(تحریر: فاطمہ مقنی قادری)
ہر شخص ایران کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔ خامنہ ای کا ذکر ہو رہا ہے۔
اسرائیل کی بات ہو رہی ہے لیکن میں کچھ اور دیکھ رہی ہوں۔
حقیقی جنگ کہیں اور جاری ہے۔ میں آپ کے سامنے دو واقعات پیش کروں گی۔ بظاہر ان کے درمیان کوئی تعلق نہیں، لیکن ان کے درمیان ایک ربط ہے… اور میں اسے آپ پر واضح کروں گی۔
پہلا واقعہ:
امریکا نے وینزویلا میں ایک کارروائی انجام دی۔ مادورو کو گرفتار کر لیا گیا۔ سب نے کہا: “آمر گر گیا”۔ تالیاں بجیں۔ بعض نے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔ لیکن کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا: وینزویلا کے تیل کا سب سے بڑا خریدار کون تھا؟
چین۔
وینزویلا روزانہ 8 لاکھ بیرل تیل براہِ راست چین کو فروخت کرتا تھا۔ مادورو گیا… اور یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔
دوسرا واقعہ:
امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ خامنہ ای مارے گئے۔
سب نے کہا: “جوہری خطرہ ختم ہو گیا”۔ کچھ نے خوشی منائی، اور کچھ نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے کر احتجاج کیا۔
لیکن کسی نے یہ سوال نہیں کیا: ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار کون تھا؟
چین۔
ایران روزانہ 15 لاکھ بیرل تیل براہِ راست چین کو فروخت کرتا تھا۔ جنگ شروع ہوئی… اور یہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔
دو مختلف ممالک۔ دو مختلف براعظم۔ مختلف جواز۔ لیکن خریدار ایک ہی: چین۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟ ہرگز نہیں۔
میں وضاحت کرتی ہوں…
رے ڈالیو کا نظریہ بالکل واضح ہے: جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت قائم شدہ طاقت کے قریب پہنچتی ہے، تو تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ منظر پہلے بھی دہرایا جا چکا ہے۔
جرمنی ابھرا اور برطانیہ سے آگے نکلنے کے قریب پہنچا۔ نتیجہ: پہلی جنگِ عظیم۔
جاپان ابھرا اور بحرالکاہل میں امریکا کے قریب پہنچا۔ نتیجہ: دوسری جنگِ عظیم۔
سوویت یونین ابھرا اور امریکا کو چیلنج کیا۔ نتیجہ: سرد جنگ۔
اب چین کی صورت حال کو دیکھیے۔
چین اکیلا دنیا کی 28 فی صد پیداوار کرتا ہے۔ اور ہر سال امریکا کے مزید قریب آ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے اندازے واضح ہیں: 2030 تک چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔
یہ امریکا کے لیے وجودی بحران ہے۔
کسی بھی عظیم طاقت کے لیے سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب اس کا حریف اسے پیچھے چھوڑنے کے قریب ہو۔ یا تو وہ اسی لمحے اسے روک لے… یا پھر بعد میں روکنا ممکن نہیں رہتا۔
اور جو کچھ آپ آج دیکھ رہے ہیں، وہ اسی عمل کا حصہ ہے۔
کیسے؟
چین اپنی ضرورت کا 73 فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔ اس کی اپنی پیداوار کافی نہیں۔ اسے لازماً درآمد کرنا پڑتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے:
آپ کے سامنے ایک بہت بڑا انجن ہے۔ نہایت طاقتور۔ دنیا کی ایک چوتھائی پیداوار کو چلا رہا ہے۔ بظاہر ناقابلِ توقف۔
لیکن اس کی ایک کمزوری ہے: یہ اپنا ایندھن خود پیدا نہیں کرتا۔
اس انجن کے چار ایندھن کے پائپ ہیں:
پہلا: وینزویلا
دوسرا: ایران
تیسرا: روس
چوتھا: سعودی عرب
امریکا کیا کرتا ہے؟
ان پائپوں کو کاٹ دیتا ہے۔
وینزویلا کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔
ایران کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔
روس کو پابندیوں کے ذریعے محدود کر دیا گیا۔
اور سعودی عرب؟ جنگ کے باعث پیداوار میں کمی آ گئی۔
کسی انجن کو روکنے کے لیے ضروری نہیں کہ اس سے براہِ راست لڑا جائے۔
اس کا ایندھن کاٹ دیجیے… وہ خود ہی رک جائے گا۔
یہ نوٹ کر لیجیے:
وینزویلا سے کٹنے والی مقدار: 8 لاکھ بیرل روزانہ
ایران سے کٹنے والی مقدار: 15 لاکھ بیرل روزانہ
مجموعہ: 23 لاکھ بیرل روزانہ
چین کی روزانہ درآمد: تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل
صرف دو ماہ کے اندر، چین کی سپلائی کا 20 فیصد منقطع کر دیا گیا۔
اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی… کیونکہ سب کی نظریں ایران پر تھیں۔
لیکن توانائی ہی واحد محاذ نہیں ہے۔
چین ایک اور منصوبہ بھی تشکیل دے رہا تھا: جدید شاہراہِ ریشم۔ ایک وسیع تجارتی نیٹ ورک جو بیجنگ سے یورپ کے قلب تک پھیلا ہوا ہے۔ ریلوے، بندرگاہیں، پائپ لائنیں، اور کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری۔
کیوں؟
کیوں کہ جو یورپ کے ساتھ تجارت پر کنٹرول حاصل کرے… وہ عالمی معیشت پر اثرانداز ہوتا ہے۔
اور یورپ کا جھکاؤ چین کی طرف ہو رہا تھا۔
جرمنی: اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اب امریکا نہیں بلکہ چین ہے۔
فرانس: نئے معاہدے کر رہا ہے۔
اٹلی: باضابطہ طور پر اس منصوبے میں شامل ہو چکا ہے۔
یورپ بتدریج امریکا سے دور اور چین کے قریب ہو رہا تھا۔
یہ امریکا کے لیے دوسرا بحران ہے۔
پہلا: چین کی معاشی برتری
دوسرا: یورپ کا کھو جانا
اگر امریکا یورپ کو کھو دے… تو اس کے پاس کیا باقی رہتا ہے؟ اسلحہ اور ڈالر۔ اور یہ دونوں اکیلے کافی نہیں۔ اسی لمحے… ایران پر حملہ ہوا۔ ایران شاہراہِ ریشم کا ایک اہم مرکزی نقطہ تھا۔ اس کا استحکام چین کے یورپ تک پہنچنے کے لیے ضروری تھا۔ یہ استحکام تباہ کر دیا گیا۔ ایک ہی اقدام میں، امریکا نے دو کام کیے:
چین کا ایندھن کاٹ دیا۔ اور اس کے تجارتی راستے کو روک دیا۔
انجن بغیر ایندھن کے… اور راستہ بند
آگے ایک نقطہ باقی ہے:
تائیوان۔ تائیوان کیوں اہم ہے؟ دنیا کی 90 فیصد جدید ترین الیکٹرانک چپس وہیں تیار ہوتی ہیں۔آپ کا فون، آپ کی گاڑی، آپ کے ہتھیار… سب اسی پر منحصر ہیں۔
جو تائیوان کو کنٹرول کرے… وہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرے گا۔
امریکا کہتا ہے: “ہم تائیوان کی حمایت کریں گے”
چین کہتا ہے: “تائیوان ہمارا ہے… چاہے طاقت سے لینا پڑے”
کوئی مصالحت ممکن نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈالیو کا نظریہ حقیقت بن جاتا ہے۔ یہ تمام حرکات… اسی تصادم کی تمہید ہیں۔
ذرا تصور کیجیے دو پہلوان مقابلے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ایک، دوسرے کو رنگ میں اترنے سے پہلے ہی پانی اور خوراک سے محروم کر دیتی ہے۔
وینزویلا: منقطع
ایران: منقطع
روس: محدود
یورپ: دور کر دیا گیا
میدان: تائیوان
اور اس کی طرف پیش قدمی روز بروز تیز ہو رہی ہے۔
لیکن ایک اور پہلو بھی ہے، امریکا صرف چین کو کمزور نہیں کر رہا… بلکہ خود بھی فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ہر جنگ کا مطلب ہے اسلحہ کے سودے۔
جب مشرقِ وسطیٰ میں بم گرتے ہیں… تو خلیجی ممالک کیا کرتے ہیں؟
وہ اسلحہ خریدتے ہیں۔
اور کس سے؟ امریکا سے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر… سب اپنی دفاعی بجٹ میں اضافہ کرتے ہیں۔
ہر دھماکا = ایک سودا
ہر بحران = ایک معاہدہ
ہر جنگ = اربوں ڈالر
امریکا چین کا ایندھن کاٹ رہا ہے… اور اپنی تجوریاں بھر رہا ہے۔
ایک ہی حکمتِ عملی… پانچ فوائد:
1- چین کی توانائی کا خاتمہ
2- اس کے تجارتی راستے کی معطلی
3- خطے پر کنٹرول
4- اسلحہ سے منافع
5- تائیوان سے پہلے چین کو کمزور کرنا
سب لوگ مختلف جنگیں دیکھ رہے ہیں۔
میں ایک ہی حکمتِ عملی دیکھ رہی ہوں۔
وینزویلا ایک محاذ ہے۔
ایران ایک محاذ ہے۔
روس ایک محاذ ہے۔
یورپ ایک محاذ ہے۔
لیکن جنگ ایک ہی ہے۔
اور ہدف بھی ایک ہی:
چین!
(عربی سے ترجمہ)
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
امریکا کس طرح چین کو نشانہ بنا رہا ہے؟
