Categories
Exclusive Interesting Facts Society تہذیب وثقافت دل چسپ رمضان مہاجرقوم

مشرقی پاکستان میں ہمارا رمضان

سمے وار (تحریر: سرور غزالی)
سن 1970 میں رمضان المبارک کا پہلا روزہ یکم نومبر کو تھا۔ اسی سال کچھ عرصے قبل ہی ہم لوگ راج شاہی (مشرقی پاکستان) میں تقریباً 10 سال گزارنے کے بعد پاکسی آگئے تھے بنگال کے گاوں اور شہروں جیسے پاکسی، سولہ شہر، چٹاگانگ، راج شاہی اور ایک بار پھر پاکسی ہم لوگ ابو جان کی نوکری کی وجہ سے ہی، پیدائش سے لے کر اب تک یہاں وہاں پھرتے رہے تھے۔ جہاں جہاں ابو کا تبادلہ ہوتا وہاں ہم سب منتقل ہو جاتے۔ وہیں ہمارا داخلہ کسی اسکول میں کرادیاجاتا ہم لوگ پڑھائی شروع کردیتے اور کچھ عرصے بعد پھر کسی نئی جگہ منتقل ہوجاتے۔ اس سے قبل تک راج شاہی میں جب جب رمضان آتا اس کی اپنی بہار ہوتی۔ راج شاہی میں سحری میں اٹھانے کے لیے مختلف افراد آتے اور مختلف طریقے سے لوگوں کو جگاتے تھے۔ ایک صاحب جو پنکھے شاہ کے نام سے مشہور تھے وہ پیلی دھوتی زیب تن کیے اس پر پیلی چادر لپیٹ کر ہاتھ میں ایک پنکھا لے کر آیا کرتے تھے۔ سحری کے وقت تو ہم صرف ان کی آواز ہی سنا کرتے تھے اور یہ نہیں دیکھ پاتے تھے کہ وہ کونسا روپ دھار کر گشت پر نکلا کرتے تھے۔ لیکن رمضان شروع ہونے سے قبل اور رمضان ختم ہونے کے بعد وہ اپنے اس مخصوص لباس میں پنکھا ہلاتے ضرور نظر آتے اور رمضان کے مہینے میں لوگوں کو سحری میں جگانے کی خدمت کے عوض انہیں جو کچھ دیا جاتا بسر و چشم قبول کر لیتے تھے۔ ان کی پارٹ دار آواز ہمارے کانوں میں گونجتی “اٹھ جاؤ مومنو سحری کر لو” کا نعرہ لگاتے ہوئے وہ گزرجاتے اور سحری کے اختتام پر ایک بار پھر آواز لگاتے “مومنو بس اب کھانا پینا چھوڑ دو سحری کا وقت ختم ہو رہا ہے”۔ گٹھے بدن کے مالک، سانولی رنگت، ملگجی داڑھی اور زلف پریشاں، اپنے مخصوص لباس میں پنکھا جھلتے ہوئے بہت ہی منفرد اور بھلے لگتے تھے۔ راج شاہی چھوٹا تو، ان کا ساتھ بھی چھوٹ گیا اور اس بار جب پاکسی میں رمضان آیا تو سحری میں اٹھانے کا سلسلہ بھی شروع ہوا لیکن یہاں ایسی کوئی شخصیت نہیں تھی جو اس طرح مخصوص لباس اور آواز میں سحری کے لیے جگا نے آتی۔ بلکہ سحری کے لیے جگانے کا بندوبست کرنے کےلیے ریلوے ہی کے کسی جونیئر سٹاف میں سے کسی ایک شخص کے ذمہ یہ کام لگا دیا گیا اور وہ لوگوں کو جگا کر چلا جاتا تھا۔
ہمارے گھر میں رمضان کی آمد اور پورے مہینے سحر اور افطار کا اہتمام پورے ذوق و شوق اور خشوع و خضوع کے ساتھ کیا جاتا۔ ان دنوں امی سحری کے لیے لچھے اور زردے کا اہتمام کرتیں اور روزے دار کو دودھ میں ڈال کر سحری کرائی جاتی۔ امی جان سحری کی پابندی اور ٹھیک طرح سے مناسب مقدار میں سحری کے وقت کھانے پر زور دیتیں اور ان کا کہنا تھا کہ سحری کیے بغیر روزہ نہیں رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح افطار کا اہتمام خصوصی طور سے کیا جاتا اور نیبو کا شربت مختلف پھل، پھلکیاں اور گھگنی سےافطار کا دسترخوان سجایا جاتا۔
ہم چھوٹے بچوں میں سے جو بچہ بھی سحری کے وقت جاگ رہا ہوتا اسے سحری کرائی جاتی اور باوجود اس کے کہ وہ مکمل روزہ نہیں رکھتا یا رکھ سکتا تھا اسے ادھے دن کے روزے رکھنے کی بھی اجازت ہوا کرتی تھی اور افطار کے وقت تو گھر کے تمام افراد کا ایک ساتھ بیٹھ کر افطار کرنا اور بعد میں مغرب کی نماز ادا کرنا ہمارے گھر کی سب سے اہم اور مقدم روایت تھی۔ کسی بھی بالغ فرد کی طبیعت کی خرابی کمزور صحت یا کسی اور وجہ سے روزہ نہ رکھنے کی صورت میں فدیہ کے طور پر ایسے افراد کو تلاش کیا جاتا جو باقاعدگی سے سحری اور افطاری لینے کے لیے اتے اور انہیں سحری اور افطاری دی جاتی۔ رمضان کے مہینے میں ابو جان بہت ساری ساڑیاں اور لنگیاں خرید کر لاتے اور انہیں رمضان کے آخری عشرے میں، عید سے قبل غریب غرباء اور ایسے جان پہچان کے افراد کو دیا جاتا جو عید کے دن نئے کپڑے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔
نومبر مہینے کا یہ رمضان پاکسی میں ہم سب کا آخری رمضان تھا اور بقرعید سے کچھ عرصہ قبل ہم لوگ ڈھاکا چلے آ ئے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights