Categories
Karachi Society انکشاف تہذیب وثقافت دل چسپ رضوان طاہر مبین سندھ قومی تاریخ کراچی مہاجرقوم ہندوستان

کراچی کیا سے کیا ہوگیا؟

تحریر: رضوان طاہر مبین
گذشتہ دنوں آرٹس کونسل میں منعقدہ ’عالمی اردو کانفرنس‘ میں چوتھے دن ’شہر نامہ‘ کے عنوان سے سجائی جانے والی ایک بیٹھک میں معروف شاعر افتخار عارف نے کہا کہ یہ قائداعظم کا فیصلہ نہ تھے، بلکہ پہلے ہی سے یہ طے تھا کہ کراچی ہی دارالحکومت ہوگا، سندھ میں مہمان نوازی میں کسر نہ تھی، تضاد تب ہوا، جب طلبہ تحریک کی وجہ سے ایوب خان نے اسلام آباد کو دارالحکومت بنایا۔ افتخار عارف کو یہ شکایت رہی کہ سیاسی بصیرت والوں نے اپنا مثبت کردار ادا نہیں کیا، کہتے ہیں کہ میرا جس لسانی گروہ سے تعلق تھا، وہ کراچی میں تھے، میں اس لیے ہندوستان سے جب آیا تو یہاں آیا، بہت سے لوگ ملتان اور لاہور بھی گئے، جب کہ مجھے یہاں سہولت تھی۔ لکھنﺅ یونیورسٹی میں میرے استاد یہاں تھے۔ یاور مہدی نے مجھے ریڈیو بلالیا، اس زمانے میں عبیداللہ بیگ کئی ناموں سے لکھتے تھے، ان کے مختلف موضوعات کے لے مختلف نام تھے۔ خالد اسحق جیسی بڑی لائبریری کسی کی نہ دیکھی۔
سب بڑے لوگ کراچی میں مختلف جگہوں سے آئے تھے، سبط حسن اس شہر کے ہیں، لکھنے والوں کو ریڈیو، اور ٹی وی والوں کو نہیں نکال سکتے۔ سلیم گیلانی، محمود شیرانی اور حسام راشدی جن کا ذکر تو ایران میں بھی ہوتا ہے۔ سب کی شناخت کراچی ہے۔ اس وقت پورے شہر میں ایک بھی مورخ نہیں ہے ریاض الاسلام اس شعبے کے آخری آدمی تھے۔ آپ اشتیاق قریشی کے کام سے انکار نہیں کر سکتے ، کچھ یاد رہ جاتے ہیں، کچھ یاد کیے جانے چاہئیں۔ آدم جی، داﺅد، حبیب، باوانی سے بھی اس شہر کی شناخت ہیں، لیکن اصل شناخت علم اور تہذیب سے ہے۔
اسی نشست میں زہرانگاہ بھی جلوہ افروز تھیں،انھوں نے کہا کہ حیدرآباد دکن میں ان کے نانا کا تعلق ’اتحاد المسلمین‘ سے تھا، جس کی سرگرمیوں کے بعد وہاں تناﺅ ہوا۔ تب گھروں کا آنگن سبھی کا بڑا ہوتا، جو امارت کی علامت نہ تھی، ان کے گھر کے آنگن میں پچاس، ساٹھ لوگ لٹھ بازی کی مشق کرتے کہ ان کا یہ جذبہ تھا کہ وہ اس سے ٹینک کا مقابلہ کریں گے۔ ہمارے والد دوا لینے کے لیے ممبئی گئے، پھر ایک ماہ بعد پتا چلا کہ وہ جیل میں ہیں، کیوں کہ وہ جو دوا لینے گئے تھے، اس پر پابندی تھی۔ نانا نے ان کی واپسی کے لیے سرمایہ لٹا دیا۔ وہ ممبئی کے منسٹر مرارجی بھائی تک گئے، جب والد گھر آئے، تو فیصلہ ہوا کہ پاکستان جائیں گے ، والدہ سے پوچھا، کہاں جائیں گے؟ کہا، جہاں اللہ کا حکم ہوگا۔ یہاں آنے والا ہمارا آخری جہاز تھا، اس کے بعد ’پرمٹ‘ ہوگیا تھا۔ کیماڑی سے اتر کر یہاں جو سب سے حیرت انگیز چیز دیکھی، وہ اونٹ گاڑی تھی۔ رشتہ دار چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے تھے، مجھے لگتا ہے کہ قبضہ ہی کیا ہوگا! صاف سڑکیں، ایسی کہ کھانا بکھیر کر سمیٹ لو۔ ماہر القادری ہمارے نانا نانی کو اپنے ہاں لے گئے۔ میری ایک استانی دلی کی تھیں، ان کی رخصتی پر نظم لکھی، پھر ’اپوا‘ کا مشاعرہ پڑھا۔ پردے میں مرد تھے۔ بھئی فلانے دہلوی کی بیگم آجائیں، بچہ رو رہا ہے۔ بیگم صدیق مشاعرے میں عورتوں کی صدارت کر رہی تھیں اور مردوں میں ہاشم رضا صدارت کر رہے تھے۔ جن کی کبھی کبھی داد کی آواز آجاتی تھی، جس پر رئیس امروہوی نے لکھا کہ ’یہ ستم کی بات ہے کہ ہاشم رضا پردے میں ہے! ہمیں تو کہیں بھی بٹھا لو شاعر ہیں، سزا یہ ہے کہ ہاشم رضا پردے میں ہے!
