Categories
Education Exclusive History of Pakistan Interesting Facts پنجاب سمے وار بلاگ سیاست قومی تاریخ ہندوستان

کیا پورا پنجاب پاکستان کو مل جاتا؟

سمے وار (تحریر: محمد حمزہ شفیق)
پنجاب کی تقسیم کے وقت انگریز سرکار نے بدترین نا انصافی سے کام لیا۔
صرف اس غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے براہِ راست دس لاکھ مسلمان شہید ہوئے ۔
مسلم اکثریتی علاقے جو بھارت میں شامل کیے گئے ان میں پورا ضلع گورداس پور اس کی صرف ایک تحصیل شکر گڑھ پاکستان کو دی گئی ضلع گورداس پور کی دو تحصیلیں گورداسپور اور بٹالہ واضح مسلمان اکثریتی ہونے کے باوجود بھی بھارت کے حوالے کر دی گئیں، قصور کی آدھی تحصیل مسلم اکثریتی ہونے کے باوجود بھارت کو دے دی گئی ، ضلع فیروزپور کی مسلمان اکثریتی تحصیلوں کو جن میں زیرہ ، فیروزپور اور مکتسر کی تحصیل شامل تھی، بھارت کے حوالے کر دی گئی ضلع امرتسر پورا جس کی صرف تحصیل ترن تارن ہی سکھ اکثریتی تھی جبکہ تحصیل امرتسر میں 47 فیصد اور تحصیل اجنالہ مسلمان اکثریتی تھیں، ضلع جالندھر کی مسلمان اکثریتی تحصیلوں جن میں تحصیل جالندھر ، اور تحصیل نکودر شامل تھی بھارت کو دے دی گئی ۔ ریاست کپور تھلہ جو کہ مسلمان اکثریتی ریاست تھی وہ بھی بھارت میں شامل کر دی گئی ۔ ضلع ہوشیارپور کی
تحصیل دسوہیہ میں بھی 48 فیصد مسلمان
ہونے کے باوجود بھارت میں شامل کر دی گئی ۔ اور یہ تمام علاقے پاکستان کی سرحد سے کوئی دور دراز نہ تھے بلکہ تمام مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ہی منسلک تھے ۔
تحصیل نکودر کے ساتھ منسلک دریائے ستلج کے دوسرے کنارے آباد شہر لدھیانہ بھی 64 فیصد مسلمان آبادی کے ساتھ مسلمان شہر تھا یہ بھی بھارت کے قبضے میں چلا گیا ۔
بھارت کے حوالے کی گئی مسلمان اکثریتی تحصیلوں میں مسلمان آبادی کچھ اس طرح تھی ۔
1. تحصیل گورداسپور 52.3 فیصد مسلمان
2. تحصیل بٹالہ 55 فیصد مسلمان
3. تحصیل اجنالہ 59.4 فیصد مسلمان
4. تحصیل قصور کا علاقہ ‘ پٹی ‘ 57 فیصد مسلمان اس تحصیل کا آدھا حصہ بھارت کو دیا گیا ۔
5. تحصیل زیرہ 65 فیصد مسلمان
6. تحصیل فیروز پور 55 فیصد مسلمان
7. تحصیل نکودر 59.4 فیصد مسلمان
8. تحصیل جالندھر 51 فیصد مسلمان
9. لدھیانہ شہر 63 فیصد مسلمان
10. تحصیل دسوہہ 48 فیصد مسلمان
11. تحصیل امرت سر 47 فیصد مسلمان
12۔ ریاست کپور تھلہ 56 فیصد مسلمان
13. تحصیل ہوشیارپور تقریباً 44 فیصد مسلمان
اس کے علاوہ فیضلکے اور مکتسر میں بھی 43 فیصد کے قریب مسلمان تھے اور ان تحصیلوں کے وہ علاقے جو پاکستان کے ساتھ لگتے تھے وہاں واضح مسلمان اکثریت تھی .
موجود بھارتی پنجاب کی سرحدوں کے اندر تقسیم کے وقت مسلمانوں کی ابادی چالیس فیصد تھی جو کہ سب سے بڑا مذہبی گروہ تھا جبکہ اگر ہریانہ اور ہماچل پردیش کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی مسلم آبادی تیس فیصد سے زائد تھی۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights