سمے وار (تحریر: تحریم جاوید)
باجے بجاتی چودہ اگست اور اصلی چودہ اگست میں وہی فرق ہے جو آزادی اور ’’آزاری‘‘ میں ہوتا ہے۔۔۔ زمانہ بدلتا ہے، رنگ اور ساز بھی بدلتے ہیں، لیکن بنیادیں تو برقرار رہنی چاہیے، نئی تعمیر پرانی بنیادوں پر ہی ہو تو کسی کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔۔۔
جیسے ہمارے طور طریقے اور ترجیحات بدلی ہیں، ایسے ہی ہمارے جذبات بھی بدل گئے ہیں۔ اب 14 اگست بانیان پاکستان اور تحریک آزادی سے زیادہ لسانی ثقافتوں کے پرچار کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ایک ہی دن پاکستان کے نام تھا سو وہ بھی اب ’’سندھی ہم، بلوچی ہم، پنجابی ہم، پٹھان ہم!‘‘ کی نذر ہوگیا ہے۔۔۔
باجے بجانے کی خرافات جانے کس کے ذہن میں آئی، جس نے اس صاف ستھرے دن کی بینڈ بجا دی۔ لوگ عام دنوں سے زیادہ اذیتوں میں رہتے ہیں اور باجے اور پٹاخوں والوں کے لیے دل سے ’’دعائیں‘‘ دیتے ہیں۔۔۔
اسی پر بس نہیں جیسے ہماری نئی پود بدل گئی، ویسے ہی ان کی پسند وناپسند بھی شاید بدل گئی یا پھر یہ میڈیا کا کمال ہے کہ اب تیسرے درجے کے اور نہایت غیر معیاری ملی نغموں کا دور دورہ ہے، جس میں نہ جذبہ دکھائی دیتا ہے اور نہ خیالات وجذبات کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔
ذرا دس بارہ سال پہلے تک جائیے تو دیکھیے کہ ہمارے بچے کون کون سے ملی نغمے سنتے اور سناتے تھے:
* ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے، قدم قدم آباد تجھے‘‘
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے۔ کیسے بات ہی بات میں اپنے وطن کے لیے دعا شامل کر دی گئی ہے۔
*ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر
اس ملک کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کر۔ کیسے سیدھے دل پر جا کر اثر کرتے ہیں، احساس ذمہ داری جگاتے ہیں، غفلت کی دوا کرتے ہیں
* یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیراں۔۔۔
بابائے قوم کے نام یہ نغمہ یوم آزادی پر بھی خصوصیت کے ساتھ پیش ہوتا تھا اور قائداعظم کے احسان کا ذکر ہوتا کہ اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان۔
*آئو بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
بچوں کی شمولیت کےساتھ یہ کیا خوب صورت شاعرانہ اظہار رکھتا تھا کہ ملک کے گوشے گوشے سے روشناس کرایا اور جذبہ حب الوطنی بھی جگا دیا۔
*مائوں کی دعا پوری ہوئی اور ہمیں اتنی پیاری دنیا میں گھر مل گیا
عالمگیر نے کیا خوب صورت انداز میں اسے پیش کیا اور لکھنے والے نے کس زاویے سے مائوں کی دعائوں سے اس وطن کو گھر سے تعبیر کیا، سنیے اور سر دھنیے کیا لطیف جذبات ہیں، ہر مصرعے اور ہر شعر میں۔۔
*وطن کی مٹی گواہ رہنا
وطن کی مٹی عظیم ہے تو، عظیم تر ہم بنا رہے ہیں۔ کیا ہی پیارا نغمہ ہے۔ آج کل سب بھول گئے ہیں۔
* خیال رکھنا، خیال رکھنا۔۔۔۔
