Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi KU MQM PPP PTI Society انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی تحریک انصاف تہذیب وثقافت دل چسپ عمران خان قومی تاریخ قومی سیاست کراچی

ہمارا نوجوان انقلاب کون کھا گیا؟

سمے وار (تحریر: سہیل یوسف زئی، شکاگو)
ایم کیو ایم والا انقلاب جینریشن زی نہی بلکہ بے بی بومرز لاۓ تھے کیوں کہ اس وقت جنریشن زی کا وجود ہی نہی تھا،جنریشن ایکس اس وقت پیدا ہوٸ تھی جو آج پینتیس چھتیس برس کی عمر میں ہوگی، مجھے یقین ہے آپ کا جین زی کے حوالے سے مراد نوجوانوں کا انقلاب ہے، تب آپ کی بات بلکل درست ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں نوجوان نسل نے 28 برس کے نوجوان الطاف حسین کی قیادت میں ایک ایسا سیاسی انقلاب بپا کر دیا تھا کہ جس کی مثال آج کی دنیا بہ مشکل مل پاۓ، مگر اس انقلاب کو یا تو اشرافیہ کھا گٸ اور رہا سہا حصہ خود انقلابی کھا گۓ، وگرنہ یہ انقلاب پڑھے لکھے اور غیر پڑھے لکھے مگر ذہین نوجوانوں کا ایسا امتزاج تھا کہ جو انتہاٸ منظم اور پہاڑ کھود کر دودھ کی نہر نکلنے جیسے جزبے سے سرشار تھا، اس میں اتحاد اور قیادت پے اندھا اعتماد اور قیادت سے عشق ایسے مرکب تھے کہ جو اگر پاکستان کو عظیم تر بنانے کے لیے استعمال ہوتے تو آج چالیس برس بعد پاکستان شاٸد دنیا کا ترقی یافتہ ممالک میں شمولیت کا سفر طے کر چکا ہوتا مگر وارٸے قسمت اور حیف ان عاقبت ناندیش اشرافیہ پے کہ جو انہیں سمجھ نہ پاۓ یا جانتے بوجھتے انہیں کھڈے لاٸین لگا کر پاکستان کی پشت میں چھرا گھوپنے کے مرتکب ہوۓ! ان عاقبت نا اندیش ظالموں نے الطاف حسین سمیت ان کی تربیت یافتہ مکمل قیادت اور لاکھوں کارکنوں کو کسی اور سمت دھکیل دیا ، آج ایم کیو ایم یا الطاف بھاٸ جس حال میں ہیں اس میں ان کا قصور نہی بلکہ اس میں مکلمل قصور ان جابر سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کا ہے کہ جنھوں نے انھیں اپنا خطرہ سمجھ کے راستے سے ہٹایا اور نتیجتاَ نواز شریف زراری اور پھر عمران خان اور پھر نواز شریف زداری ملک کا مقدر رہے اور ملک وہیں رہا جہاں تھا بلکل اس بچے کی طرح جس کی نشونما اسکی پیداٸش کے بعد سے رک گٸ ہو اس کی عمر بڑھ رہی ہے گر جسمانی نش و نما وہیں رکی ہوٸ ہے۔
جو لوگ عمران خان کے انقلاب کو نوجوانوں کا انقلاب کہتے ہیں وہ احمق ہیں کیوں کہ انقلابی منظم ہوتے ہیں فوج کی طرح اور عمرانی قبیلہ کیسا ہے سب جانتے ہیں ، ہنودستان کی کاکروچ پارٹی ہو یا بنگلا دیش کے نوجوان یہ سب کسی طور ایم کیو ایم یا اس کے قائد الطاف حسین کی جوتی کے برابر بھی نہی، بنگلا دیش کے انقلاب کا نتیجہ اسی پیشہ ور سیاسی گروہ کے اقتدار کا زریعہ بنا کہ جس کو اتار کے پھیکا تھا اس لٸیے کہ یہ عارضی منظم تھا سمت کوٸ نہی تھی قیادت ایک نہی تھی نتیجہ یہی نکلنا تھا کاکروچ پارٹی کا نتیجہ بھی ممکنہ طور پے یہی نکلے گا۔۔۔۔۔ایم کیو ایم یا الطاف حسین سے کسی کا کوٸ موازنہ نہی یہ ایک بہت ہی الگ منفرد اور آج کی دنیا کا عجبوبہ تحریک یا جماعت اور قیادت تھی، اگر اسے درست سمجھ کر درست استعمال کیا جاتا تو یہ امریکہ کے فور فادرز جیسا کردار ادا کرکے پاکستان کو ہر لحاظ سے بدل چکی ہوتی مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا اور جو کچھ ہوا اس کے نتیجے میں بے صبری کامظاہرہ کرکے ایم کیو ایم نے اپنے غبارے کی رہی سہی ہوا بھی خود نکال دی، اب بھی وقت ہے الطاف بھاٸ ایک اور انقلابی قدم اٹھاٸیں اور سب کچھ درست سمت میں ڈال دیں کیوں یہ سب کرنے کی صلاحیت طاقت آج بھی ان ہی کے پاس ہے، کاش وہ یہ کر ڈالیں کاش, پاکستان زندہ باد!
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights