سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
آج صبح کی بات ہے، باہر گلی میں کسی نے بالائی منزل پر جیسے کسی کو بلانے کے لیے آواز لگائی، یہ کچھ نامانوس اور اجنبی سی آواز لگی، پکارا گیا نام بھی کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو یہ جاننے کے لیے کھڑی میں گیا کہ دیکھا جائے کہ کون ہے اور کس کو آواز دے رہا ہے؟
دیکھا تو یہ کوئی چودہ، پندرہ سال کا لڑکا ہوگا جو نیچے کھڑی ہوئی بائیک پر ٹکا ہوا اوپر کسی کو آواز لگا رہا تھا۔ کھڑکی میں آنے کے بعد میں حسب عادت کچھ اپنی گلی میں لوگوں کی آمدورفت کا جائزہ لینے لگا کہ کیسے دیکھتے ہی دیکھتے اس گلی کے مکین بدلتے چلے گئے، جب رہنے والے بدلے تو ماحول بھی الٹ پلٹ ہو کر رہ گیا۔ اسی اثنا میں ایک دو منٹ گزرے ہوں گے کہ کچھ آوازوں سے پتا چلا کہ وہ آواز دینے والا لڑکا عمارت کی سیڑھیوں پر چلا گیا ہوگا اور وہاں کا ایک رہنے والا ایک شخص جو ابھی باہر سے سودا سلف لے کر آیا ہے، اس لڑکے کو مشکوک جان کر اس سے پوچھ گچھ کر رہا ہے، بس پھر اسی میں اس کی دھول دھپا شروع ہوگئی، چانٹے اور تھپڑ پڑنے کی آوازیں آئیں، دو چار زور دار ہاتھ اس کی کمر پر بھی پڑے اور جواب میں اس کے معذرت خواہانہ عذر بھی سنائی دینے لگے کہ وہ یہاں کسی کے گھر کی تلاش میں آیا ہے۔ وہ بار بار معذرت کر رہا تھا مگر اس کے عذر قبول نہیں کیے جا رہے تھے۔ وہ شخص اسے مار پیٹ کرتے ہوئے نیچے لے آیا اور ایک ہاتھ میں سودا سلف لانے والے اس رہائشی نے دوسرے ہاتھ سے اس پر جانے کہاں کا غصہ نکالا۔
’’میں ہندو ہوں۔۔۔!‘‘
ایک بار شاید اس نے سیڑھیوں پر بھی دو چار تھپڑ کھانے کے بعد یہ جملہ کہا تھا، پھر جب اس نے گلی میں آنے کے بعد دو تین بار دُہرایا تو مجھے یک دم جھٹکا سا لگا۔ ایسا لگا کہ ہندو کا سن کر مارنے والے نے رعایت دینے کے بہ جائے اور طیش کھایا، تنازع دیکھ کر ایک دو راہ گیر جمع ہوگئے، مارنے والا اسے مشکوک قرار دے کر یہ کہہ رہا تھا کہ آئندہ نظر نہ آئیو۔۔۔ اور یہ کہ یہ بلڈنگ میں دیکھ رہا تھا کہ کسی کے باہر سے کیا اٹھا سکتا ہے۔
’’میں ہندو ہوں۔‘‘ اس نے ایک بار پھر ایک التجائیہ انداز میں کہا اور اس بار بائیں کلائی میں بندھا ہوا ’کلاوا‘ بطور ثبوت بھی دکھانے کی کوشش کی اور برابر اپنی صفائی بھی دیتا رہا۔
مارنے والے نے اوپر سے نیچے لاتے ہوئے جانے کتنے جھانپڑ مار دیے تھے، موقع پر موجود دو لوگ بھی اسے بالکل نہیں روک رہے تھے۔ مجھے لگا کہ واقعی یہ غلط فہمی ہے، اگر یہ لڑکا غلط ہوتا تو بھلا آواز لگا کر تو بلڈنگ میں نہیں جاتا، اس نے پہلے کسی کو آواز لگائی تھی، جس کا کم ازکم میں تو گواہ تھا، اور اس موقع پر اس کے ساتھ سراسر غلط ہوتا ہوا بھی دیکھ رہا تھا۔ مارنے والے نے اسے اوپر آواز دیتے ہوئے نہیں سنا تھا، وہ تو باہر سے آرہا تھا اور وہ اپنے ایک شبے کی بنیاد پر اس سے نہ جانے اگلے پچھلے کون کون سے بدلے نکال رہا تھا۔ میں یہ سب دیکھتا رہا اور اسی شش وپنج میں رہ گیا، اس دوران کسی بھلے آدمی نے مارنے والے کو قابو کیا اور بس پھر وہ لڑکا وہاں سے بچتا بچاتا ہوا چلا گیا۔۔
چند لمحے کے اس تذبذب نے مجھے اپنے آپ میں بہت زیادہ شرمندہ کر دیا ہے۔ مجھے اس لڑکے پر ہاتھ اٹھانے والے کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے بھاگ کر نیچے جانا چاہیے تھا۔ شاید وہ اسے مارنے سے باز آجاتا یا میں کم ازکم اس کا کچھ بیچ بچائو ہی کرا لیتا۔
’میں ہندو ہوں!‘ کہہ کر اس نے ایک مسلمان پر یہ بھروسا کیا تھا کہ شاید اُسے ہندو جان کر تھوڑی سی نرمی کی جائے گی، یہ احساس کیا جائے گا کہ وہ ایک غیر مسلم کے ساتھ غلط کر رہا ہے۔ لیکن ایسا بالکل نہیں ہو سکا۔ اور اب ایک ہندو کیا سوچ لے کر جائے گا کہ ایک مسلمان نے اس کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا۔ یا پھر وہ یہ سوچے گا کہ اُسے شاید اسی وجہ سے ہی مارپیٹ کی گئی کہ وہ اقلیت سے تعلق رکھتا ہے، وہ مسلمانوں کے ملک، مسلمانوں کے محلے میں کمزور اور اکیلا ہے۔
اور اس کے یہ سب سوچنے میں، میں خود کو بھی براہ راست شریک جرم خیال کرتا ہوں۔ میرے بیچ میں پڑنے سے وہ لڑکا کچھ سوچتا یا نہ سوچتا کم ازکم میرا فرض ہی نبھ جاتا، میں اپنی گواہی دے دیتا تو میرا ذمہ ادا ہو جاتا، میں اس طرح مجرم نہ بنتا۔ کل حشر میں اگر حق جانتے ہوئے حق نہ کہنے کا سوال ہوگیا، تو میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا!
مجھے بس یہ چند سیکنڈ ہی ملے تھے، جس میں، میں سوچتا رہ گیا اور وہ موقع چُوک گیا۔ اس کے بعد سے مسلسل میں ایک مجرم ہونے کا احساس لیے یہ الفاظ لکھنے بیٹھ گیا۔
آج سے پہلے تک میں یہ بڑے فخر سے کہتا تھا کہ میرے محلے سے منسلک دو جانب غیر مسلم آبادیاں موجود ہیں، جس میں ہندو اور عیسائیوں کی ایک خاصی معقول تعداد ایک زمانے سے آباد ہے۔ اگرچہ مسلمانوں سے ان کا کوئی بہت زیادہ گہرا تعلق نہیں ہے، لیکن یہ آزادی سے اپنی رسوم و رواج کرتے ہیں، اس وجہ سے ہمیں دیوالی، ہولی اور کرسمس وغیرہ کے تہوار پتا چل جاتے ہیں۔ ان کی گلیوں سے گزرتے ہوئے گھروں میں ٹنگے ہوئے کرسمس اسٹار، کبھی بھجن کی آوازیں اور کبھی دہلیز پر جلتے ہوئے دیے دیکھے جاتے ہیں۔ چوں کہ اکثر ان کے گھروں کے آگے سے گزر ہوتا ہے تو ایک صبح ہاتھ اونچا کر کے برآمدے سے گلی میں ’جل‘ ڈالتے ہوئے بھی دیکھا، ایک لمحے کو عجیب سا لگا کہ دوسری منزل سے گلی میں آنے جانے والوں پر گرے گا، بہرحال گرا تو نہیں، تو اس میں کیا ہی حرج ہے، یہاں ہم مسلمان بھی تو گلی سے گزرنے والوں کو کتنے ہی آزار پہنچاتے ہیں۔ کبھی کوئی پرنالہ بہہ رہا ہے تو کبھی گیلے کپڑوں کا پانی ٹپر ٹپر بہہ چلا جا رہا ہے۔ خیر، پھر بقرعید کے پاس یہاں ایک اماں کو گلی میں بندھی ہوئی ایک گائے کے پیشاب کو عقیدت سے ایک گلاس میں بھرتے ہوئے دیکھے کا اتفاق بھی ہوا۔
یہ سب دیکھ کر میں سوچتا کہ چلو کم از کم یہاں ہمارے قرب و جوار میں کبھی کوئی ’مسلم غیر مسلم‘ کا مسئلہ نہیں ہوا۔ ہندو اور عیسائیوں کو اقلیت کے باوجود ہم کم از کم اپنی طرف سے ان کو کسی پریشانی میں نہیں ڈالتے۔ وہ اپنی راہ رکھتے ہیں اور ہم اپنی۔ کبھی کوئی تکرار یا جھگڑا بھی نہیں دیکھا اور نہ سنا۔ یہ کافی اطمینان بخش سی صورت حال تھی، لیکن آج کے بعد اب ہمارے تجربے اور مشاہدے میں یہ ایک ناخوش گوار واقعہ آگیا ہے، جس میں ایک افسوس ناک کردار بدقسمتی سے ہمارے نام بھی ہو گیا ہے۔ بس یہ ایک تکلیف دہ بات ہے۔ بہ ذات خود ہم دوسرے مذاہب، مسلک، قوم، برادری اور ذات وغیرہ کے لوگوں سے خاص احتیاط رکھتے ہیں کہ مبادا انھیں ایسا محسوس ہو کہ ان کے عقائد یا زبان مختلف ہونے کی وجہ سے ان سے زیادتی کی جا رہی ہے۔ شاید یہ احتیاط ہر ایک ہی کو کرنی چاہیے۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
’’میں ہندو ہوں۔۔۔!‘‘
