سمے وار (تحریر: محمد امین الدین)
دوستو! حقائق سے آپ نظریں چُرا لیجئے ۔ آنکھیں بند کر لیجئیے ، جذباتی جملے اور شدید غصے کا اظہار کر لیجئے، فوری توجہ کی منتظر فائیلوں کو غیر ضروری انبار میں دبا دیجیے۔ مگر یاد رکھیے ۔ زندگی، سماج اور تہذیب اپنے فطری بہاؤ کے ساتھ چلتے ہیں ۔ آپ بند باندھ کر کسی بہاؤ کو کچھ دیر یا طویل عرصہ روک لینے پر ضرور قادر ہیں، مگر کسی فطری بہاؤ کو زبردستی روکنے کا نتیجہ نقصان کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی بھی کہیں بھی ہمیشہ نہیں رہا۔ مکان اور مکین دونوں بدلتے رہتے ہیں ۔ تہذیبیں ملیا میٹ ہوجاتی ہیں۔ جہاں کبھی صحرا نہیں تھے، وہاں صحرا بن جاتے ہیں ۔ جہاں سےکبھی دریا بھی نہیں گزراتھا، وہاں سمندر اُبھر آتے ہیں اور جہاں ہمیشہ سے پانی دکھائی دیا وہاں پر اُونچے پتھریلے پہاڑ برامد ہو جاتے ہیں۔ یہ سب مکان اور مکین کے بدلنے ہی کی شکلیں ہیں ۔ یہی نیچر کا قدرتی بہاؤ ہے۔ اسے قبول کیجئے، اور اس کے ساتھ ساتھ چلیے ۔ نیچر آپ کی مدد گار بن جائے گی۔ آپ کے سفر حیات کو آسان کر دے گی۔
تہذیبی سفر کے تسلسل سے ہم سکھتے اور پھر اپنی زندگی کو پہلے سے بہتر کرتے ہیں ۔ گزرے کل ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ بچوں کو ایک گٹھری کی طرح باندھ کر رکھو، خاندان مضبوط رہو تے ہیں ۔ آج ہم کہتے ہیں کہ نہیں، انہیں آزاد چھوڑ دو۔ انہیں اپنی زندگی جینے دو۔ انھیں اپنی فیملی خود بنانے دو۔ آج کے دور میں فرد کی آزادی زیادہ مقدم ہے۔
یہ پوسٹ ماڈرن ازم کا دور ہے۔ یہاں مہا بیانیے نہیں چلتے۔ اب میکرو سے زیادہ مائیکرو کی بات کی جاتی ہے۔ اب چیزیں فٹ اور انچوں میں نہیں، سینٹی میٹر اور ملی میٹر میں ناپی جاتی ہیں ۔ اب تولنے کا پیمانہ سیر اور چھٹانک نہیں، ملی گرام ہے۔ اوراب تو سائنسی لیبارٹریوں میں ملی میٹر یا ملی گرام بھی بڑا پیمانہ سمجھا جاتا ہے ۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ لیزر کی شعائیں قینچی سے انتہائی درجہ زیادہ شارپ کاٹتی ہیں ۔
یاد رکھئے کہ ابھی ہم تہذیبی سفر میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ اس لیے کہ ہمارے ہاں ابھی تک قبائلی سوچ اور نظام کو پسند کرنے والے اذہان طاقت ور اور بااختیار ہیں۔ دولت کی فراوانی سے ان کا صرف رہن سہن بدلا ہے، ذہنیت نہیں بدلی۔ یہ غلامی اور جہالت کو آج بھی پسندکرتے ہیں۔ وہ لوگ ہوں یا وسائل، یہ انہیں اپنی مٹھی میں رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ شہری طرز معاشرت سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے علاقوں میں صرف ایک ہی سڑک پختہ ہوتی ہے، جو ان کی حویلی تک جاتی ہے۔
بے انتہا طاقت اور اختیارات کی مرکزیت، آج کے دور میں اسے ایک نفسیاتی بیماری تصور کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اس بیماری کو جاری و ساری رکھنے کی حتی الامکان کوششیں بھی کی ہیں۔
ہمارا نوجوان جدید سائنسی و سماجی علوم سے اتنا واقف نہیں ہے، جتنا اسے ہونا چاہیے ۔ انہوں نے پون صدی سے کھلے دل اور ذہن کے ساتھ نوجوان کو علوم سے واقف ہی نہیں ہونے دیا ورنہ ذہانت کسی ایک فرد یا قوم کی میراث نہیں ہے۔ ہم بھی نوبیل انعام حاصل کرنے والی نسلیں پروان چڑھا سکتے تھے، مگر ہم نے وہ راستہ ہموار ہی نہیں کیا۔
نوجوان نسل جسے نئی اصطلاح میں جین زی کہا جاتا ہے، اور جس کا ہم نے صرف نام سنا ہے، اسے ابھی دیکھا نہیں ہے، اس نسل کے لئے نئی سوچ، نئے روئیے، نئے فکری راستے کی بنیاد صرف ایک صورت میں ممکن ہے۔ پرانے بوسیدہ نظام کو ختم کیجئے۔ نئی شاخوں اور نئی کونپلوں کو نکلنے دیجیے، پھلنے پھولنے دیجیے۔
ہم جس زمین پر رہتے ہیں یہاں کبھی آریائی نسل آباد تھی۔ اس کے بعد کی صدیوں میں پارسی، یونانی،عرب، ترک، مغل اس زمین کے مالک رہے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس زمین کی ملکیت کے کاغذات کسی کے بھی پاس نہیں تھے، کیونکہ ملکیت کے کاغذات پلاٹ کے ہوتے ہیں، خطوں کے نہیں۔
دانا کہتے ہیں کہ دیر کبھی نہیں ہوتی، آپ جہاں کھڑے ہیں، وہیں سے سفر کا آغاز کردیجیے۔ مگر یہ یاد رکھیے کہ نیچر میں رحم دلی نہیں ہوتی اور وہ سرکاری دفاتر میں بیٹھے بابوؤں کی طرح آج کا کام کل پر بھی نہیں ٹالتی۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں.
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
زمین کی ملکیت کے کاغذات کسی کے پاس نہیں
