سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
“آپ کو یہی شرافت مار دے گی بھائی…!
اب وہ زمانہ ہے کہ یہ ‘تہذیب’ اور یہ ‘شائستگی’ صرف وہاں اچھی لگتی ہے جہاں اس کا چلن ہو۔ جہاں صرف طاقت کا قانون ہو، بدمعاشی، زبان درازی یا بدتمیزی ہی سکہ رائج الوقت ہو تو وہاں پھر آپ جناب، کرنا یا ‘صلح جُو’ رویہ رکھنا “آ بیل مجھے مار” کے مترادف ہوتا ہے۔ اِسے سامنے والی کی کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے، آج کے دور میں اگر آپ تہذیب کے غالیچے پر ایسے نچلے بیٹھے تو جان لیجیے یہ تو ‘پاگل آوارہ کتوں’ کا دور ہے، وہ آپ کو کچا چبا ڈالیں گے!
آج جہاں ضرورت طاقت کے توازن کی ہے، اگر وہاں آپ اپنے خاندانی, شریفانہ اور معاملہ فہمی کے رویے کو سامنے رکھیں گے، تو سامنے موجود جانور نما انسان اسے اپنی فتح سمجھ کر آپ کو چیر پھاڑ ڈالے گا۔ یقین کیجیے آج کا دور اپنے اوپر کے تعلقات کو مضبوط کرنے اور پھر اس کو کام میں لانے کا ہے! مانا کہ آپ شہر میں بدمعاش نہیں ہیں، لیکن ایسے لاوارث بھی تو نہیں ہیں تو پھر کاہے کو ایسے گھٹیا لوگوں سے ناحق پیار محبت کی پینگیں بڑھاتے ہیں، جب کہ اگلا صحیح غلط اور جھوٹ سچ چھوڑ کر ہر قیمت پر گند گھولنے اور کردار پر کیچڑ اچھالنے پر تُلا ہوا ہے۔ ایسے میں آپ کے لیے بھی لازم ہے پہلے اسی طرح اونچی آواز میں دو ماں کی اور چار بہن کی گالیاں دیں اور پھر اپنی بات شروع کریں۔”
یہ وہ سارا بھاشن تھا، جو ہمارے ایک شناسا کی جانب سے ہمیں ایک بار پھر دیا گیا۔ ہوا یہ تھا کہ ہم اپنے ہی ‘آبائی محلے’ میں ایک ‘معاملہ’ نمٹانے میں پڑ گئے تھے۔ اور پڑے بھی کہاں تھے، معاملہ ہم پر پڑ گیا تھا اور نمٹانے کا مطلب اچھے اسلوب میں نمٹانا تھا، اس کے واسطے محلے میں دست یاب “معززین” کی ثالثی بھی حاصل ہوگئی۔ اب ہم ٹھیرے، پرانے محلے کے پرانے وقتوں میں جنے والے لوگ، جس میں محلے داری سے بڑھ کر کچھ ہوتا ہی نہیں۔ ہمارا عہدہ ومرتبہ، ادارہ، ترقی، پہنچ، رسائی، تعلقات اور اوپر کے لوگوں میں اثر رسوخ۔۔۔! نہیں بھائی، یہ سب نیچ لوگوں کے لیے ہی اہمیت کی باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے محلے میں تو رکھ رکھائو، پرانی تعلق داری ہی اصل اہم ہوتی تھی۔ وضع داری کی قیمت اور خاندانی وقار ہی کی وقعت ہوتی تھی۔ اس کے آگے سب سرنگوں ہوا جاتا تھا۔ زیادہ وقت نہیں گزرا اللہ بخشے ‘بھائی منے’ قسائی کے بچے کو پکڑا، جواب میں اس کے گھر سے بڑوں کو بلا لیا کہ آکر اپنے بچے کو تو دیکھ لیجیے، تو جناب گھر سے جو آیا تو وہ ہمیں دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہی ہوگیا۔
لیکن اس بار معاملہ یہ تھا، کوئی غیر نہیں سامنے “اپنے” ہی لوگ ثالث تھے جو محلے میں تین پشتوں سے رہنے والوں کے سامنے فقط تین برسوں کے ایروں غیروں کی شناسائی کے آگے جھکے، بلکہ بچھے چلے جاتے تھے۔ “ثالثی” بھی کیا ثالثی کےنام پر دھبا، اور کلنک! جھگڑے میں ایک ہی فریق کی یک طرفہ چھوٹی سچی کہانی سن کر اسی کے گرویدہ ہوئے جائے۔ کیا ایسے ہوتا ہے کوئی فیصلہ؟ بار بار ہمیں اُس کے ‘اچھے’ ہونے کے قصے سنائے جا رہا ہے، گویا ہم کوئی بدکردار اور دنگے کرنے والے فسادی ہیں۔