زہرہ نگاہ نے بتایا کہ ان کے گھر کی چھت کمزور تھی، بارش کا پانی اندر آ جاتا تھا۔ وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر گزار تو لکھا ”ڈوبتوں کو دیکھ لیا ناخدا نے آج“ اسے سیاسی سمجھ لیا گیا تھا۔ ۔ مجھے لاہور شہر سے شہرت ملی۔ مشاعرہ پڑھا تو مجید لاہوری نے لکھا کہ اب نورجہاں کی ضرورت نہیں! کہا جاتا کہ کوئی لکھ کر دیتا ہوگا، پوچھا کب تک نانا کے شعر پڑھیں گی، میں نے کہا ”آپ کے نانا کے تو نہیں پڑھ رہی۔“
رئیس امروہوی کے قطعات میں پوری تاریخ ہے، کیسے کیسے صاحب نذر گولی ماور اور لالو کھیت ہو کے رہ گئے!“ لیکن ان پر کبھی مقدمہ نہیں ہوا، ہماری ’خفیہ‘ اتنی کمزور تھی کہ اسے کچھ پتا ہی نہیں چلتا تھا، خفیہ تھی ہی نہیں۔ جیسے لوگ بدلتے ہیں، ایسے شہر بھی بدلتے ہیں، لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شہر مر جاتے ہیں، لوگ بھی مر جاتے ہیں!
کراچی میں ادب وتہذیب کا فقدان نظرآتا ہے۔ پہلے سول سروس میں بھی عمدہ لوگ تھے۔ جیسے الطاف گوہر، ان کا بڑا حصہ ہے اس آرٹس کونسل میں بھی، دراصل ہماری اخلاقیات کا بھی بڑا نقصان ہوا ہے
کوئی شے مکمل نہیں ہے یہاں
کوئی شخص پاگل نہیں ہے یہاں
فراست رضوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس شہر کو ہوس زر کھا گئی! کراچی میں ایک کتابوں کی دکان حسن سوز کی تھی، جو خود بھی شاعر تھے۔ ریگل میں کتابوں کے باقاعدہ مُال تھے۔ ایرانی ہوٹل میں ہر وقت اتنے لوگ مل جاتے کہ کوئی بھی لفظ پوچھنا ہو اِن سے پوچھ لیجیے، آج تو تین تین ماہ ہو جاتے ہیں کسی لفظ کا پوچھنا ہو تو کوئی ایسا شخص نہیں مل پاتا! کراچی بغداد، قرطبہ اور نیشا پور تھا۔ اس شہر کو ہوسِِ زر کھا گئی۔ سلیم احمد اے جی سندھ تھے، لیکن کسی کو یہ خبر ہی نہ ہوتی تھی، وہ کسی کو یہ احساس نہیں دلاتے کہ تم جانتے نہیں یا تم نے فلاں کتاب نہیں پڑھی، یا تم یہ بات نہیں سمجھ سکتے۔
ممتاز صحافی غازی صلاح الدین کچھ یوں گویا ہوئے کراچی کی موجودہ آبادی سے چوتھائی آبادی میں 136 سینما ہوتے تھے، 1960ءکی دہائی میں یہاں لوگ گھر والوں کے ساتھ فلمیں دیکھتے تھے۔ ضیا دور میں ’کراچی ڈائری‘ لکھنی شروع کی، جس میں شہر کی مختلف سرگرمیاں لکھتا، جیسے منیر نیازی یہاں آئے، تو میں انھیں سمندر لے گیا، ان کے تاثرات لے لیے، تصویروں کی نمائش کا احوال لکھ لیا۔ بین السطور لکھا، بھٹو کا نام لکھنے پر پابندی تھی، چار اپریل کو مارٹن لوتھر کنگ کے قتل پر لکھ دیا۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights