سمے وار (خصوصی رپورٹ)
گل پلازا میں درجنوں لاشیں جل کر سرمہ ہوگئیں، لیکن بے حسی کا ایک سلسلہ ہے جو کہ ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ ایک طرف کراچی میں قائم نام نہاد ثقافتی ادارے ہیں، جنھوں نے ایک دن کے لیے بھی اپنے ڈھول ڈھمکے تک نہیں روکے۔ وہاں ہو ہا ویسے کے ویسے ہی جاری ہے، دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ زندہ جل کر مرجانے کے باوجود کراچی کو حق دینے کی آوازوں کو بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے۔ نفرت انگیز بیانیے عروج پر پہنچ چکے ہیں، ریاست جانے کس المیے کی منتظر ہے، یا شاید وہ بھی یہی چاہتی ہے۔

تازہ اضافہ گل پلازا پر بہت منھ سے جھاگ نکالے والے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے گورنر ہائوس کو دیکھیے کہ اس وقت جب کہ گل پلازا کے مرنے والوں کے جنازے اٹھ رہے ہین۔ بیسیوں لواحقین اپنوں کی سوختہ ہڈیوں کے ملنے کے انتظار میں ہیں، گورنر ہائوس میں 27 جنوری 2026 کو قوالی کا پروگرام رکھ لیا گیا اور عین اسی روز صدر مملکت کے عہدے پر براجمان آصف زرداری دبئی روانہ ہوگئے۔

گل پلازا کا دکھ انھیں محسوس بھی ہوا یا نہیں، ان کی قوم کا مسئلہ ہی نہیں تھا، ان کے کارکن نہیں تھے، تو ان کی بلا سے جلیں مریں ، ہزاروں مرتے رہیں اور مرجائیں گے۔ یہ آصف زرداری نہ صرف خود بلکہ اپنے تینوں بچوں اور داماد کے ساتھ دبئی جا پہنچے ۔ آصفہ زرداری تو چلو خاتون اول بنی ہوئی ہیں، یہ بختاور اور ان کے شوہر اور بلاول کس کھاتے اور کس حیثیت میں ان کے ساتھ لٹک گئے۔

اس سے پہلے شہباز شریف بھی بلاول کو اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہاں بھی یہ سوال کسی نہ نہیں کیا کہ بلاول کوئی وزیر ہے اور نہ کوئی مشیر۔ وفاقی حکومت میں شامل نہ ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے پیپلزپارٹی نے کوئی وزارت نہیں لی، لیکن گورنر ضرور بنوا لیے۔ اور ساتھ میں گریبی میں بلاول فری کی چڈی کھانے بیرون ملک دوروں پر گھومتے پھرتے ہیں، کبھی چین، کبھی سوئٹزر لینڈ تو کبھی دبئی۔
یہ سب باتیں بتا رہی ہیں کہ گل پلازا جیسا اندوہ ناک سانحہ ہمارے اوپر مسلط کردہ حکم رانوں کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے لیے کراچی والوں کی جان کی کیا قیمت ہے۔
