سمے وار (تحریر: انور اقبال)
یہ 1989ء کی بات ہے جب ہم کراچی کی مصروف اور شور بھری زندگی کو پیچھے چھوڑ کر ہجرت کرتے ہوئے میرپور، آزاد کشمیر جا پہنچے۔ ان دنوں ہمیں دنیا بھر میں مشہور اطالوی اسکوٹر اور رکشا ساز کمپنی ویسپا کی فیکٹری میں ملازمت کا موقع ملا تھا۔ زندگی کا ایک نیا باب شروع ہو رہا تھا اور ہمارے لیے یہ ایک بالکل مختلف دنیا تھی۔
میرپور ایک خوب صورت پہاڑی شہر ہے۔ آج جس وسیع و عریض جھیل کے کنارے یہ شہر آباد ہے، وہاں کبھی پرانا میرپور ہوا کرتا تھا۔ جب منگلا ڈیم تعمیر ہوا تو پرانا میرپور اس عظیم جھیل کے پانیوں میں ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا اور اس کے باسیوں کے لیے پہاڑیوں پر ایک نیا شہر بسایا گیا۔ انھی دنوں ہزاروں میرپوری خاندانوں کو برطانیہ منتقل ہونے کا موقع ملا اور یوں تقریباً ہر گھر کا ایک نہ ایک فرد لندن جا بسا۔ اسی لیے میرپور کو آج بھی برطانیہ کا دوسرا گھر کہا جاتا ہے۔
ہم نے میرپور کی سب سے بلند پہاڑی آبادیوں میں سے ایک مقام پر ایک گھر حاصل کیا۔ وہاں سے نیچے پھیلی ہوئی جھیل، دور تک جاتی ہوئی پہاڑی سلسلے اور شام کے وقت آسمان کے بدلتے رنگ ایک ایسا منظر پیش کرتے تھے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ یہ تصویر ہمارے اسی گھر کے صحن میں لی گئی تھی۔
میرے ساتھ تصویر میں علی میاں ہیں، ہمارے بڑے صاحب زادے، جن کی پیدائش 1987ء میں ہوئی تھی۔ اس وقت وہ محض دو برس کے ایک معصوم اور شوخ بچے تھے، جنھیں دنیا کی کسی فکر سے کوئی سروکار نہ تھا۔ آج ماشاء اللہ وہ سینتیس برس کے بالغ، ذمہ دار اور کام یاب انسان ہیں۔ وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے، اس کا اندازہ ایسی تصویریں دیکھ کر ہی ہوتا ہے۔
منگلا جھیل اور اس کے پار پھیلی ہوئی پہاڑیاں اس خطے کی قدرتی خوب صورتی کا حصہ ہیں۔ آج ان پہاڑیوں پر بھی آبادیاں اور تعمیرات دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس زمانے میں یہ زیادہ تر ویران اور خاموش ہوا کرتی تھیں۔ شام ڈھلے جب سورج ان پہاڑوں کے پیچھے اترتا تھا تو پانی پر سنہری روشنی بکھر جاتی اور پورا منظر کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر معلوم ہوتا تھا۔
ہم نے میرپور میں تقریباً تین سال گزارے، لیکن سچ پوچھیں تو کبھی یوں محسوس نہیں ہوا کہ ہم مستقل طور پر کراچی سے دور آ گئے ہیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہم کسی طویل پکنک پر آئے ہوئے ہوں۔ ہر صبح تازہ ہوا، ہر شام جھیل کا منظر، اور ہر طرف پھیلی ہوئی خاموشی ایک الگ ہی سکون عطا کرتی تھی۔ کراچی کی ہنگامہ خیز زندگی سے آنے والے ایک شخص کے لیے یہ ایک ایسا تجربہ تھا جسے آج بھی یاد کریں تو دل خوش ہو جاتا ہے۔
یہ تصویر محض ایک باپ اور بیٹے کی تصویر نہیں، بلکہ زندگی کے ایک خوبصورت دور، ایک نئے شہر، نئی ذمہ داریوں اور ان یادوں کی تصویر ہے جو وقت گزرنے کے باوجود دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ تازہ رہتی ہیں۔
جب میں کراچی سے ’میرپور‘ پہنچا
