سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
ماہ نامہ ’سرگزشت‘ اور دیگر ڈائجسٹوں کے لیے لکھنے والے ایک مقبول لکھاری کاشف زبیر (مرحوم) پر ایک بہت سینئر قلم کار احمد اقبال نے ایک تحریر لکھی، جس پر شدید ردعمل آیا، ان کے طرز تخاطب اور مندرجات پر بہت سے شائقین ادب نے افسوس کا اظہار کیا اور احمد اقبال کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر کاشف زبیر کی شریک حیات نے ایک جواب بھی لکھا۔ پہلے آپ احمد اقبال کی تحریر پڑھیے۔ اس کے بعد بلاگ کے دوسرے حصے میں اس کا جواب ملاحظہ فرمائیے:
۔۔۔۔
کاشف ایک شہاب ثاقب تھا
تحریر: احمد اقبال
جو نام وَری کے افق پر پل بھر کے لیےؑ چمکا اور اپنی روشنی کی لکیر چھوڑکے ابدی تاریکی میں گم ہو گیا۔
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب ۔۔۔ آج تم یاد بے حساب آیے
جب میں نے کہانیاں لکھنا شروع کیا تو کچھ نام بہت معتبرتھے۔ٓش م جمیل جو ترجمہ کی دنیا کے بے تاج باد شاہ تھے۔۔ قیوم شاد جو کرایم کی کہانیوں کو قانون کی نظر سے لکھتے تھے۔۔تاریخی کہانیوں کے مستند مصنف الیاس سیتا پوری۔۔ سلسلہ وار کہانیوں کے دیوتا محی الدین نواب۔۔کہانیوں کی مشین ایم اے راحت۔ استاد مکرم شکیل عادل زادہ۔۔ اورچند لوگ۔۔
پتا نہیں کیسے پچیس تیس سال میں میرا نام بھی معتبر ہوا۔ ڈایجسٹ بہت شایع ہونے لگے۔سب اپنی اپنی اشاعت کے مطابق مقبول لکھنے والوں کوزیادہ اداییگی کرکے اجارہ داری قایم کرتے تھے۔اس مقابلے میں جاسوسی ڈایجسٹ کے گروپ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ۔جو وہاں لکھتے تھے کسی اورکیلیے نہیں لکھ سکتے تھے مگرانہیں اس کی جو قیمت ادا کی جاتی تھی وہ کویؑ اور نہیں کر سکتا تھا۔ خود میں نے ۱۹۸۱ میں یہ پابندی قبول کی تھی اگلے دس برس میں ٹاپ کے لکھنے والوں میں شامل ہو چکا تھا
ایک دن میں جاسوسی کے دفتر سعید مینشن پہنچا تو اقلیم علیم کے پاس کویؑ عمر رسیدہ اجنبی خاتون بیٹھی تھیں، اس نے کچھ پیسے لیے ۔ کچھ لکھے ہویے صفحات دیے اور چلی گیؑ پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ کاشف زبیر کی والدہ تھیں جو اس کی لکھی کہانی دینے اور معاوضہ لینے آتی ہیںمیرے پوچھنے پر اقلیم علیم صاحب نے بتایا کہ وہ ٹانگوں سے مفلوج ہے اور وہیل چییؑرپر پھرتا ہے۔مجھے تجسس سے زیادہ دکھ ہوا ۔ میں نے اس سے ملنے کا تہیہ کیا تو پتا چلا وہ ملیر ماڈل کالونی کی ایک بہت غریب بستی میں رہتا ہے۔ فون پر اسے بتایا تو وہ بہت خوش ہوا۔ میں اہنی گاڑی میں گیا تو رسما’’ ایک کیک لے گیا
ایک جگہ ممکن نہ رہا کہ گاڑی آگے جایے۔ وہاں سے چند قدم کے فاصلے پروہ تنگ کچی گلی کے ٓاغازمیں وہیل چییؑر پر میرا منتظر تھا اور مجھے دیکھ کر اتنا خوش ہوا کہ رونے لگا۔چھوٹے سے گھر میں اس کے والدین اور بہن بھایؑوں نے میرا استقبال کیا۔ وہ سب میرے فین تھے۔ کاشف زبیر تو سب کے سامنے کہتا تھا کہ کہ میں احمد اقبال کو کاپی کرتا ہون۔اس فیملی کے خلوص نے مجھے بہت متاثر کیا۔میں نے کھانا وہیں کھایا اوردن گزار کے لوٹا تو کاشف زبیر کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ وہ تھا بھی میرے بچوں جیسا۔
