Categories
Education Exclusive Karachi Society تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ کراچی مہاجرقوم

پرنسپل دہلی کالج عابد اسرار، آخر تک اصول پرست

سمے وار (تحریر: پروفیسر نعیم خالد)
میرا براہ راست دہلی کالج سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا مگر 1992ء میں بہ حیثیت لیکچرار جب میری پوسٹنگ سراج الدولہ کالج میں ہوئی اس وقت پروفیسر عابد اسرار کے ساتھ کام کرنے کا نہ صرف موقع ملا بلکہ بڑی قربت رہی۔ انتہائی رعب دار، اصولی اور وضع دار شخصیت اگرچہ اردو کے استاد مگر انہیں انگریزی پہ کمال دسترس حاصل تھا۔ یکم ستمبر 1972ء کو ملک کے تمام تعلیمی اداروں کے ساتھ دہلی کالج بھی نیشنلائزڈ ہوا اور یوں راتوں رات ایک پرائیویٹ کالج سرکاری کالج بن گیا۔ اس وقت دہلی کالج اور دہلی اسکول فیڈرل بی ایریا بلاک 1 میں تھے دہلی کالج موجودہ عمارت میں 2003ء میں منتقل ہوا۔ نیشنلائزیشن کے وقت عابد اسرار دہلی کالج کے پرنسپل تھے مگر صرف پانچ ماہ بعد 2 فروری 1973ء دہلی کی پرنسپل شپ سے انہیں ہٹا دیا گیا اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ عابد صاحب خود اس دہلی ایجوکیشن سوسائٹی کے ارکین میں شامل تھے جنہوں نے دہلی کالج و اسکول قائم کیا تھا۔
نومبر 1987ء میں انہیں دوبارہ دہلی کالج کا پرنسپل تعینات کیا گیا اس کے اگلے ہی سال 1988ء میں دہلی کالج کے طلبا نے کراچی میں ٹاپ کیا۔ دہلی کالج پہلے ہی مشہور تھا اس کے بعد اس کی شہرت بام عروج پہ پہنچی لوگ دہلی کالج میں ایڈمیشن کے لیے سفارشیں کیا کرتے۔ 1990ء میں ایک وزیر صاحب کے کسی ایڈمیشن کو منع کرنے کی پاداش میں انہیں کھپرو ( سانگھڑ سے قریب) ٹرانسفر کر دیا گیا۔ کھپرو جانے کے بعد عابد صاحب نے وہاں بھی اپنے کردار سے اس وقت کھپرو کے بااثر سیاستدان اور سابق صوبائی وزیر خلیفو محمد عاقل ہنگورو کو بھی اپنا گرویدہ بنایا۔ خلیفو کے صاحبزادے اسلم اور انور ان کے شاگرد رہے۔
1993ء میں انہیں کھپرو سے واپس کراچی سراج الدولہ کالج تعینات کیا گیا۔ عابد اسرار صاحب بطور سینئر 1994ء میں تین مہینے کے لئے سراج الدولہ کالج ایوننگ میں انچارج پرنسپل بھی رہے مگر جب کالج کے ایک استاد پروفیسر غلام عباس صاحب کی سینارٹی کیس کا فیصلہ آیا وہ عابد صاحب سے سینئر ہوگئے تو عابد صاحب نے انچارج پرنسپل شپ یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ غلام عباس صاحب اب ان سے سینئر ہیں جبکہ اس وقت عابد صاحب کی ریٹائرمنٹ کو صرف چار دن باقی بچے تھے لوگوں نے انہیں بہت سمجھایا کہ صرف چار دن کی بات ہے لیکن انہوں نے کسی کی بات نہ سنی اور یہ کہا کہ جس اصول کے لئے میں ساری زندگی لڑتا ریا اسے چار دن کے لئے قربان کر دوں۔ سوچتا ہوں کیا اصولی لوگ تھے جو ادارے بنا گئے۔
“پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ”
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights