Categories
Education Exclusive Mishaal Zahoor Society تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ سمے وار بلاگ مشعل ظہور

جو روشنی نہ ہونے کے باوجود روشن ہیں!

سمے وار (تحریر: مشعل ظہور)
ہر خاندان میں ایک ایسی منفرد شخصیت ضرور ہوتی ہے، جس کی کہانیاں مذاق اور انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ہمارے خاندان میں وہ شخصیت میرے ایک ماموں ہیں۔ آنکھوں میں روشنی سے محروم ہونے کے باوجود وہ ہمارے خاندان کے واحد انسان ہیں جنھوں نے سب سے زیادہ ملک گھوما ہے اور خوب سیر سپاٹے کیے ہیں۔ ان کے سفر کی کہانیاں خاندان بھر میں مشہور ہیں۔
اپنے دوست ٹوٹو کے ساتھ، جو خود بھی ایک منفرد شخص ہیں، ماموں نے پورا پاکستان گھوما ہے۔ بلوچستان سے پنجاب تک، کوئٹہ سے سرگودھا تک، ماموں ہر جگہ ہو کر آئے ہیں۔
وہ ہمیں سفر کی کچھ ایسی کہانیاں سناتے تھے کہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کیا حقیقت ہے اور کیا ان کا اپنا تصور۔ وہ ہمیں پریوں کی داستانیں سناتے تھے اور ہم آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیلیٰ نام کی ایک پری ان کی محبوبہ ہے، جو بہت امیر ہے، تو کبھی کہتے تھے کہ ان کی ایک اور محبوبہ پری پہاڑوں میں پھولوں کے اندر رہتی ہے۔ پریوں کی اتنی کہانیاں شاید میری مرحوم نانی نے بھی ہمیں نہیں سنائی ہوں گی جتنی ماموں سناتے تھے۔ وہ اپنی پری محبوباؤں کے لیے لکھی ہوئی شاعری بھی سناتے تھے۔
ماموں کا رشتہ بچپن ہی میں ان کی کزن سے طے ہوا تھا، لیکن جب ان کی آنکھیں حادثے کا شکار ہوئیں تو یہ رشتہ بھی ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد نہ ماموں کی شادی ہوئی اور نہ ہی ان کی منگیتر کی۔ ماموں ساری زندگی کنوارے رہے اور اپنا دل ان پریوں کی کہانیوں سے بہلاتے رہے۔
لوگ اکثر ماموں کے پاس دعائیں کروانے اور شفا کے لیے آتے تھے۔ ماموں سارا دن وظائف پڑھتے اور لوگوں کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ امی، جو انھیں کبھی زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتیں، ان کی دعاؤں پر یقین کرتی ہیں اور بچپن میں ہمیں زبردستی ماموں کے پاس لے جاتی تھیں۔
ماموں کے بھی عجیب شوق تھے اور رہنے کا طریقہ بھی عجیب تھا۔ پریوں کے بعد ان کا دوسرا گہرا عشق پانی تھا۔ نانی اکثر ان سے جھگڑتی تھیں کیونکہ وہ سارا پانی خرچ کر ڈالتے تھے۔ جب نل میں پانی نہیں آتا تھا تو ماموں قریب کے دریا پر چلے جاتے، جہاں ہم اکثر کھیلا کرتے تھے۔ ایک دفعہ انھوں نے دریا کے پاس ہماری آوازیں سنیں اور ہمیں ڈرایا کہ اس دریا میں خطرناک مگرمچھ رہتے ہیں جو بچوں کو کھا جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہم کبھی دریا کی طرف نہیں گئے اور ماموں نے دریا پر قبضہ جما لیا۔
