سمے وار (خصوصی رپورٹ)
کراچی چیمبر آف کامرس کے انتخابات کالعدم قرار دیے جانے کے بعد “بزنس مین الائنس” کے چیئرمین آصف سخی نے الزام عائد کیا کہ برسراقتدار گروپ “بی ایم جی” (بزنس مین گروپ) کراچی ایوان صنعت وتجارت کے انتخابات ٹھیک سے ہونے ہی نہیں دے رہے تھے۔ ‘ڈی جی ٹی او’ کے قانون کے مطابق کارپوریٹ اور ایسوسی ایٹ ممبران اور ووٹر لسٹ علیحدہ ہونی چاہئیں، جب کہ “بی ایم جی سن 2014 سے اس قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے یہی نہیں انھوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف انتخابات کروا کر اقتدار حاصل کیا
ہم “ڈی جی ٹی او” میں سالانہ تجدیدی فیس کے معاملے کو بھی چیلنج کریں گے ،سالانہ تجدیدی فیس 1200روپے مختص ہے، لیکن اس کے بہ جائے 5 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں جو سالانہ کروڑوں روپے بنتے ہیں، آڈٹ کرواتے وقت ہم ممبرشپ قوانین کو بھی چیلنج کریں گے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کراچی چیمبر آف کامرس کا لائسنس منسوخ ہونے کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے
آصف سخی نے کراچی چیمبر میں “بی ایم جی” کی جانب سے صدر کے لیے طے شدہ
اردو، میمن اور پنجابی بولنے والوں کی ترتیب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ گروپ بندی ختم کریں اور میرٹ پر فیصلہ کریں۔ واضح رہے کہ کراچی چیمبر میں آف کامرس میں باری باری اردو، پنجابی اور میمن صدر نام زد کرنے کی پالیسی “بی ایم جی” کی جانب سے اختیار کی گئی ہے۔ آصف سخی نے مزید کہا کہ ہم کراچی چیمبر کے 10 سال کے آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر ڈی جی ٹی او کے اصولوں سے کراچی چیمبر چلایا جائے تو بی ایم جی کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔
Categories
چیمبر آف کامرس : اردو، میمن اور پنجابی گروپ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