نئے دلوں کی مسافتوں کو اجالنا ہے، وفا سے آسودہ ساعتوں کو سنوارنا ہے۔۔ کیسے ایک تحریک اور ایک پیغام پہنچایا جا رہا ہے، کاش آج کوئی اس سے سیکھے۔
*اے وطن پاک وطن، پاک وطن، اے میرے پیارے وطن
تجھ سے ہے میری تمنائوں کی دنیا پرنور۔ میری ہستی میں انا ہے میری ہستی میں شعور۔۔۔۔ کیسے کیسے خیالات سمو دیے گئے تھے اس ایک نغمے میں۔
* اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔۔۔
اس نغمے کی ضرورت آج پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ اتحاد اور یگانگت کے پیغام کو کاش کوئی آج یاد دلا جائے۔
* ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم۔۔۔
قومی پرچم کی مدح میں اس سے اچھا پیغام شاید ہی آپ نے کوئی سنا ہوگا۔ قومی پرچم جو اتحاد کی علامت اور ہمارے وطن کی ساری دنیا میں شناخت ہوتا ہے۔ آج اسے کوئی نہیں پوچھتا۔
*یہ وطن تمھارا ہے، تم ہو پاس باں اس کے
اس میں ہر لفظ میں نئی نسل کے نام یہ سندیس ہے کہ یہ سارا وطن تمھارا ہے اور تمھیں ہی اسے آگے لے کر جانا اور ساری دیکھ بھال کرنی ہے۔
* یہ تیرا پاکستان ہے، یہ میرا پاکستان ہے
’’یہ میرے قائد کی جیتی جاگتی تصویر ہے، شاعرِ مشرق کے خوابوں کی حسیں تعبیر ہے‘‘ اس جیسے خیالات اب سننے کو نہیں ملتے۔
* جیوے، جیوے، جیوے پاکستان
جمیل الدین عالی کا یہ دل فریب نغمہ پاکستان کے ہمیشہ جیوت رہنے کی دعا دے رہا ہوتا تھا، ’’بچھڑے ہوئوں کو بکھرے ہووں کو ایک مرکز پر لایا‘‘
’’جھیل گئے دکھ جھیلنے والے، اب ہے کام ہمارا‘‘ یہ وہ خیالات اور مقاصد ہوتے تھے جو اگلی نسلوں تک پہنچائے جاتے تھے۔
* دل دل پاکستان، جاں جاں پاکستان
قدرے نئی نسل نے اپنے وطن سے محبت کا اظہار کیا تو بہت خوب صورتی سے ہماری یادوں میں جگہ بنا دیا گیا، لیکن یہ بھی اپنے اندر ایک دردر اور محبت کا احساس رکھتا ہے۔
* تیرا کرم مولا
اس نغمے کے ایک ایک مصرعے میں دعائیں ہی دعائیں ہیں۔ ’’آئے یہاں خوشیوں کی بہار، کتنے برس سے ہے یہ انتظار‘‘
دیگر اچھے نغموں میں
*ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں
*چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
* میں بھی پاکستان ہوں، تو بھی پاکستان ہے
* اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
*اے مردِ مجاہد جاگ ذرا، وقت شہادت ہے آیا، اللہ اکبر، اللہ اکبر
* میرا پیغام پاکستان، میرا انعام پاکستان
* اے جواں اے جواں۔۔۔۔اے جواں اے جواں
* ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار۔۔۔ وغیرہ شامل ہیں۔
اکثر نغموں میں وطن سے محبت کے متنوع پہلو اجاگر کیے گئے، وطن کے لیے کام کرنے اور محنت کرنے کا پیغام دیا گیا۔ اہل وطن میں اتحاد ویگانگت کی بات کی گئی، لیکن حالیہ کچھ عرصے میں نہ صرف یہ سارے نغمے پس منظر میں چلے گئے، بلکہ ان کی جگہ بہت سطحی سے نغمے سنائی دینے لگے، جس میں کوئی رنگ ہے اور نہ کوئی لطافت اور نہ ہی کوئی حسن اور حسن بیان۔۔۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