معاملہ بہت چھوٹی سی بات کا تھا، لیکن ہم پر ناحق غالب آنے اور بے شرمی کی حد تک بدمعاشی کی کوشش کی گئی، مطلب حد ہی ہے۔ گفت وشنید کی اس بیٹھک میں جب مقابل ‘فریق نیچ’ اپنی اوقات پر اترا تو حضرت “ثالث” بیٹھ کر ہمارا تماشا دیکھا کیے اور جواب میں ذرا سا اس بدبخت کو کھال میں کیا لائے تو انھیں بڑا ناگوار گزر گیا۔۔۔ تو بھیا اب تو بعد میں بیٹھ بیٹھ کر کڑھنے میں یہی سیکھا ہے کہ یہ سماج اول تو کسی طرح سے بھی انسانوں کا ہے ہی نہیں۔ یہاں صرف بدمعاشی اور غنڈہ گردی ہی اصول اور قانون ہے سکہ رائج الوقت۔ سامنے ‘بندوق’ اور ‘طاقت’ ہوگی تو ہی یہ انسان کے بچے بن کر رہیں گے۔ اگر کردار، شرافت، وضع داری یا اصول پسندی کے کسی پرانے سکے کو چلانے کی کوشش کی تو یقین مانیے یہ اب بالکل بھی کار آمد نہیں ہیں۔
اب تو جب تک آپ سامنے والے کی “ماں بہن” کی بات نہیں کریں گے، تو اس کے پیر زمین پر ہی نہیں آئیں گے، ایسے میں کم ظرف اپنے محلے کے نام نہاد “پرانے” بھی کسی ‘پرائے’ سے بدتر کردار کے نکل کر سامنے آتے ہیں، انصاف اور اصول ہی کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ ان کے لیے آپ کی عزت آپ کا خاندانی وقار، آپ کی شخصیت یا آپ کی ساکھ نہیں، بلکہ آپ کا عہدہ، مرتبہ اور آپ کے تعلقات ہوتے ہیں۔۔ وہ جو کہتے ہیں کہ شر کے خوف سے عزت ہونا، باعث شرم تو ہے، لیکن ان کے ہاں نام نہاد عزت ہوتی ہی اسی طرح ہے، تو اگلے سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے۔ مگر ہم نے تو کبھی اپنی کسی بھی حیثیت کو “شر” کے طور پر استعمال کرنے کا سوچا تک نہں کیا، کریں اپنے حسب نسب سے جو مجبور ہیں!
لیکن اس تلخ اور دل دکھانے والے تجربے کے بعد آج کے سماج میں یہی بہتر لگتا ہے کہ ایسوں سے انھی کی طرح “ابے، تبے” سے بات کیجیے، تاکہ اچھی طرح طاقت کا توازن قائم ہو جائے۔ جب آپ ایسے لاوارث بھی نہیں ہیں، تو انھیں کھل کر بتائی کہ بدبختو! ایک عزت ہی تو ہمارے خاندان نے اب تک کمائی اور بچائی ہے، تم اس پر بھی کیچڑ اچھالو گے، زبان درازی سے ہاتھا پائی کو تُلو گے تو کیا ہم تمھیں اب ایسے ہی بخش دیں گے۔ (قارئین سے معذرت کے ساتھ) ارے، تو نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے، جو بے ہودگی اور لاف زنی کرتا ہے، لاتے ہیں تیرا پارا نیچے ابھی!
‘نیچ خاندان’ کو جب اس طرح اس کی اوقات یاد دلائی جائے، تبھی وہ سیدھا ہو کر بیٹھتا ہے۔ ورنہ قابو میں نہیں آتا۔ اس لیے جان لیجیے تہذیب اور شائستگی بہت بَڑھیا اور خوب صورت ہے، لیکن انسانوں کے سامنے۔ آپ آج کے سماج میں اور بالخصوص آج کے کراچی کے حالات میں رہتے ہوئے یہ ‘تہذیب’ اور یہ ‘شائستگی’ ذرا دیکھ بھال کر استعمال کیجیے، ورنہ یہ آپ ہی کو پڑ جائے گی۔
Categories
یہ تہذیب وشائستگی آپ ہی کے گلے پڑجائے گی!
