(تحریر: تحریم جاوید)
مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے گذشتہ روز اپنی رہائی کے بعد اپنی رہائی کے لیے بات کرنے والے ہر ایک کا فرداً فرداً نام لے لے کر شکریہ ادا کیا جس میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب جیل میں انھیں یہ اطلاع ملی کہ الطاف صاحب نے ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے تو مجھے ایسا لگا کہ میں 1986 میں موجود ہوں، جب ہم سب ایک تھے۔
یہ بات کہتے ہوئے ان کا چہرا ان کے اندرونی جذبات کی بجا طور پر عکاسی کر رہا تھا، انھوں نے کہا اس میں سب کے لیے پیغام ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اس موقع کو کوئی الفاظ دوں۔ پھر آفاق احمد نے بتایا کہ ان پر الزام لگا کہ وہ لسانی فساد کی سازش کر رہے ہیں، جب کہ ڈمپر اور ٹینکروں سے مرنے والے سب لوگ شامل ہیں، وہ کٹی پہاڑی گئے تو پٹھانوں نے ان کے لیے نعرے لگائے، ابھی حادثے میں سندھی نانا نواسے جان سے گئے تھے، اس مسئلے پر سب میرا ساتھ دے رہے ہیں کیوں کہ انھیں پتا ہے کہ آفاق احمد سب کی بات کر رہا ہے۔ اگر 1986 والی بات اور سب کی بات کرنے کے معاملے کو دیکھا جائے تو متحدہ سے ان کا اختلاف ہی یہ رہا ہے کہ وہ کہتے رہے تھے کہ پہلے مہاجروں کی بات، بعد میں باقی قومیتوں کی بات۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ واقعی کوئی تبدیلی ہے یا صرف ایک وقتی موقف ہے۔
Categories
1986 اور آفاق احمد کی “متحدہ سوچ”