پھر میں نے اس کو فیملی کے ساتھ اپنے گھر اپنے گھر مدعو کیا ۔ وہ ٹیکسی میں شہر کے دوسرے کنارےگلشن معمار پہنچے تو کاشف زبیر کی وہیل چییؑر ڈکی میں تھی۔اس نے میرے پانچ بیڈ روم۔۔وسیع لان ۔ گارڈن لایٹس۔اور ڈیڑھ سو گملوں والی ’کوٹھی‘ کو (جس میں دو گاڑیاں کھڑی تھیں) ایسے دیکھا جیسے میں ڈیفنس کے شاہانہ گھروں کو دیکھتا تھا۔۔ اور بولا ’’ اگر کہانیاں لکھ کے ٓاپ نے یہ سب کر لیا تو میں کیوں نہیں کر سکتا‘‘۔۔ میں نے کہا ’’تم اس سے زیادہ کروگے‘‘
کاشف زبیر مجھ سے بہت اٹیچ ہو گیا۔میں اکثر اس کے گھر جاتا اور اسے ساتھ لے جاتا۔۔اس نے مزاحیہ کہانیاں لکھیں تو مجھے دکھاییں’’ میں اپ کو کاپی کرنے کی کوشش کرتا ہوں سر‘‘ وہ کہتا اور میں اسے یقین دلاتا کہ ایسا نہیں ہے۔ اس کا اپنا منفرد انداز ہےاسی گھر میں جب کاشف زبیر کی شادی ہویؑ تو شامیانہ گلی میں لگا تھا اور ولیمہ کی دعوت تو سب لکھنے والوں کو دی گیؑ تھی مگر میرے علاوہ صرف ۸۵ سالہ جمیل احمد خان پہنچے تھے جو نوری نستعلیق ’کی بورڈ ‘بنا کے اردو کو زیر بار احسان کر گیے۔رات بارہ بجے میں نے ان کو بریانی کھاتے دیکھا تو کچھ حیران ہوا۔میں خود سلاد کھارہا تھا۔ان کے پوچھنے پر میں نے کہا کہ اتنی رات گیے سلاد ہی محفوظ ہے
انہوں نے مسکرا کے کہا’’ میاں صاحبزادے۔ یہ کچی سبزیاں ملیر ندی کے پانی میں اگایؑ جاتی ہیں جس میں سارے شہر کی غلاظت بہتی ہے۔کسی نے ان کو جراثیم کش پانی سے دھویا نہیں بغیر ہاتھ دھویے کاٹا اور تم اسے محفوظ سمجھتے ہو؟ دیگ میں تو سب آگ پرپکا ہے‘‘ان کی یہ بات آج تک میرے دل پر نقش ہے۔ کچھ عرسے بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔۔ ولیمہ کے ایک ہفتے بعد میں نے اس کی فیملی کو مدعو کیا تو اس کی بیوی نے کہا تھا’’ کاشف۔۔ ہم بھی ایسا گھر بناییں گے‘‘ اور اس نے بڑے یقین سے کہا تھا’’بس تھوڑے دن کی بات ہے‘‘
کاشف زبیر کی بیوی مریم ایم اے پاس تھی اورپڑھانے لگی تھی۔انہوں نے گھر بدلا اور گلستان جوہر میں گراونڈ فلور کا فلیٹ لے لیا ۔یہ بہت بہتر اور معزز علاقہ تھا۔کاشف کے ذہن کی پرواز بلند تھی اور وہ بہت تیزی سے مقبول ہو رہا تھا۔اس کی ’’جلیل سیریز‘‘ نے ریکارڈ توڑے تھے۔جب ڈیپریشن کے مرض میں مبتلا ہونے سے میرا قلم رک گیا تھا تو میری قسط وار کہانی ؔؔمداری‘‘ چل رہی تھی۔ اس کی تکمیل کاشف زبیر نے کی لیکن اس خوبی سے کہہ بہت کم پڑھنے والوں کو فرق کا احساس ہوا۔ دوسال بعد میں اسلام اباد اگیا اور کاشف سے رابطہ فون تک محدود ہوگیا ۔ وہ بتاتا تھا کہ اس نے گلشن اقبال میں گھر دیکھے ہیں
بائیس فروری 2015۔ یا سولہ۔۔ مجھے مریم نے کاشف کے مرنے کی خبر سنائی تو مجھے یقین نہ آیا۔ دو دن پہلے ہی تو میری اس سے بات ہویؑ تھی۔۔مجھے بتایا گیا کہ اسے کویؑ پر اسرار بیماری ہو گیؑ تھی جس نے مہلت ہی نہیں دی۔اسے اسپتال لے جایا گیا تھا مگر ڈاکٹر تشخیص نہیں کر پایے۔میں نے خود کو شدید بے بس محسوس کیا۔ وہ یقینی غفلت کا شکار ہوا تھا۔گھر والوں نے اسے بر وقت صحیح جگہ نہیں پہنچایا تھا۔ اب کچھ کہنا لاحاصل ہے کہ میں ہوتا تو اسے سیدھا ؔآغا خان اسپتال‘ لے جاتا اور وہ بچ جاتا۔۔ یہ کرتا وہ کرتا