بصارت سے محرومی کی وجہ سے انھیں کبھی لکھنے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔ اس لیے وہ ہمیں گھنٹوں زبردستی اپنے پاس بٹھائے رکھتے اور نہ جانے کن کن دوستوں کے لیے خط لکھواتے تھے۔ انھیں ڈائریاں جمع کرنے کا بڑا شوق تھا، جن میں کبھی دوستوں اور رشتے داروں کے نمبر لکھواتے تو کبھی کوئی وظیفہ۔ اپنے صندوق میں مٹھائی، کھوپرے، مسواک، سرمہ اور پیسے چھپا کر رکھتے اور کسی کو اپنے کمرے میں آنے نہیں دیتے تھے۔
ہم بچے شرارت میں ان کے کمرے میں جا کر صندوق کی تلاشی لیتے تو نہ جانے انہیں کیسے پتا چل جاتا اور پھر ہماری شامت آتی تھی۔ خالہ اور گھر والوں کا کہنا تھا کہ ماموں کو ’’حساب‘‘ ہے، انہیں تنگ مت کیا کرو، بخار ہو جائے گا۔ ایسی ہی کچھ باتیں مشہور تھیں۔ کوئی ان کے کمرے میں نہیں جاتا تھا، سب کتراتے تھے۔
ایک دفعہ غلطی سے میں اور میری کزن ان کے کمرے میں ہی سو گئے۔ ماموں کو پتا بھی نہیں چلا اور انہوں نے دروازے کی کنڈی بند کر دی۔ اتنے میں خالہ آ گئیں اور زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے لگیں۔ ہمیں باہر نکالا گیا تو بہت ڈانٹ پڑی کہ ماموں کو ’’حساب‘‘ اور جن ہیں، ان کے کمرے میں مت جایا کرو اور نہ ہی ان کی چیزیں چھیڑا کرو۔
جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی، احساس ہوا کہ نہ ان کی پریوں کی کہانیاں سچ تھیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی جن یا ’’حساب‘‘ تھا۔ انھیں ذہنی بیماری تھی، جسے گھر والے سالوں نظر انداز کرتے رہے۔ انھیں کبھی باپ کا پیار نہیں ملا، الٹا اکثر ان کی پٹائی ہوتی تھی اور نانی بھی ان سے بس جھگڑتی رہتی تھیں۔
ہم اکثر لوگوں کو مذاق کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ ان کی لاچاری ہمارے لیے گویا تفریح کا ذریعہ بن جاتی ہے اور ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ کس اذیت سے گزر رہے ہیں۔ اگر وقت پر ماموں کی آنکھوں کا علاج کروا دیا جاتا یا کسی نے انھیں توجہ دی ہوتی تو شاید ان کا حال ایسا نہ ہوتا۔
وہ اپنی جماعت میں سب سے ذہین شخص تھے۔ ایک زمانے میں کچھ انگریز آئے تھے اور وہ ماموں کی قابلیت سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے نانا سے کہا کہ وہ ماموں کو اپنے ساتھ ولایت لے جائیں گے اور وہاں اعلیٰ تعلیم دلوائیں گے، مگر گھر والے نہیں مانے۔
اب بھی جب ماموں سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ پریوں کی باتیں کرتے ہیں، ٹوٹو کے لطیفے سناتے ہیں، اپنے سفر کے قصے سناتے ہیں اور خط لکھواتے ہیں، حالاں کہ شاید انھیں معلوم ہے کہ اب خطوط کا زمانہ نہیں رہا۔ کوئی ان کے خط ڈاک خانے نہیں لے جاتا اور ان کے دوست بھی کبھی خط نہیں لکھیں گے، مگر وہ پھر بھی خط لکھواتے ہیں۔
میری زندگی میں وہ ایک ایسے شخص ہیں، جس نے کبھی اپنے دکھ کو ظاہر کیا اور نہ کبھی کوئی شکایت اپنے لب پر لائے۔ وہ ایک ایسے مینارہ ہیں، جس کے پاس روشنی نہیں، لیکن پھر بھی وہ اپنے قرب وجوار کو جتنا ہوسکتا ہے اجالے رکھتا ہے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights