی ابتدا تھی جس میں مقبول رہنما پہلے محبِ وطن بنائے جاتے ہیں، پھر مشکوک قرار دیے جاتے ہیں اور آخرکار تاریخ کے کٹہرے میں تنہا چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
حسین شہید سہروردی 1893 میں بنگال کے ایک تعلیم یافتہ اور بااثر خاندان میں پیدا ہوئے۔ آکسفورڈ سے قانون پڑھا، کلکتہ میں وکالت کی، شہری سیاست سے سفر شروع کیا اور جلد ہی بنگال کے نمایاں ترین مسلم رہنماؤں میں شامل ہو گئے۔ محمد علی جناح کی خواہش پر وہ مسلم لیگ بنگال کے سیکریٹری جنرل بنے اور اپنی غیر معمولی تنظیمی صلاحیت سے بنگال کو تحریکِ پاکستان کا مضبوط قلعہ بنا دیا۔
1946 میں جب پورے ہندوستان میں مسلم لیگ کی سیاست فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، بنگال وہ واحد بڑا صوبہ تھا جہاں مسلم لیگ کی حکومت قائم تھی اور سہروردی اس کے وزیر اعلیٰ تھے۔ یہی وہ سیاسی قوت تھی جس نے پاکستان کے قیام کو صرف شمال مغربی ہندوستان تک محدود تصور نہیں رہنے دیا بلکہ بنگال کے کروڑوں مسلمانوں کو بھی اس جدوجہد کا حصہ بنایا۔
مگر تقسیم کے بعد حالات نے عجیب رخ اختیار کیا۔ سہروردی کچھ عرصہ کلکتہ میں رہے۔ جب پاکستان آئے تو مشرقی پاکستان میں انھیں رہائش تک اختیار کرنے نہ دی گئی۔ ڈھاکا پہنچنے کے صرف چوبیس گھنٹے بعد انھیں شہر چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا اور چھ ماہ تک مشرقی پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
وہ شخص جس نے بنگال کو مسلم لیگ کے ساتھ کھڑا کیا تھا، اب اسی پاکستان میں اپنے لیے ایک چھت تلاش کر رہا تھا۔
ان کی دستور ساز اسمبلی کی نشست بھی اس بنیاد پر ختم کر دی گئی کہ انھوں نے مقررہ مدت میں پاکستان کے کسی حصے میں مستقل رہائش اختیار نہیں کی۔ جب وہ پاکستان منتقل ہوئے تو مسلم لیگ کے حکمرانوں نے انھیں خوش آمدید کہنے کے بجائے سیاسی خطرہ سمجھا۔ لیاقت علی خان اپنی تقریروں میں ان پر تنقید کرتے اور الزام لگاتے کہ انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کا اتحاد توڑ دیا۔
سہروردی کا اصل ’’جرم‘‘ شاید یہ تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد مسلم لیگ صرف مسلمانوں کی جماعت نہ رہے، بلکہ اس کے دروازے غیر مسلم شہریوں کے لیے بھی کھول دیے جائیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ریاست بن جانے کے بعد شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ پاکستانی ہندو اور پاکستانی مسلمان کے درمیان سیاسی امتیاز کے خلاف تھے۔
یہی سوچ بعد میں ان کے خلاف شکوک و شبہات کا ہتھیار بن گئی۔ مسلم لیگ سے الگ ہونے کے بعد انھوں نے عوامی لیگ کو منظم کیا، مشرقی پاکستان کے دیہات کا سفر کیا، عام لوگوں سے رابطہ قائم کیا اور 1954 کے انتخابات میں مسلم لیگ کو بدترین شکست دے دی۔ اقتدار کے ایوانوں کو اندازہ ہو گیا کہ جس شخص کو سیاست سے نکالنے کی کوشش کی گئی تھی، وہ عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکا۔
ستمبر 1956 میں حالات نے صدر اسکندر مرزا کو مجبور کیا کہ وہ اسی سہروردی کو پاکستان کا پانچواں وزیراعظم مقرر کریں، جس کے بارے میں وہ کبھی کہہ چکے تھے کہ ’’سہروردی صرف میری لاش پر وزیراعظم بنے گا۔‘‘
حلف برداری کے وقت اسکندر مرزا زندہ بھی تھے اور سہروردی کے گلے میں گلاب اور چنبیلی کے ہار بھی ڈال رہے تھے۔ پاکستان کی سیاست میں اصول بدل چکے تھے، ضرورت باقی تھی۔
وزیراعظم بننے کے بعد سہروردی نے صاف کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قحط یا خارجہ پالیسی نہیں بلکہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ قومی انتخابات کا نہ ہونا ہے۔ وہ پارلیمانی جمہوریت، بالغ رائے دہی اور مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان آئینی توازن کے حامی تھے۔