فضول۔۔فضول۔۔ فضول۔۔ بس وہ اتنی ہی زندگی لایا تھا۔۔ ٹوٹے ہویے تارے شہاب ثاقب کی طرح وہ پل بھر کیلیے روشن ہوا اور بجھ گیا میرا بھی اس کے بعد کاشف زبیر کی فیملی سے تعلق نہ رہا ۔ اس کی بیوی مریم نے دوسری شادی کرنے میں دیر نہیں لگایؑ تھی۔مگر زندگی ایسی ہی بے رحم حقیقت ہے
دس برس بعد آج بھی دنیا اسے یاد تو کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوابی تحریر:
میرا نام مریم ہے۔
کاشف زبیر صاحب میرے شوہر تھے۔
میں فیس بک چھوڑ چکی ہوں کافی سال ہوئے۔اب نہ جوائن کرنے کی خواہش ہے نہ شوق نہ ارادہ ۔یہ گروپ یہ پودا ہمارے ہی ہاتھ کا لگایا ہوا ہے۔چھوٹی بہن اس گروپ میں ایڈ ہے اس نے مجھے احمد اقبال انکل کی یہ تحریر بھیجی پڑھ کر صرف جواب دینے کے لیئے میں نے فیس بک جوائن کیا ہے۔
الفاظ بڑا قیمتی عطیہ ہوتے ہیں صحیح استعمال ان کی قدر و قیمت بڑھادیتا ہے اور ان کا غلط استعمال آپ کو دوسروں کی نظر سے گرادیتا ہے۔۔
احمد اقبال انکل ، کاشف آپ سے بے حد عقیدت اور محبت رکھتے تھے میں بھی آپ کی بہت عزت کرتی تھی مگر آپ کے الفاظ نے بہت تکلیف دی ہے یہ تحریر کیا ان کی تضحیک میں لکھی گئی ہے ؟
سب سے پہلے تو اس پر بات ہوجائے جو آپ نے کاشف کی والدہ کے حوالے سے نامناسب انداز میں بات کی وہ بڑی عظیم خاتون ہیں بڑی خود دار اور یہی خوداری ان کی اولاد میں بھی ہے اور اس سے بڑی کوئی دولت نہیں اگر وہ آفس گئیں تو ان کے بیٹے نے نہایت محنت سے تحریر لکھی اس کا معاوضہ لینے گئیں یہ کونسی غلط بات تھی؟ کیا آپ اپنی تحریروں کا معاوضہ نہیں لیتے؟یا فی سبیل للہ لکھتے ہیں؟
دوسرا آپ نے بڑے برے طریقے سے ان کے بارے میں بات کی ۔وہ اسپیشل پرسن تھے تو یہ اللہ کی طرف سے تھا۔آپ نے یوں ذکر کیا کہ خدانخواستہ ان کے اس مسئلے کی وجہ سے ان کو پیمنٹ کی گئی
کیا یہ درست طریقہ ہے لکھنے کا؟؟؟
میں اس پوسٹ کے زریعے اس تحریر میں لکھے گئے ہر جھوٹ اور بہتان کا بھرپور دفاع کرتی ہوں۔
کاشف اپنی زندگی میں کبھی بھی کبھی بھی چھوٹی گلیوں والے گھر میں نہیں رہے جہاں گاڑی نہ جاسکے۔دوسرا یہ کہ کاشف کی گفتگو کا یہ انداز ہی نہیں جو آپ نے بیان کیا وہ کبھی بھی اس طرز کی گفتگو نہیں کرسکتے ۔آپ سید انور فراز انکل سے پوچھ لیں یا نوشاد عادل بھائی بہت لمبا عرصہ گزرا ان لگوں کے ساتھ کاشف کا۔یہ نہ کاشف کا طرز تھا نہ طریق ۔وہ آپ سے بےحد عقیدت اور محبت رکھتے تھے آپ کی تحریریں بہت شوق سے پڑھیں آپ سے یقینا بہت کچھ سیکھا ۔لیکن انھوں نے کبھی کسی کی تعریف ایسے نہیں کی بہت باوقار اور کمال شخصیت تھی ان کی۔اس طرح کہ الفاظ اور تعریفوں کوے یوں پل باندھنا ان کی عادت ہی نہیں تھی۔
