سمے وار (تحریر: مہناز اختر)
جی ایم سید اپنی سیاسی بے بصیرتی اور مسلم لیگ کی جانب سے اسلام بے زاری، مسلم قوم اور مطالبہ پاکستان سے غداری کے الزامات کے باوجود 18 جنوری کو اپنے حلقہ سے بلا مقابلہ منتخب ہوگیا کیونکہ اس کا حریف اس کے حق میں دستبردار ہوگیا تھا۔ 21 جنوری کو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر الیکشن کا آغاز ہوا جو چھ دنوں تک جاری رہا 29 جنوری کو پولنگ کے نتائج کا اعلان ہوا تو پارٹی پوزیشن کچھ یوں تھی:
مسلم لیگ = 28
کانگریس =21
سید گروپ(پروگریسیو لیگ) = 4
مولا بخش گروپ (نیشنلسٹ گروپ)= 3
یورپین=3
لیبر=1
30 جنوری کو جی ایم سید نے ایک انٹرویو میں کہا کہ “لیگ ہائی کمان سے اختلافات کے باوجود میں پکا مسلم لیگی ہوں اور مجھے مسلم لیگ کے نصب العین اور اغراض و مقاصد پر ایمان ہے۔ میں کانگریس میں ہرگز شامل نہیں ہونگا”۔ اس پر نوائے وقت کی قیاس آرائی کی تھی کہ “جی ایم سید دوبارہ مسلم لیگ میں شامل ہورہے ہیں۔ مسٹر سید لیگ ہائی کمان سے اختلافات کے باوجود مسلم لیگ کے نصب العین کے خلاف نہیں جاسکتے۔۔۔ مسٹر ہاشم گزدر سید صاحب کی طرف سے ایک فارمولا لے کر دہلی جا رہے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کی یہ تفریق ختم ہو جائے گی۔۔۔۔ اس صورت میں مسلم لیگ وزارت بے حد مضبوط ہوگی”۔ مگر نوائے وقت کی یہ قیاس آرائی غلط ثابت ہوئی۔ ہاشم گزدر 30 جنوری کو جی ایم سید کا جو فارمولا لے کر دہلی گیا تھا وہ لیگ ہائی کمان کے لئیے قابل قبول نہیں تھا۔ اس فارمولے میں ایک مطالبہ یہ تھا کہ “جی ایم سید گروپ کو مسلم لیگ کے اندر فارورڈ بلاک کی طرح کام کرنے کی اجازت دی جائے”۔ اس کے برعکس لیگ ہائی کمان کا مطالبہ یہ تھا کہ “جی ایم سید اور اس کے ساتھیوں کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے چاہیں اور انہوں نے ماضی میں لیگ کے نظم و ضبط کی جو خلاف ورزی کی ہے اس پر اظہار ندامت کرنا چاہیے”
جی ایم سید کے مطالبات مسلم لیگ نے سختی سے مسترد کردئیے اور 2 فروری کو سید لیگ نے کانگریس کے ساتھ مل کر مخلوط وزارت بنانے کا اعلان کردیا۔
جی ایم سید نے اپنے اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی کہ ہندوستان کی آزادی کے بغیر پاکستان کا قیام ناممکن ہے اور آزادی کے لئیے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین خوش گوار تعلقات استوار کرنا بہت ضروری ہے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ ہندوستان کی آزادی اور قیام پاکستان کے لئیے اپنی جدو جہد جاری رکھے گا۔ سید اور کانگریس اتحاد کی شرط یہ تھی کہ صوبائی اسمبلی میں کانگریس علیحدہ پارٹی کی حیثیت سے کام نہیں کرے گی بلکہ صوبائی کانگریس کو سید لیگ کے ساتھ مدغم کرکے سید کو پارٹی لیڈر بنایا جائے گا۔ ابو کلام آزاد اور سردار پٹیل کے لئیے سندھ میں مسلم لیگ سے شکست انا کا مسئلہ تھا اسلئے جی سید کی پیشکش اور سندھ میں حکومت بنانے کا فیصلہ “اندھا کیا چاہے دو آنکھ” جیسا ہی لگا۔ اس پر نوائے وقت کا تبصرہ یہ تھا کہ ” ہمارے پرانے اور محترم دوست مسٹر جی ایم سید نے جس سرعت کے ساتھ اور جن حیرت انگیز حالات میں آخری پلٹا کھایا ہے اس پر دریائے سندھ بھی حیران ہوگا۔ مسٹر جی ایم سید نے اپنے 30 جنوری کے بیان کا پاس تک نہ کیا۔۔۔۔۔مغرور سردار پٹیل نے سندھ کے متلون مزاج جی ایم سید کے قدموں میں سر رکھ دیا تاکہ مسلم لیگ کو سندھ کی وزارت سے محروم کردیا جائے۔۔۔۔ جاری ہے
(زاہد چوہدری کی کتاب، پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد 6 سے اقتباس)
تبصرہ: پاکستان بننے کے بعد 1953 میں سندھ اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ جی ایم سید نے اپنی جماعت سندھ عوامی محاذ کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا اور کامیاب ہو کر دوبارہ سندھ اسمبلی کے رکن بنے۔ ان کی جماعت نے مجموعی طور پر 7 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے بعد 1970 کے عام انتخابات میں جی ایم سید نے دادو سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ لیکن وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک سکندر خان سے شکست کھا گئے ریکارڈ کے مطابق سید کو تقریباً 10 سے 12 ہزار ووٹ ملے، جب کہ سکندر خان نے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ بعد ازاں جئے سندھ محاذ اور سندھو دیش کی سیاست کے اعلان کے بعد جی ایم سید نے انتخابی سیاست سے ہمیشہ کےلئے علیحدگی اختیار کرلی۔
جی ایم سید کی سیاست میں متلون مزاجی اور ہوس اقتدار نے نہ صرف سندھ کی عوام کو ہمیشہ کے لئیے دو حصوں میں تقسیم کردیا بلکہ آنے والے وقتوں میں سندھ میں مسلم اخوت کو بھی نقصان پہنچایا۔ قدرت کا کیا خوب انتقام تھا کہ قیام پاکستان کے بعد صوبہ سندھ کی قیادت ہمیشہ سندھی رہنماؤں کے ہاتھ میں رہی مگر جی ایم سید کو اقتدار تب بھی نصیب نہ ہوا۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
جی ایم سید اور 1946 کے انتخابات
