سمے وار (تحریر: اقبال خورشید)
کرانچی کے ووٹرز کا دعوی ہے کہ یہاں صرف الطاف حسین کا ووٹ بینک ہے۔
شاید یہ بات درست ہو۔ یہ تو واضح ہے کہ الطاف حسین کو باہر کرنے کے بعد جو خلا پیدا ہوا، وہ اب تک نہیں بھر سکا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان بھی اس معاملے میں یک سر ناکام دکھائی دیتی ہے۔
کرانچی میں پی ٹی آئی کی مقبولیت بھی ایک حقیقت ہے،
البتہ اس میتھ کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے، جب ایم کیو ایم لندن کو سیاست کی اجازت دی جائے۔
اگر الطاف حسین قصہ ماضی بن چکے ہیں، تو ایک ہی الیکشن میں یہ واضح ہوجائے گا، اور پھر ان کے حامیوں کے پاس کوئی جواز نہیں رہ جائے گا۔
الطاف حسین کی جانب سے کی جانے والی تقریر قابل مذمت تھی، جس نے ایم کیو ایم کو توڑ دیا۔
وہ اس پر معافی مانگ کر ریاست کے ساتھ چلنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
مگر بہ ظاہر ریاست کو اس میں دل چسپی نہیں۔
اس وقت کرانچی کا ووٹ بینک ایک لاحاصل شے بن چکا ہے۔
Categories
الطاف حسین کی آمد ؟