وہ روزانہ بارہ گھنٹے سے زیادہ کام کرتے۔ ایک بستر پر سوتے اور دوسرے پر فائلیں، ٹیلی فون ڈائریکٹریاں اور سرکاری کاغذات بکھرے ہوتے۔ مہنگے ترین وکلا میں شمار ہوتے، مگر اپنی کمائی ضرورت مند سیاسی کارکنوں میں بانٹ دیتے۔ بعض اوقات مؤکل کی دی ہوئی تمام رقم کارکنوں کو دے دیتے اور رات کو سر درد کی دوا بھی ادھار منگوانا پڑتی۔
ان کے مخالفین بھی مانتے تھے کہ وہ وعدہ نبھانے میں غیر معمولی حد تک دیانت دار تھے اور غیر مقبول سچ کہنے سے نہیں گھبراتے تھے۔
انھی کے دور میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن قائم ہوا۔ انھوں نے ڈاکٹر نذیر احمد کو اس کا چیئرمین مقرر کیا، پرامن جوہری پروگرام کی حمایت کی اور امریکہ سے تحقیقی جوہری ری ایکٹر حاصل کرنے کے لیے رقم جاری کی۔ پاکستان کے ابتدائی جوہری سفر کی ایک اہم بنیاد ان ہی کے دور میں رکھی گئی۔
خارجہ پالیسی میں وہ امریکہ کے قریب تھے۔ انھوں نے سیٹو اور بغداد معاہدے میں پاکستان کی شمولیت کی حمایت کی۔ بڈابیر کے قریب امریکی مواصلاتی اور جاسوسی اڈے کی اجازت بھی ان کے دور سے منسوب کی جاتی ہے۔ اس فیصلے نے ان کی سیاست پر ہمیشہ ایک سوالیہ نشان قائم رکھا۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی تھا۔ سہروردی وہ پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنھوں نے مغربی دباؤ کے باوجود عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا۔ انھوں نے چو این لائی سے ملاقات کی، پاک چین تعلقات کی بنیاد مضبوط کی اور چین کو پاکستان کے لیے ایک ممکنہ اسٹریٹجک دوست کے طور پر دیکھا۔ آج جس پاک چین دوستی کو ریاستی پالیسی کا ستون کہا جاتا ہے، اس کی ابتدائی تعمیر میں سہروردی کا کردار بنیادی تھا۔
ان کی وزارتِ عظمیٰ صرف تیرہ ماہ قائم رہی۔ جب مخلوط حکومت کمزور ہوئی تو انھوں نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کی، مگر صدر اسکندر مرزا نے اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کر دیا۔ سہروردی نے استعفا دے دیا۔
کہا جاتا ہے کہ استعفا دیتے وقت وہ رو رہے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ میں اس لیے روتا ہوں کہ کشمیر ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل گیا۔ ایک روایت کے مطابق انھوں نے امریکہ کو بڈابیر اڈے کی اجازت کشمیر کے مسئلے پر مدد کی امید میں دی تھی، مگر پاکستان کو نہ کشمیر ملا، نہ سیاسی استحکام۔
1958 میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کیا تو سہروردی آمریت کے خلاف سب سے توانا آوازوں میں شامل ہو گئے۔ انھیں ایبڈو کے تحت نااہل کرنے کے لیے کرپشن کا مقدمہ بنایا گیا۔ الزام تھا کہ انھوں نے ایک شخص کو چاول کا پرمٹ دلوایا۔ فوجی عدالت میں سہروردی نے سرکاری ریکارڈ سے ثابت کر دیا کہ پرمٹ ان کی منظوری کے بغیر اسکندر مرزا اور ایوب خان کے کہنے پر جاری ہوا تھا۔
الزام ثابت نہ ہو سکا، مگر سزا پھر بھی دے دی گئی۔ انھیں سات سال کے لیے سیاست سے نااہل کر دیا گیا اور عدالتی کارروائی شائع کرنے پر پابندی لگا دی گئی تاکہ عوام یہ نہ جان سکیں کہ مقدمے میں حقیقت کیا سامنے آئی تھی۔
حکومت نے انھیں وکالت سے بھی روکنے کی کوشش کی۔ کراچی اور لاہور کی عدالتوں کو ہدایت دی گئی کہ انھیں وکیل کے طور پر رجسٹر نہ کیا جائے۔ آخرکار ساہیوال کی ایک عدالت نے انھیں وکالت کی اجازت دی۔
یہی سہروردی راولپنڈی سازش کیس میں فیض احمد فیض اور دوسرے ملزمان کے وکیل بھی بنے تھے۔ وہ عدالت میں آئین، قانون اور شہری آزادیوں کی بات کرتے تھے، جبکہ ریاست انھیں خاموش کرانے کے لیے نئے قانون ایجاد کر رہی تھی۔
