سمے وار (خصوصی رپورٹ)
کراچی میں گذشتہ چند برسوں میں سڑک کنارے مفت دسترخوانوں کے ساتھ ساتھ رمضان کے “افطار دسترخوانوں” میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے۔ سڑک کے کنارے تجاوزات قائم کرکے فٹ پاتھوں کو گھیر کر یہ این جی اوز یا فلاحی ادارے نہ صرف شہر کے لیے بدنما داغ کی طرح ہیں، بلکہ لوگوں کو آمدورفت میں بھی شدید پریشان کرتے ہیں۔
ابتدائی طور پر اسے بہت اچھے قدم کے طور پر دیکھا گیا، لیکن پھر دھیرے دھیرے شہریوں نے اس طریقے پر تنقید کرنی شروع کردی، کیوں کہ یہاں کھانے کھانے والوں کی اکثریت غیر مستحق اور عادی نشئی اور جرائم پیشہ افراد کی دکھائی دینے لگی،یا پھر بہت سے ایسے مزدور جو اس دسترخوان کی وجہ سے کم اجرت پر کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ جس سے عام محنت کش کا حق مارا جاتا ہے جو ان کی طرح خیراتی دسترخوان پر نہیں بیٹھ سکتا۔ دسترخوان پر پلنے والے یہ 99 فی صد غیر مقامی افراد ہوتے ہیں جو سندھ اور پنجاب کے سرائیکی علاقوں سے بہت بڑۓ پیمانے پر کراچی آتے ہیں اور یہاں چوری چکاری کرنے کے ساتھ ساتھ گداگری اور راہ زنی تک کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
شہریوں نے اعتراض کرنا شروع کیا کہ عام شہری تو راستے میں اگر ہو تو صرف کھجور پانی سے روزہ کھول لیتا ہے، اس طرح فٹ پاتھ پر ہتک آمیز طریقے سے کبھی سموسے، کچوری، جلیبی اور پکوڑے نہیں ٹھونستا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اب کراچی کے شہریوں نے خیراتی دسترخوان لگانے والی تنظیموں کے بہ جائے اپنے طور پر لوگوں کی مدد کرنی شروع کردی ہے۔ لیکن اس کے بیچ ایک عجیب صورت حال سامنے آئی ہے کہ ہمارے ملک کے سیٹھوں، تاجروں اور صنعت کاروں کے ساتھ ساتھ اب غیر ملکی قونصلیٹ بھی کراچی کے مفت افطار دسترخوان لگانے لگے ہیں۔
ایک طرف جہاں سیلانی، چھیپا، الخدمت، جے ڈی سی اور دیگر ادارے فٹ پاتھ گھیرے فقیروں کی لمبی قطاریں لگائے ہوئے ہیں، وہیں ان افطار دسترخوانوں کی اعانت یا مکمل طور پر اپنے دسترخوان کے طور پر برادر مسلم عرب ملک قطر کے قونصلیٹ کی جانب سے بھی باقاعدہ افطار کا بندوبست کیا گیا ہے۔ شاید انھیں یہ غریبوں کی مدد کا طریقہ لگا ہو۔ شہریوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اچھا ہوتا کہ قونصلیٹ کسی اور طریقے سے حقیقی مستحقین کی مدد کرتا۔ ممکن ہے کہ قیوم آباد پل کے نیچے سیلانی کے دسترخوان نے خود جا کر قطر کے قونصلیٹ سے اعانت کی اپیل کی ہو جس کے بعد ان کی جانب سے اسپانسر کیا گیا ہو۔

