سمے وار (تحریر: ڈاکتر عبید علی)
ستر کے اخر میں قیام ہوا ۔ کئی لوگ شامل تھے ، کئی شریک سفر رہے ۔ انھیں کوئ نہیں جانتا تھا ۔ یہ لوگ مارے مارے پھرے ۔ کھمبے بجے اور سورج اسی کے اخر میں اپنے اب و تاب پر پہنچ گیا ۔ جن کے پاؤں تلے زمین گئی ، انکی ناراضگی دنیا میں دستیاب شعوری سطح کے آفاقی اصولوں پر تھی ۔ کیا منظر تھا ۔ کئی لوگ اس قافلے میں شامل ہوئے ۔ نشہ چڑھنا شروع ہوا ، طاقت مرکوز ہوئ ، موسم بدلے ، شام کے افق پر سرخی تھی ، دن میں بھی آسمان لال ہوئے۔ طاقت ور نے جسے چاہا اسے ہیرو بنایا ۔
یاد رکھیں پہلے والے خواب کے معمار تھے ۔ بعد کے بعد والے اس مکان کے رہائشی ۔ پہلے والوں نے “اسے یعنی شناخت اور اسکے بابا جی” کو بنانے میں دن رات ایک کیے تھے ۔ بعد والوں کو باباجی نے بنایا تھا۔ دونوں نہ برابر ہیں اور نہ ہی کوئی مماثلت قابل قدر۔۔۔۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ پہلے والے اچھے تھے اور بعد والے کم اچھے ۔۔۔ لیکن پہلے والوں کو یہ کہنا کہ وہ کچھ نہ تھے ، یہ آلودہ جملہ شایان شان نہیں ۔ بعد والوں کے بارے میں یہ کہنا کہ ہم نے بنایا ، تو سوال ہوگا کہ آپ کا شعور اتنا کم تھا اور نہ جانے کیا کیا برے فیصلے کیے ہوں گے
اچھا وقت ہو یا برا ، انسان رہیے ، تشدد ، چوری ، نفرت سے کوسوں دور رہیے ۔ کوئ بھی اپنے جسم سے اپنے اجداد کا خون الگ نہیں کرسکتا ، اگر وہ پاکستان ہوش میں سب چھوڑ چھاڑ کر آئے تھے ، ہم شان سے سینہ ٹھوک کر اپنے اجداد کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ وقت ویسے بھی یکساں نہیں رہتے ، بدلتے اور گردش ایام میں رہتے ہیں ۔ اللہ حامی رہے ۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