30 جنوری 1962 کو ستر سالہ حسین شہید سہروردی کو سکیورٹی آف پاکستان ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ حکومتی پریس نوٹ میں کہا گیا کہ ان کی سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کے لیے اتنی خطرناک ہیں کہ انھیں غداری کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔
یعنی وہ شخص جس نے بنگال کو پاکستان کے لیے کھڑا کیا، اب پاکستان کے لیے خطرہ تھا۔ سات ماہ قید کے بعد انھیں رہا کیا گیا۔ حکومت نے اعلان کیا کہ اب اسے یقین ہے کہ سہروردی آئندہ ’’تخریبی سرگرمیوں‘‘ میں حصہ نہیں لیں گے۔ مگر رہائی کے فوراً بعد انھوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے قومی جمہوری محاذ قائم کر دیا۔ ان کی تحریک خیبر سے چٹاگانگ تک پھیلنے لگی۔
سہروردی نے ایوب خان کے نام ایک خط میں لکھا:
’’پاکستان میری زندگی ہے۔ میں نے اس کے قیام میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ بنگال کو مسلم لیگ قبول کرنے اور پاکستان کی جدوجہد میں شامل کرنے کے لیے میں نے دن رات محنت کی، اپنی زندگی، صحت اور حفاظت کی پروا کیے بغیر۔‘‘
انھوں نے ایوب خان سے پوچھا کہ آپ نے کس بنیاد پر یہ الزام لگایا کہ میں نے پاکستان کے دشمنوں سے مالی مدد لی؟
پھر وہ جملہ لکھا جو پاکستانی تاریخ کے دامن پر ایک سوال بن کر آج بھی موجود ہے:
’’دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے، اور اللہ ہمارے درمیان انصاف کرے گا، اسی دنیا میں یا اگلے جہاں میں۔ اگر آپ کے یہی جذبات ہیں تو پھر مجھے زندہ نہیں رہنا چاہیے۔‘‘
1963 میں وہ علاج کے لیے بیرونِ ملک چلے گئے۔ بیروت میں ڈاکٹروں نے انھیں وطن واپسی کے لیے صحت مند قرار دے دیا تھا، مگر 5 دسمبر 1963 کی رات وہ ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ سرکاری طور پر وجہ دل کا دورہ بتائی گئی، لیکن ان کی اچانک موت، سیاسی حالات اور حکومت سے شدید تصادم کے باعث شکوک کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکے۔
حسین شہید سہروردی کی زندگی پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ کا خلاصہ معلوم ہوتی ہے۔
جس شخص نے پاکستان بنانے کے لیے بنگال کو منظم کیا، اسے پاکستان میں داخل ہونے سے روکا گیا۔
جس نے جمہوریت مانگی، اسے نااہل کیا گیا۔
جس نے عدالت میں اپنا دفاع کیا، مقدمے کی خبر شائع کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ جس نے آمریت کو للکارا، اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ جس نے لکھا کہ ’’پاکستان میری زندگی ہے‘‘، اسی کو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا گیا۔
سہروردی فرشتہ نہیں تھے۔ ان کی امریکہ نواز خارجہ پالیسی، مغربی دفاعی معاہدوں کی حمایت اور بڈابیر اڈے کا فیصلہ شدید تنقید کے مستحق رہے۔ مگر ان کے سیاسی فیصلوں سے اختلاف اور انھیں غدار قرار دینا دو الگ باتیں تھیں۔
پاکستان نے اختلاف کو غداری بنانے کا جو سبق اپنی ابتدائی تاریخ میں سیکھا، اس کے اولین بڑے شکاروں میں حسین شہید سہروردی بھی شامل تھے۔
وہ بنگال کا بیٹا تھا، پاکستان کا معمار تھا، منتخب وزیراعظم تھا، جمہوریت کا وکیل تھا—مگر ریاستی کاغذوں میں پہلے نااہل، پھر خطرہ اور آخرکار غدار بنا دیا گیا۔
شاید اسی لیے بعض غیر ملکی سفارتکار انھیں ’’پاکستان کی آخری امید‘‘ کہتے تھے۔ اور شاید پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اس نے اپنی آخری امیدوں کو اکثر پہچاننے کے بجائے غدار قرار دیا۔
Categories
حسین شہید سہروردی استعفا دیتے ہوئے رو کیوں رہے تھے؟
