Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi KU MQM انکشاف ایم کیو ایم جامعہ کراچی دل چسپ سندھ قومی تاریخ کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

متحدہ میں “تنظیمی کمیٹی” کیوں بنائی گئی؟

سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
فہیم صدیقی کے بقول 2002 میں ستائیس دسمبر 2002 میں گورنر ملنے پر منائے گئے جشن میں بے نظمی نے الطاف حسین کو ناراض کردیا تھا۔ تنظیمی کمیٹی توڑ دی گئی۔
نئی تنظیمی کمیٹٰ کے انچارج وسیم آفتاب تھے۔ لانڈھی ملیر اور لائنز ایریا نوگوایریا تھا۔ بیت المحزہ مسمار ہوا تو اس کی نگرانی تنظیمی کمیٹی کر رہی تھی۔ حماد صدیقی اے پی ایم ایس او سے فراغت کے بعد ایک ایم پی اے کے کوآرڈینیٹر تھے۔ عزیز آباد میں بلدیاتی کاموں کے نگران بھی تھے انھی دنوں تنظیمی کمیٹٰ میں شامل کرلیا گیا۔ تنظیمی کمیٹی ان پر مشتمل ہوتی تھی کہ جو تنظیم میں سیکٹر انچارج کے عہدے پر رہ چکے ہوتے تھے۔ جیسے خالد عمر، سلیم بندھانی، ایوب شیخ، جاوید رحیم، نوید مرتضیٰ اور انیس محومد وغیرہ۔ جو سابق سیکٹر انچارج تھے۔ ان کے درمیان حماد صدیقی تھے، جو جلد ہی جوائنٹ انچارج بنا دیے گئے۔ بارہ مئی 2007 کے وقت وہ اسی عہدے پر تھے کی دہائی میں تنظٰمی معاملات چلانے کے لیے لندن سے سیکٹر سے براہ راست رابطے اور کارکنان تک پہنچانے کے لیے تنظیمی کمیٹی بنائی گئی۔ ابتدا میں یہ رابطہ کمیٹی کے ارکان پر مشتمل تھی۔ 1997 میں انیس ایڈووکیٹ ارشاد کمالی، نسرین جلیل، فاروق ستار اور واسع جلیل شامل تھے۔
2002 میں ستائیس دسمبر 2002 میں گورنر ملنے پر منائے گئے جشن میں بے نظمی نے الطاف حسین کو ناراض کردیا تھا۔ تنظیمی کمیٹی توڑ دی گئی۔
اس بار تنظیمی کمیٹٰ کے انچارج وسیم آفتاب تھے۔ لانڈھی ملیر اور لائنز ایریا نوگوایریا تھا۔ بیت المحزہ مسمار ہوا تو اس کی نگرانی تنظیمی کمیٹی کر رہی تھی۔ حماد صدیقی اے پی ایم ایس او سے فراغت کے بعد ایک ایم پی اے کے کوآرڈینیٹر تھے۔ عزیز آباد میں بلدیاتی کاموں کے نگران بھی تھے انھی دنوں تنظیمی کمیٹٰ میں شامل کرلیا گیا۔ تنظیمی کمیٹی ان پر مشتمل ہوتی تھی کہ جو تنظیم میں سیکٹر انچارج کے عہدے پر رہ چکے ہوتے تھے۔ جیسے خالد عمر، سلیم بندھانی، ایوب شیخ، جاوید رحیم، نوید مرتضیٰ اور انیس محومد وغیرہ۔ جو سابق سیکٹر انچارج تھے۔ ان کے درمیان حماد صدیقی تھے، جو جلد ہی جوائنٹ انچارج بنا دیے گئے۔ بارہ مئی 2007 کے وقت وہ اسی عہدے پر تھے۔
اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ 1990 کی دہائی میں تنظٰمی معاملات چلانے کے لیے لندن سے سیکٹر سے براہ راست رابطے اور کارکنان تک پہنچانے کے لیے تنظیمی کمیٹی بنائی گئی۔ ابتدا میں یہ رابطہ کمیٹی کے ارکان پر مشتمل تھی۔ 1997 میں انیس ایڈووکیٹ ارشاد کمالی، نسرین جلیل، فاروق ستار اور واسع جلیل شامل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights