سمے وار (تحریر: قاسم سلیم)
گاندھی پاکستان کا ہیرو ہے لیکن اسے پاکستان میں بھلا دیا گیا، مہاتما گاندھی نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بھوک ہڑتالوں میں گزارا لیکن انکی آخری بھوک ہڑتال پاکستان کے لیے تاریخ میں درج ہوئی۔
جب تقسیم ہوئی تو متحدہ ہندوستان میں کل 400 کروڑ کا کیش تھا اور پاکستان کو اثاثہ جات میں حصہ لگ بھگ 18٪ مختص ہوا جس کے تحت اس کیش میں سے پاکستان کو 75 کروڑ روپے کی ادائیگی انڈین سٹیٹ بینک نے کرنا تھی اور اس میں سے 20 کروڑ پاکستان کی آزادی کے پہلے دن 15 اگست کو منتقل ہوگئے لیکن باقی 55 کروڑ بعدزاں قبائلی افراد کی مظفرآباد اور وادی میں پیش قدمی کے باعث روک لئے گئے اور وزیراعظم نہرو کے بقول اگر ادائیگی ہوئی تو یہ رقم وہاں فوجی آپریشن میں استعمال ہوگی۔
پاکستان کو اپنے حصے کی رقم نہ ملنے پر مشکالات ک سامنا ہوا اور اسے قرضوں کی طرف جانا پڑا جس میں بہاولپور ریاست نے بھی تعاون کیا تھا لیکن اسی میں مہاتما گاندھی نے جنوری 12 سے 18 ، 1948 کے درمیان بھوک ہڑتال کردی جس کے بڑے مطالبات میں۔۔۔
پاکستان کو اس کے حصے کی 55 کروڑ روپے کی ادائیگی
دہلی میں مسلمان کی جان و مال کو مسلسل لوٹ مار سے تحفظ جیسے مطالبات شامل تھے۔
گاندھی کی ہڑتال کے دو دن بعد 15 جنوری کو بھارتی حکومت نے گاندھی کی بھوک ہڑتال کے باعث پاکستان کو 55 کروڑ کی بقیا رقم منتقل کی لیکن دہلی میں مسلمان کے تحفظ نہ ملنے کی باعث گاندھی کی 18 جنوری تک جاری بھوک ہڑتال اس وقت ختم ہوئی جب مسلمان، ہندو اور سکھ رہنما نے 7 رکنی معاہدہ سائن کرکے دہلی میں مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت دی اور گاندھی کو معاہدہ پیش کیا۔۔۔
اس کے بعد موہن داس گاندھی کو مولانا ابوالکلام آزاد نے مالٹے کے جوس کا گلاس پیش کیا جسے پیتے ہوئے مہاتما نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کی اور اس امن پسندی مساوات کے گاندھی فلسفے کو انتہا پسندو نے غلط سمجھتے ہوئے لگ بھگ دو ہفتوں کے اندر ہی 30 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کو قتل کردیا تو پاکستان میں قوم سوگ منایا گیا اور قومی پرچم سرنگوں کیا گیا کیوں کہ موہن داس گاندھی نے پاکستان کی خاطر اپنی بھوک ہڑتال کی تھی۔ لیکن آج پاکستان میں گاندھی کی اس عظیم قربانی کو بھلا دیا گیا ہے۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
گاندھی کا سوگ پاکستان نے بھی منایا
