Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi Society اچھی اردو اردوادب انکشاف تہذیب وثقافت دل چسپ کراچی

اسیران بازی گر اور شکیل بھائی

سمے وار (تحریر: خلیل اللہ فاروقی)
جناب شکیل عادل زادہ، لفظوں کے جادوگر اور کردار سازی کے بازی گر ۔ تخیل کمال اور تصور بے مثال۔ ہم عاشقان سب رنگ کے پیارے شکیل بھائی۔ کل یاران طرح دار فاضل جمیلی اور جاوید صبا نے ان کے ساتھ ” جو ہم پہ گزری” کی بزم آرائی کی وہ ایک دلکش اور دل نواز محفل رہی۔ شکیل بھائی بولا کئے اور ہم سب سنا کئے۔ مینا کماری سے جنرل ضیا الحق تک سونا گھاٹ کے پجاری سے بازی گر تک۔۔۔ کرداروں کا میلہ سجا ہوا تھا اور داستان گو رنگا رنگ جادو نگر یوں کی سیر کروا رہا تھا۔ دھیما مگر دل میں اتر جانے والا نرم لہجہ۔ کوئی تعلی نہیں، کوئی خودنمائی نہیں۔ بھائی رئیس کے ہاتھوں وشواس گھات کے بعد اپنے زور بازو اور بے پناہ محنت اور صلاحیت کے ساتھ دنیا کے سب سے منفرد اردو پرچے سب رنگ کی اشاعت۔۔۔ جس کی سرکیولیشن پونےدو لاکھ تک پہنچی۔ دیسی اور مغربی کہانیوں کے شاندار اور منصفانہ انتخاب نے سب رنگ کو میرا محبوب بنادیا۔ یوں تو سب کچھ کمال تھا مگر سلسلہ وار کہانی بازی گر شکیل بھائی کا ناقابل فراموش کارنامہ اور شاہکار ہے شکیل بھائی نے ہم اسیران بازی گر کو شوق تجسس اور کردار پرستی کے عروج پر لے جا کر اچانک ہاتھ چھوڑ دیا یعنی آخری قسط کا انتظار جو قرنوں سے جاری ہے۔۔۔ حافظے سے تو مٹتے نہیں پر جانے اب کہاں اور کس حال میں ہیں آشفتہ سر خاک بسر دلدار دلنواز دلاور سراپا عشق بابر زماں خان پری پیکر نگار، سرو قد و لالہ رخسار تبتی کم سن حسینہ کورا بابر کہ پہلا اور آخری عشق بلا خیز۔ کلکتہ کا تیکھا تگڑا بانکا دلاور چاقو باز بدمعاشوں کا بدمعاش سونے کے دل والا بابر کا استاد باپ جیسا شفیق اور اسے ناقابل شکست بنانے والا استاد بٹھل اور پھر بابر کی زندگی میں آنے والی شہزادیوں جیسا حسن اور تمکنت رکھنے والی بابر کو ٹوٹ کر چاہنے والی دوشیزہ زریں۔ مگر بابر کو صرف اور صرف تلاش ہے چند دن اس کی زندگی کے آسمان پر چودھویں کا چاند بن کر چمکنے دمکنے اور اس کے دل پر محبت کا داغ لگا کر ہندوستان کی وسعتوں میں کھو جانے والی لڑکی کورا کی۔۔۔ کیا تلاش ہے کیا جنون ہے کیا آشفتہ سری ہے۔۔۔ ایک نادر موقع میسر آنے پر میں نے بازی گر کے اختتام کے حوالے سے شکیل بھائی سے بات چیت کا شرف حاصل کیا۔۔۔ میں نے کہا کیا کورا بابر کو مل جائے گی ہیپی اینڈ نگ ہوگی شکیل بھائی نے کہا مگر ہیروئن تو زریں ہے میں مچل گیا نہیں شکیل بھائی کورا ہیروئن ہے اسے ہی بابر کی ہونا چاہیے انہوں نے مسکرا کر کہا وہ تو آئی اس نے بابر کا دل فتح کیا اور گم ہوگئی زریں کی محبت اس کا ساتھ اس کی قربانیاں بے مثل ہیں۔۔۔ میں نے بے چینی سے پوچھا ” تو کیا کورا مر جائے گی” شکیل بھائی نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا شائد۔۔۔ میں بے بسی سے کردار کے خالق کو دیکھتا رہ گیا۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights