(تحریر: ابن اعوان)
قسائی سے اچھا گوشت لینا ہے تو اُس کی نفسیات سمجھنا ہوگی کیوں کہ وہ آپ کی نفسیات سے بہ خوبی واقف ہے۔ عوام کی اکثریت قسائی کو جا کر کہتی ہے کہ
“بھیا ایک کلو گوشت دینا” یہ جملہ سنتے ہی اُسے سمجھ میں آجاتا ہے کہ میرے پاس اب فری ہینڈ ہے۔ وہ تھوڑی سی بوٹی ران سے اُتارتا ہے، بغل میں رکھے چھیچھڑے اور چربی ڈالتا ہے، دو چار پسلیاں مکس کرتا ہے اور ایک کلو کی پڑیا آپ کو تھما دیتا ہے۔ اس مکس اچار کی کوئی ڈھنگ کی ڈش بھی نہیں بنے گی۔
اس کے برعکس اگر آپ جاتے ہی کہیں کہ
“بھیا بونگ کا پیس دکھاؤ!”
“دستی پڑی ہے؟”
“پُٹھ کی کیا صورت حال ہے؟” تو اُسے فوراً سمجھ میں آجائے گا کہ اُس کا واسطہ کسی کُوڑھ یا عطائی سے نہیں پڑا بلکہ سامنے ایک سمجھ دار آدمی کھڑا ہے لہٰذا سنبھل کر بات کرنا ہوگی۔
آپ کے لیے لازم ہے کہ ہمیشہ گوشت کا پورا ٹکڑا تلوائیں۔ چھوٹے بڑے ہر طرح کے پیس ہوتے ہیں۔ اڑھائی تین کلو لینا ہے تو بونگ بن جائے گی۔
کلو لینا ہے تو دستی طلب کر لیں۔ اگر لازمی ران ہی لینی ہے، تو پھر بعد از دوپہر قسائی کے پاس جائیں کیوں کہ ران وہ سب سے آخر میں بیچتے ہیں۔ وہ ان کا شوپیس ہوتا ہے اگر آپ صبح صبح جا کر ران طلب کریں گے، تو وہ بس ایک چھلکا سا ران کا اُتار دیں گے اور باقی دوسرے درجے کے لوازمات شامل کر دیں گے، لیکن جب سب سے آخر میں صرف ران ہی ران باقی ہوگی تو ظاہر ہے اُسے بیچنا ہی ہوگا۔
پاکستان میں گوشت کو پانی لگا کر اِس کا وزن بڑھانے کا قبح فعل عام ہے۔ پہلے پہل تو قسائی صرف گیلا کپڑا گوشت پر لپیٹا کرتے تھے، مگر اب باقاعدہ “کمپریسروں” کے ساتھ گوشت کی نسوں میں پانی داخل کر دیا جاتا ہے، جس سے وزن دُگنا ہو جاتا ہے۔ جب آپ گھر آ کر گوشت ہانڈی میں ڈالتے ہیں تو ہانڈی پانی سے بھر جاتی ہے اور بوٹیاں سکڑ کر چھوٹی ہو جاتی ہیں۔ یاد رکھیے ران وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ پانی جذب ہوتا ہے۔ کوشش کیجیئے کہ ران سے اجتناب برتا جائے۔ ہڈی والا گوشت ایک تو ذائقے دار ہوتا ہے دوسرا اس میں پانی کی مقدار نسبتاً کم ہی شامل ہوسکتی ہے۔
گوشت ایک عیاشی ہے۔ لوگوں کی اکثریت اسے بہ مشکل خریدتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جب آپ مشکل سے کمائے پیسوں سے گوشت خرید کر اپنے بچوں کے لیے گھر لے کر جائیں، تو بہتر سے بہترین چیز ہو۔ آپ کا پیسہ برباد نہ ہو۔
Categories
گوشت خریدنے سے پہلے قسائی کو سمجھ لیجیے!