ہمارا ولیمہ ہرگزہرگز کسی گلی محلے میں نہیں ہوا بہت شاندار ولیمہ تھا بہت خوبصورت ہال میں ہواکھانے میں صرف بریانی نہیں بہت کچھ تھا۔انکل آپ کی عمر بھی بہت ہوگئی ہے شاید آپ نے کسی اور کے ولیمے کی بات ہمارے ولیمہ سے مکس کردی ہے ۔کاشف کبھی اتنے گئے گزرے حالات میں نہیں رہے الحمد اللہ۔
میں نے اپنی زندگی کے چودہ برس کاشف کے ساتھ گزارے میری زندگی کے خوبصورت ترین دن تھے وہ سب کاشف کبھی مادیت پسند نہیں رہے کبھی بھی انھوں نے اتنی گھٹیا باتیں نہیں کیئں کی آپ کے ہزار گملے لان اور گھر دیکھ حسرت کریں جو ان کو جانتے ہیں ان کو علم ہے ان کی ٹائپ ہی یہ نہیں تھی وہ ان چیزوں سے بہت بہت بلند تھے ہم نے الحمداللہ کبھی کسی کے گھروں پر غور وفکر نہیں کیا کہ کتنے گملے اور لان اور کتنا بڑا گھر ہے۔
یہ کاشف پر سراسر الزام ہے ان کی توہین ہے اور یہ ناقابل برداشت ہے
وہ سیلف میڈ انسان تھے شدید محنتی شدید خودار اور ایسے انسان کے لیئے اپنی عزت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوتا۔
نہ ہی مجھے آج تک کبھی بھی ایسی گھروں اور بنگلوں سے دلچسپی رہی ہے کہ میں بولوں کہ ایسا گھر کب بنا کردیں گے۔سمجھ سے باہر ہے یہ سب باتیں ہم نے کی کب جبکہ ہم خود لاعلم ہیں۔
میں نے کاشف کی زندگی میں کبھی بھی جاب نہیں کی یہ بات بھی پتا نہیں آپ نے کیسے لکھ دی میرا تو مزاج ہی جاب والا نہیں ہے۔
کاشف جب بیمار ہوئے ہم انھیں آغا خان ہاسپٹل ہی لے کرگئے تھے اس کے بعد جب وہاں سے جواب دے دیا گیا تو ہم تب بھی بڑے ہاسپٹلز میں ہی لے کرجاتے رہے۔اللہ نے ان کی زندگی ہی اتنی لکھی تھی۔اللہ پاک کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں ان پر ۔بہت کچھ سیکھا ان سے وہ صرف میرے شوہر نہیں میرے استاد بھی تھے۔
لوگوں کے لیئے یہ کہنا کتنا آسان ہے کہ مریم نے کاشف کے انتقال کے سال بعد ہی دوسری شادی کرلی
کتنی بے رحمی سے ہم دوسروں پر بات کرلیتے ہیں،دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں کتنا برا سمجھا جاتا ہے ہمارے معاشرے میں دوسری شادی کو اگر عورت دوسری شادی کرلے تو وہ سب سے بری ہوجاتی ہے۔
جب کاشف کا انتقال ہوا میری عمر زیادہ نہیں تھی۔
میری ماں میرے غم میں میری عدت میں ہی انتقال کرگئیں تھیں کوئی سوچ سکتا ہے وہ میرے لیئے کیسی قیامت کے دن تھے ؟ کیا کوئی اندازہ لگاسکتا ہے میں کس تکلیف میں تھی میری صبح سے رات نہیں ہوتی تھی اور رات سے صبح نہیں ہوتی تھی۔
میرے والد جو خاندان کے مضبوط ترین انسان تھے مجھے دیکھ دیکھ کر سسکیاں لے لے کر روتے تھے ۔انہیں کینسر تھا اسی لئے وہ میرے حوالے سے ضرورت سے زیادہ فکرمند تھے ،بہن بھائی اپنے اپنے گھر کے تھے اگر میں نے اپنے والد کے کہنے پر دوسری شادی کرلی تو کیا برا کیا؟
کتنی بے رحمی سے ہم لکھ جاتے ہیں بول جاتے جس تکلیف سے بندہ گزرا ہوتا ہے وہ سوچ سکتے ہیں آپ؟
آج کے بعد کسی پر بات کرتے ہوئے ہزار بار ضرور سوچیئے آپ کے الفاظ کسی کے دل کو تو نہیں چیر رہے کہیں؟
اہلیہ مفتی حماد فضل(مریم)
۔۔۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
